بے خبری
جمشید حسنی
بیروت لبنان میں دھماکہ ہوا وزیراعظم اورکابینہ نے استعفیٰ دے دیا 160 لوگ مرے یہاں جہاز گرتا رہے کہتے ہیں پائلٹوں کے لائسنس جعلی تھے ٹرین جل جاتی ہے ریل حادثات ہوتے ہیں ریلوے وزیر کہتے ہیں میں نے تو نہیں تبلیغیوں نے کھانا پکانے ٹرین میں گیس سلنڈر سے آگ جلائی یہاں استعفیٰ کا رواج نہیں رپورٹ آتی ہے افسر معطل ہوتا معاملہ ٹھنڈا ہونے پر بحال ہوجاتے ہیں
کراچی ہے سپریم کورٹ ہے کچرہ ہے 31 کواگست بلدیاتی ادارے بھی تحلیل ہوجائیں گے صوبائی حکومت اور مرکزی حکومت رہ جائیگی ایک دوسرے پر کچرہ اچھالیں گے ۔ ان سطور کی اشاعت تک وزیر اعظم کراچی کا دورہ کرچکے ہوں گے وہ اور وزیراعلیٰ ملتے ہیں یا نہیں صوبہ میں مرکز کا نمائندہ گورنر اور چیف سکرٹری ہو تے ہیں تحریک انصاف کی قومی اسمبلی میں کراچی سے گیارہ نشستیں ہیں تحریک انصاف بلدیاتی اداروں میں زیادہ سے زیادہ سیٹیں حاصل کرنے کی خواہش مند ہوگی اس وقت میئر ایم کیو ایم کا تھا پیپلز پارٹی بھی لازماً متحرک ہوگی کراچی میں جماعت اسلامی کے میئر نعمت اللہ نے کام کیا انہیں جنرل مشرف کی تائید حاصل تھی مصطفیٰ کمال میئر رہے حالت اتنی ابتر نہ تھی اپنے دنوں میں اتنے ہراز ٹن کچرہ صاف ہوا بات یہ ہے کہ اب تک ایسا کیوں نہیں ہوا کیا ادارے نہ تھے کہایہ بالکل دیوالیہ اور کنگال ہے کیا لوگ ٹیکس نہیں دیتے تھے ۔ لوگوں نے کس لئے ووٹ دئے تھے وہ سورہے تھے کیا لوگوں کا کام بس ووٹ دے کر فارغ ہوجانا ہے یہ مسئلہ لاہور میں بھی ہے حکومت تیس سالوں میں پلاسٹک کے تھیلوں پر پاندی نہ لگا سکی آج نسوار کی پُڑی سے لے کر ایک پائو دودھ دہی پلاسٹک کا تھیلہ میں پہلے زمانہ میں لوگ بازار سے سودا خریدنے پٹ سن سوت کا تھیلہ یا سبزی کی ٹوکری ساتھ رکھتے دودھ کیلئے ڈیری گڈری لے جانی پڑتی ہسپتالوں میں جراثیم زدہ کچرہ جلانےIncinator ہوتے ہیں راقم ایک سال بلوچستان ماحولیات کا ڈائریکٹر جنرل رہا صرف بی ایم سی میںانسینیٹر ہے وہ بھی غیر فعال باقی ٹی بی سنٹوریم، سنڈیمن ہسپتال، لیڈی ڈفرن ہسپتال، شیخ زید ہسپتال ہیلپرز ہسپتال میں کچرہ جلانے کا بندوبست نہیں کچرہ اکھٹے کرنے والے بچے کچرہ دانوں میں جراثیم آلود انجکشن لے کر ان سے کھیلتے ہیں
کچرہ کے معاملہ میں سپریم کورٹ نے کراچی کے بلدیاتی اداروں بارے بیزاری کا اظہار کیا معلوم نہیں سپریم کورٹ کون کون سا معاملہ ٹھیک کرے گی پشاور بی آر ٹی کراچی سرکلر ریلوے دیامیر بھاشا ڈیم عدالتوں میں لاکھوں مقدمات سالہا سال زیر التوا ہیں سپریم کورٹ کہتی ہے 120 احتساب عدالتیں قائم کی جائیں حکومت کہتی ہے 120ارب روپیہ چاہئے
بلوچستان صوبہ حالیہ سیلابوں سے متاثر ہوا پہلے غربت ہے دیہات بہہ گئے بے روزگاری ہے گھر میں تھا کیا جو ترا غم اسے غارت کرتا کچا گھر چند بھیڑ بکریاں نہ کارخانہ نہ دریا اوپر سے تیس لاکھ افغان مہاجرین ۔
صوبائی حکومتیں جو نسل در نسل حکمران ہیں نواب سردار پیر ملا نئے اسکول ڈسپینسریاں بنیں ڈھانچہ ہے عملہ نہیں ٹھیکے جو دینے تھے نہ صحت اور نہ تعلیم کے نظام معیاری ہوسکے کوئی معیاری سڑک نہ بنی
