کیا نیا سوشل کنٹریکٹ ضروری ہے
ڈاکٹر اسماعیل
مشہور فلسفی کا قول ہے قانون ایک مکڑی کا جال ہے جس میں کمزور پھنس جاتا ہے طاقتور اسے چیر پھاڑ کر نکل جاتا ہے۔افلاطون کا نظریہ انصاف بھی یکجہتی کے اصولوں پر مشتمل ہے کیونکہ افلاطون کہتا ہے جو ریاست مناسب آہنگ وتوازن سے جنم لیتی ہے اس میں انصاف منظم اتحا د کا مطالبہ کرتا ہے افلاطو ن کا نظریہ انصاف انفرادیت کی نفی کرتا ہے کیونکہ اس کے نظریے کے مطابق فرد کو صرف اپنے متعلق خود کو واحد نہیں سمجھنا چاہیے کیونکہ انصاف رسمی وخارجی چیز نہیں ہے بلکہ انصاف ریاست کی روح ہے۔جدید مفکر بارکر کا کہنا ہے کہ نظریہ انصاف قانون کے دائرہ عمل کے بجائے معاشرتی اخلاقی اقدار سے زیادہ قریب ہے۔
کفلیس نے سب سے پہلے عدل کا نظریہ پیش کیا کہ عدل قرض ادا کرنے یا واجب کو پورا کرنے کا نام ہے۔عدل ایک ہنر ہے جس سے مظلوموں کو نفع اور مجرموں کو سزا دی جاتی ہے۔
مشہور نسو فسطائی بھر لیسی میکس اس رویاتی تصور عدل کے مقابلے میں انقلابی اور تنقیدی نظریہ پیش کرتا ہے وہ بڑی بیباکی سے عدل کو ایسے فرق سے تعبیر کرتا ہے جس کا اصول جس کی لاٹھی اس کی بھینس ہے۔وہ بلا جھجک کہتا ہے کہ ریاست میں مجرم کے اغراض ہر لحاظ سے پوری کرنے کا نام عدل ہے یعنی طاقتور کے لئے اپنے غرض اور کمزور کے لئے دوروں کے غرض پوری کر نے کا نام عدل ہے جو معاشرے میں عدل وانصاف کے توازن کو بگاڑتا ہے وہ زیادہ طاقتور خوشحال اور فہم وفراست کا مالک ہوتا ہے۔
عدل ایک رسمی چیز ہے ایک آدمی ایک حد تک ظلم کرتا ہے دوسرا آدمی ظلم سہتا ہے لیکن جب یہ حد انسانی برادشت سے بڑھنے لگے تو لوگوں نے باہم ظلم نہ کرنے اور نہ سہنے کا معاہدہ کرلیا اس معاہدے کو کی شکل دے کر کچھ اصولوں مقرر کرلئے مگر اصولوں پر عمل درآمد آج تک نہ ہوسکا۔
عدل ایک خارجی چیز بھی ہے طاقتور کے مفاد کا نام ہے کمزور کیلئے صرف Process ہے ۔ افلاطون کفیلس سے عدل متعلق سوال کرتا ہے عدل ایک طبقے کی جرات ہے دوسری بات افلاطون کہتا ہے کہ جسطرح روپ اور یونان میں عدل دینے والے ہر محکمے میں دخل اندازی کرتے تھے وہ اپنے فن کیطرف توجہ نہ دیتے تھے ۔ وہ دوسرے کے کام میں دخل اندازی نہ کریں افلاطون کانظریہ انصاف کا دارومدار غیر دخل اندازی اور ریاست یونان کاموں میں عدم مداخلت پر تھے ۔
سوفسطائیوں کے مطابق طاقتور کے حق میں کیا جانے والا ہر فیصلہ عدل ہے وہ اپنے نظریات کی دلیل ان ریاستوں کی مثال دیکر کرتے ہیں جن کے قوانین وقت کے ساتھ ساتھ طاقتور کے حق میں بدلتے رہتے ہیں کیونکہ طاقتور طبقہ اپنے اغراض و مقاصد سامنے رکھ کر قوانین بدلتا رہتا ہے وہ کہتا ہے ایک ریاست میں دو عدالتیں نہیں چلنی چاہئیں ۔ افلاطون کہتا ہے کہ سیدھے سادھے لوگ سیدھے راستے پر چلنے والے ہمیشہ گھاٹے میں رہتے ہیں صرف جرائم پیشہ لوگ ہمیشہ فائدے میں رہتے ہیں کیونکہ وہ عدل و انصاف کو اپنے حق میں استعمال کروانے کا گر جانتے ہیں
ادھر جس معاشرے میں انسانوں کو گاجر گوبی کیطرح کاٹا جاتا ہے قتل و غارت عام ہو جس معاشرے میں انسانوں کو اینٹوں کے بھٹے میں جلایاجاتا ہو ۔ زینب ڈاکٹر عاصمہ رانی اسماء جردان شہزاد مسیح ۔ یوحنا آباد شاہ زیب ، زین جاوید حسنی مشال خان طیبہ تشدد جسے معصوموں کو سر عام قتل کردیا جاتا ہو یہاں نظام عدل و انصاف عام آدمی کے مقابلے میں طاقتور طاقتوں کا ہے اس نظام کو توڑے بغیر ہم ان بے گناہوں کا مقدمہ نہیں جیت سکتے مگر کہتے ہیں قانون اندھا ہوتا ہے جس معاشرے میں انسانیت کے قاتل باعزت بری ہوجاتے ہوں وہاں جانوروں کی موت پر سیکرٹری سے لے کر تمام عملہ طلب کر لیا جاتا ہو وہاں کیا انصاف ہوگا ۔ اس لئے افلاطون پھر کہتا ہے عدالت ہدایت کی جگہ نہیں ہے بلکہ سزا کی جگہ ہے جج کا کام انصاف کو تحفے میں بانٹا نہیں ہے بلکہ قانون کے مطابق مجر کو سزا دینا ہے
