بلوچستان میں زرعی تحقیق کا اہم کردار: ایگریکلچر ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی کامیاب کاوشیں
تحریر: محمد رفیق کھتران
ڈپٹی ڈائریکٹر ہیڈکوارٹر ریسرچ
بلوچستان کی زراعت میں تحقیق کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے، خاص طور پر اس وقت جب صوبے کو پانی کی کمی، موسمی تبدیلیوں اور زرعی وسائل کی کمی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان مسائل کے حل کے لیے ایگریکلچر ریسرچ انسٹیٹیوٹ (ARI) سریاب کوئٹہ ایک اہم تحقیقی ادارہ بن چکا ہے جو بلوچستان کی زمین اور موسمی حالات کے مطابق زرعی طریقوں اور فصلوں پر تحقیق کر رہا ہے۔
ایگریکلچر ریسرچ انسٹیٹیوٹ، جو محکمہ زراعت، حکومت بلوچستان کے تحت کام کر رہا ہے نے مختلف اجناس کی ایسی اقسام تیار کی ہیں جو بلوچستان کی خشک زمین اور کم پانی کی صورتحال میں بہتر پیداوار دے سکتی ہیں۔ گندم، چنا، مکئی اور جو کی اقسام پر تحقیق کر کے ان فصلوں کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ، ادارے نے باغبانی کے شعبے میں بھی زیتون، سیب، انار، بادام اور دیگر پھلوں پر تحقیق کی ہے، جس کے نتیجے میں مقامی کسانوں کے لیے نئی فصلوں کی کاشت ممکن ہو سکی ہے۔ ایگریکلچر ریسرچ انسٹیٹیوٹ، ان نئی تحقیقاتی تکنیکوں اور فصلوں کی کاشت کے لیے کسانوں کو تربیت فراہم کرتا ہے تاکہ وہ بہترین نتائج حاصل کر سکیں۔
ڈرپ ایریگیشن اور زیرو ٹِل فارمنگ جیسے جدید زرعی طریقے بھی ایگریکلچر ریسرچ انسٹیٹیوٹ نے بلوچستان میں متعارف کروائے ہیں، جن سے نہ صرف پانی کی بچت کی گئی ہے بلکہ زمین کی صحت بھی بہتر ہوئی ہے۔
تاہم، اس ادارے کو بعض چیلنجز کا سامنا بھی ہے، جیسے فنڈز کی کمی، جدید تحقیقاتی آلات کی عدم دستیابی اور زرعی ماہرین کی قلت۔ اگر حکومت بلوچستان اس ادارے کو مزید وسائل فراہم کرے اور اس کی تحقیق کو پالیسی سطح پر تسلیم کرے، تو یہ ادارہ بلوچستان میں زرعی انقلاب لا سکتا ہے۔
بلوچستان کی معیشت کا بڑا حصہ زراعت پر منحصر ہے، اور ایگریکلچر ریسرچ انسٹیٹیوٹ جیسے ادارے زرعی تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے صوبے کی زرعی پیداوار میں انقلاب لا سکتے ہیں۔ اس کے ذریعے نہ صرف بلوچستان کی زراعت میں بہتری آئے گی بلکہ پورے پاکستان کی غذائی خودکفالت میں بھی اضافہ ہو گا۔