بلوچستان میں جب نیب حکومت نے پنجاب کے تین ہزار اساتذہ کو واپس بھیجا تو نقصان یہ ہوا کہ نصابی نا اہل کام چور لوگ بھرتی ہوئے اساتذہ سوائے یونین بازی ہڑتالوں کے اور کام نہیں ’’نئی اصطلاح ‘‘ہے گھوسٹ ریذیڈیشنلکالج کیڈٹ کالج بنے سیٹس مخصوص اور محدود ہیں علاقائی کوٹہ اخراجات عام آدمی نہیں برداشت کرسکتا مرکز ملازمتوں میں بلوچستان کے 5.6 فیصد کوٹہ پر کون چوکیدار چپڑاسی ڈرائیور کی نوکری کیلئے کاکڑ خراسان کو یہ اچکزئی مشکے سبی سے اسلام آباد جائیگا جعلی ڈومسائل پر پنجاب کے لوگ بھرتی ہوئے صرف مستونگ ضلع میں پچھلے دنوں چار سو جعلی ڈومیسائل منسوخ ہوئے یہ میں نہیں کہہ رہا وزیر اعلیٰ کا بیان ہے دوسرے محکموں میں کیا پھر خاموشی چھا گئی
مشرقی وسطیٰ میں ملازمتوں کے مواقع محدود ہورہے کروناکے باعثہزاروں پاکستانی واپس آئے حکومتی پالیسیوں کی قیمت غریب لوگ ادا کرتے ہیں ایران افغانستان میں ہمارے لئے روزگار کے مواقع نہیں سعودی عرب سے خوشگوار برادرانہ تعلقات دکھاوے کی حد تک پہلے تیس ارب ڈالر دے دیا پھر ایک ارب واپس لے لیا ادھار کا تیل بند کردیا ہم نے سعودی کو خوش کرنے ترکی اور ملائشیاء کو اسلامی کانفرنس میں شرکت نہ کر کے ناراض کیا ۔ ہم طمع کے مارے لوگ ہیں کیونکہ ہمارے لوگ سعودی میں محنت مزدوری کرتے ہیں تین ہزار فوج اور جنرل راحیل سعودی میں ہیں خانہ کعبہ حرم پر حملہ ہوا ہمارے کمانڈوز نے باغیوں سے حرم کو صاف کروایا جنرل ضیاء الحق نے اردن میں فلسطینوں کی پٹائی آرڈر آف جارڈن لیا ۔ کونسا مسلمان سعودی کی ہماری طرح غیر مشروط حمایت کریگا ہم نے دوسرے مسلمان ملکوں کو نظر انداز کیا ۔
مصر نے نرسویز کو قومی ملکیت میں لیا ہم نے سرد مہری دکھائی مصر کا رجحان ہندوستان کی طرف ہوا آج تک دوستی ہے بھٹو دور میں عراقی سفارتخانہ سے اسلحہ برآمدگی کا ڈرامہ ہوا ٹرین میں پورے ملک میں اسلحہ کی نمائش کی گئی افریقی ممالک میں مراکش الجیریا تیونس نائجیریا سوڈان سے تعلقات پر ہم نے توجہ نہ دی عراق ہندوستان کے کیمپ میں چلاگیا ۔
ہم کہتے ہیں سعودی ہندوستان میں سرمایہ کاری کررہے ہیں ہندوستان ایک ارب آبادی کا ملک ہے معاشیات کااصول ہے کہ رنگ نسل موسم زمین نہیں دیکھتا ہے وہ نفع دیکھتا ہے ۔
ہندوستان میں معاشی مفادات ہیں ہمارے اربوں کے قرضدار اسٹیل مل پی آئی اے ریلوے میں کون سرمایہ کاری کرنے آئیگا ایک گوادر تھا وہ ہم نے چین کو بخش دیا۔
ملکی معیشت بیرونی قرضوں میں جکڑی ہوئی ہے حکومت آئین مستحکم نہیں کہ اپنی بات منوا سکے ایک دن قطر کے ساتھ گیس کا معاہدہ ہوتا ہے دوسرے دن کہتی ہے کرپشن ہوئی ایک روز سیندک کا چلی کے ساتھ معاہدہ ہوتا ہے دوسرے روز معامہ عالمی عدالت میں ترکی کے ساتھ بجلی کا معاہدہ ہوا اس نے بحری جہاز میں قائم بجلی گھر کراچی پورٹ پر لنگر انداز کیا معاہدہ ختم ہوا جرمانہ دینا پڑا بجلی گھر جہاز پر سوارترکی چلا گیا مزید کیا ہوگا ناشاد اتنے بے خبر آپ بھی نہیں بے اعتنای اور بات ہے


