سب کو بیٹھ کر ملک کو بحرانوں سے نکالنا ہوگا ورنہ خدانخواستہ ہم بڑی سخت مشکل میں پھنس جائینگے، اچکزئی

اسلام آباد( آئی این پی ) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین وتحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے نجی نیوز ٹی وی کے انٹرویو میںگرینڈ الائنس کے سوال کے جواب میں کہا کہ ہمیں اس پر متفق ہونا چاہیے کہ پاکستان میں آئین نہیں ہے،آئین کو بار بار پامال کیاجاتا رہا ہے ،آئین کی دھجیاں اڑائی جاتی ہے اور پھر وہی لوگ جو آئین کو پھاڑتے ہیں وہی پاکستان کے محسن بننے کی کوشش کرتے ہیںجو انتہائی اور ہر لحاظ سے غلط بات ہے ۔ محمود خان اچکزئی نے عمران خان کی رہائی کی سوال کے جواب میں کہا کہ جس دن اس ملک میں آئین پر عملدرآمد ہوگا اُسی دن عمران خان باہر ہوگا۔ یہ انتہائی شرم کی بات ہے کہ عمران خان جو کچھ تھا یا اب جو لوگ باتیں کررہے ہیں کہ عمران خان میں یہ نقائص ہیںتوپھر آپ نے اُنہیں اس ملک کا وزیر اعظم کیوں بنایا ،پاکستان کے تمام رازوں سے آگاہ کیا ۔ اب عمران خان پاکستان کے عوام کے واضح اکثریتی ووٹوں کا نمائندہ ہے اور اُس کا جیل میں ہونا پاکستان کے لیے بدنامی ہے۔ درجنوں بھر سینٹرز ، قومی اسمبلی کے ممبران عمران خان سے جیل ملنے جاتے ہیں اور اُنہیں ملنے نہیں دیا جاتا ۔ دنیا بھر میں بدترین جرائم کے مجرمان سے بھی ملاقات کی پابندی نہیں ہوتی ۔ لیکن یہاں سینٹرز ، تحریک تحفظ آئین پاکستان، پی ٹی آئی کے لوگ عمران خان سے ملنے جاتے ہیں اور ملاقات نہیں دی جاتی ۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ جب ایک سیاسی آدمی سیاسی آدمی سے ملتا ہے تو سیاست پر ہی بات کریگا۔اگر کوئی صحافی کسی صحافی سے ملتا ہے تو صحافت پر بات ہوگی اگر بات پر پابندی ہوگی تو وہ بھی غلط ہوگی لیکن ملاقات کی پابندی غلط ہے۔ محمود خان اچکزئی نے ایک سوال کے جواب میںکہا کہ سزا ہونی چاہیے ہم جو کرتے ہیں پھر بھول جاتے ہیں ۔ آصف علی زرداری صاحب ملک کے صدر ہیں خدا انہیںزندگی دے ،ان پر کونسے الزامات نہیں تھے۔پھر کیا ہوا کہ آپ نے انہیں صدر بنادیا ۔ اپنی مرضی سے ملک نہیں چلا یا جاسکتا ۔ آج بھی آئین کی پاسداری کی جائے، بااختیار الیکشن کمیشن بنایا جائے جو ووٹ لیتا ہے جیتتا ہے انہیں اقتدار حوالے کیا جائے لیکن اس طرح سے جس طرح ملک چلایا جارہا ہے یہ بربادی کا راستہ ہے ۔ محمود خان اچکزئی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ماضی میں عمران خان کے دھرنوں کے اس لیے مخالف تھا کہ وہ اسلام آباد میں پارلیمنٹ پر حملہ آور ہوئے ۔ عمران خان کہہ رہا تھا کہ تین حلقے کھول دیئے جائے آپ کو کھول دینے چاہیے تھے لیکن آپ نے اُس وقت بہانہ موقع فراہم کیا ۔آج ہم عمران خان کا اس لیے ساتھ دے رہے ہیں کہ اُن کی پارٹی ملک کی الیکشن جیت چکی ہے لیکن ان کامینڈیٹ چھینا گیا ہے۔ محمود خان اچکزئی نے2018کے انتخابات کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ ایک غلطی دوسری غلطی کی دلیل نہیں بن سکتی ۔گزشتہ دنوںاُنہوں نے پارلیمان کا ان کیمرہ اجلاس بلایا ۔ یہ ملک بحرانوں میں ہے ۔ یہ ان کیمرہ اجلاس کیوں ہوا؟ ادارے ہمارے اپنے ادارے ہیں سویلین ہو یا ملٹری ہو۔ پارلیمنٹ ہماری اپنی پارلیمنٹ ہے ۔تقریباً 500اراکین جوائنٹ سیٹنگ میں سے 10ممبران کو بُلانا یہ کونسے شہزادے ہیں یا انہیں سرخاب کے پر لگے ہوئے ہیں ۔پارلیمنٹ میں جس پارٹی یا جو بھی ممبر تھا فارم45یافارم47والے تھے آپ نے نوٹیفکیشن دیا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کا ممبر ہے توپھر سب کو بُلانا چاہیے تھا ۔ پتہ نہیں یہ قصداً ایسے کررہے ہیں کیونکر ان کیمرہ اجلاس منعقدکیا۔کوئی پاگل تو نہیں تھا کہ ایک دوسرے کو بُرا بلا کہتا ،یہ ملک مشکل میں ہے ہر ایک اپنی تجویز دیتا ۔ شاید وہ تجویز ٹھیک نہیں ہوتی لیکن ہم سب بیٹھ کر اجتماعی دانش سے کچھ حل نکال لیتے وہ بہتر ہوتا ۔آج بھی پاکستان کے بحرانوں سے نجات کا علاج/حل یہی ہے ہم اسے انا کا مسئلہ نہ بنائیں بلکہ سب بیٹھ کر اجتماعی دانش سے اپنے ملک کو ان بحرانوں سے نکالیں ورنہ خدانخواستہ ہم بڑی سخت مشکل میں پھنس جائینگے پھر ایک لا علاج مرض بن جائے گا۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ میاں محمد نواز شریف صاحب دوسرے اکابرین کو لیکر تین سے چار مہینے کے لیے الیکشن کرانے کے لیے ایک سسٹم بنائیںاور واقعی حقیقی الیکشن ہو جو بھی جیتتا ہے۔ عمران خان یہاں وزیر اعظم بنا اُس نے حکمرانی کی اچھی تھی یا بُری تھی ۔کیا خوف ہے آپ کو ۔ آپ کی غلط پالیسیاںعمران خان کو اُس مقام پر لے گئی کہ جب بھی آپ الیکشن کرائینگے وہ جیتے گا اور جیتنے دیںاس سے کیا ہوتا ہے۔ محمود خان اچکزئی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میاں محمد نواز شریف کو پتہ ہے کہ ملک میں کیا ہورہا ہے ۔ گزشتہ دنوں جو اجلاس ہوا ان میں نواز شریف ، صدر زرداری صاحب تک نہیں تھے۔ اور الزام ہم پر لگایا کہ ہم جوائنٹ سیٹنگ میں نہیں آئے ۔ ہم یا کوئی بھی پارٹی یا دس ممبران کون ہیں جو سارے ملک کے مسائل پر بات کریں اور اس کا علاج نکالیں؟