ہماری عدلیہ میں ایسی سینکڑوں داستانیں بھری پڑی ہیں ہماری عدلیہ آج بھی 10 فیصد صاحب اقتدار سے پیسے والے قاتلوں کو نہ صرف بروقت انصاف دے رہی ہے بلکہ مجرمین کو انوکھے ریلیف دے رہی ہے چھٹی والے دن انکی ضمانتیں ہوجاتی ہیں ۔ قاتل بعض اوقات عدالتی حاضریوں سے مستثنیٰ ہوجاتے ہیں قاتل اسمبلی کااجلاس دیکھنے اسمبلی ہال جاتے ہیں 2012 میں دو سگے بھائیوں نے ضلع بارکھان میں جاوید نامی اسکول ٹیچر کو زمین کے تنازعہ پر کلاشنکوف کے برسٹ مار کر قتل کردیا فرار ہوگئے ملزمان چونکہ جرائم پیشہ تھے پولیس ، لیویز انتظامیہ اور عدلیہ میں انکا اثر و رسوخ تھا نہ انکی گرفتاری ہوئی چھ ماہ کے اندر اندر ہائی کورٹ نے ایک بازاری وکیل کے توسط سے ملزمان کو باعزت بری کرادیا۔بظاہر سپریم کورٹ نے مقتول کی اپیل بھی نہیں نمٹائی اس سے ظاہر ہوتا ہے اگر جرائم پیشہ افراد نہ ہونگے تو عدلیہ کے وجود کو خطرہ ہے ۔مشہور فلاسفر کہتے ہیں کہ جرائم پیشہ افراد عدالتوں کی ضرورت ہوتے ہیں ضرورت کو کبھی سزائیں ہوسکتی ہے ملزمان راجن پور کی عدالت سے سزایافتہ بھی ہیں جرمانے ہوئے جیلیں کاٹیں سزا یافتہ نے عدالت سے نوکری کی درخواست دی چیف سیکرٹری نے ملزم ومجرم کو نوکری پر بھی لگا دیا محکمہ تعلیم جیسے کھلے ہیں یہ مجرم بچوں کی زندگیوں سے کھیلے گا یہ ہے میرا پاکستان،انصاف آیا بھی آیا شعبدہ بازی ہم دیکھتے ہی رہ جائیں گے کیونکہ دہائی کرونا کی جگہ عدالتی کرونا کے علاج کے لئے انصاف کرونا کے ویکسین کی دستیابی تک صبر اور خود پر جبرکے سوا مظلوموں کے پاس کوئی چارہ نہیں ہے ۔افلاطون سزا کے اصلاحی پر توجہ دلانے کے سوا مروجہ سزائوں میں کوئی کمی تجویز نہیں کرتا ہے بلکہ سزائوں کو زیادہ سخت کرتا ہے بلکہ سزائوکو زیادہ سخت کرتا ہے
حقدار کو حق دینا عدل ہے مگر یہاں عدل قوی کے مفاد کا تحفظ ہے۔انصاف کے تصور کی جستجو کرنے کے بجائے بہتر ہوگا کہ ملک وریاست میں انصاف کے کردار کی تلاش کی جائے ۔آج ہمارے پیارے ملک میں انصاف سزا و جزا نہ ہونے کی وجہ سے جرائم پیشہ افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے عدالتیں مقدمات سے ان کے صحن جرائم پیشہ افراد سے کچھا کچھ بھرے ہوئے ہیں قانون کی نظریں برابری کا تصور ہنوازایک خواب بنے عوام دیکھتے ہیں کہ انصاف کے ترازو کا جھکائو ہمیشہ طاقتور ۔قائل ڈاکو،اور جرائم پیشہ افراد کے طرف رہتا ہے یہاں مسئلہ صرف طاقت کا ہے اصول ،قانون ،انصاف مفاد عامہ میں نہیں بنائے جاتے ہیں بلکہ قاتلوں کے لئے بنائے جاتے ہیں ۔وکالت اور کورٹس بھی عجب پیشہ ہے۔ججز حضرات اس چیز کو ختم کرنے میں لگے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے ان کے پیشے کا وجود ہے یہ لوگ مظلوم پر آگ کی طرح برستے ہیں طاقتور کے سامنے برف کی طرح پگھل جاتے ہیں۔
جنرل مشرف کے دور میں عدلیہ کے لئے ایشائی ترقیاتی بینک سے 350ملین ڈالر کا قرض لیا گیا کہ ان ڈالروں سے پاکستان عدالتیں اور ان کا نظام انصاف درست کرینگے عوام کو جلد انصاف فراہم کرینگے اس کے باوجود منصف حضرات قاتلوں کوسزا دینے کے بجائے باعزت بری کردیتے ہیں چھ ہزار سے زائد پھانسی کے مجرموں کو ایک نادر بننے کی طرح حفاظت سے جیلوں میں رکھا ہے سپریم کورٹ میں لاکھوں کیس زیر سماعت ہیں۔لوگ سیاستدانوں،قانون سازوں سے مایوس ہیں ان کی نظریں پھر بھی انصاف عدالتوں پر لگی ہوئی ہیں یہاں پر اب بھی انصاف کی روشنی کی کرن ہے۔


