عثمان لالا کی جدوجہد کا مقصد قوموں کی برابری، خودمختاری اور حق حاکمیت کا حصول تھا، خوشحال کاکڑ
کوئٹہ (آن لائن) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے زیر اہتمام ملی شہید عثمان خان کاکڑ کی چوتھی برسی کی مناسبت سے کوئٹہ کے ایوب سٹیڈیم میں فقیدالمثال جلسہ عام پارٹی چیئرمین خوشحال خان کاکڑکے زیر صدارت منعقد ہوا جس میں جنوبی پشتونخوا کے تمام علاقوں کے پارٹی کارکنوں، عوام اور خواتین نے بھاری تعداد میں شرکت کی۔جلسہ عام سے پارٹی کے سینئر ڈپٹی چیئرمین رضا محمد رضا، مرکزی سیکرٹری جنرل خورشید کاکاجی، مرکزی سینئر سیکرٹری سید قادر آغا، مرکزی سیکرٹری اطلاعات محمد عیسیٰ روشان، مرکزی سیکرٹریز سردار گل مرجان کبزئی،اللہ نورخان چیئرمین، صاحبہ بڑیچ اور پی ایس او کے زونل سیکرٹری وارث افغان نے خطاب کیا۔ پارٹی چیئرمین خوشحال خان کاکڑ نے ملی شہید عثمان خان کاکڑ کو ان کے تاریخی، قومی، وطنی، جمہوری جدوجہد، قومی سیاست میں تاریخی کردار اور قوم وطن سے بے پناہ محبت اور خلوص و ایمانداری اور اپنے وطن اور عوام کی ملی نجات کیلئے اپنے سر کی قربانی پر پشتون افغان عوام اور اپنی پارٹی کے رہنماﺅں و کارکنوں کی نمائندگی سے زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملی شہید کے خاندان کیلئے یہ امر باعث افتخار ہے کہ ملی شہید کو پشتون افغان وطن کے عوام اور تمام جمہوری قوتوں اور اس ملک کے محکوم قوموں اور مظلوم عوام کی نمائندہ جمہوری قوتوں نے ان کی شہادت پر جس غم و رنج و عالم کا اظہار کیا اور ملی شہید کو اپنا شہید گردانتے ہوئے احترام کے ساتھ خراج عقیدت پیش کیا جس سے ہمارا غم ختم ہوا تو اس سے ثابت ہوا کہ یہ صرف ہمارا شہید نہیں بلکہ تمام محکوم اقوام و مظلوم عوام کا شہید ہے ان کی تمام جدوجہد کا مقصد پشتون غیور ملت کی ملی وحدت قومی واک واختیار، عوام کی جمہوری اقتدار کا قیام اور ملک میں قوموں کی برابری، خودمختاری، حق ملکیت اور حق حاکمیت کا حصول تھا اور اسی مقصد کیلئے انہوں نے اپنی زندگی کو وقف کررکھا تھا۔ انہوں نے غربت، پسماندگی، فرقہ واریت، ظلم و استبداد، انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف جدوجہد میں مزاحمت کا راستہ اپنایا تھا عوامی محاذ اور پارلیمانی محاذ پر ملی شہید کا اعلامیہ و موقف یہ تھا کہ پاکستان میں اسٹبلشمنٹ نے جمہوریت کا راستہ روکا ہے ملک میں عوام کی حکمرانی نہیں، آئین پر عملدرآمد نہیں انہوں نے جمہوری قوتوں کو تجویز دی تھی کہ ہمیں جمہورت کا ایک ایسا چارٹر پر اتفاق کرنا ہوگا کہ اگر اس ملک میں دوبارہ مارشل لا کا نفاذ ہوتا ہے تو ملک کے وفاقی وحدتوں کو حق علیحدگی کا اختیار حاصل ہوگا آج ہمارے ملک کے پارلیمان میں قوموں کو برابری کا حق حاصل نہیں، منتخب پارلیمان کو داخلہ و خارجہ پالیسیوں کے تشکیل کا اختیار حاصل نہیں، ملک کے مقتدرہ نے حالیہ الیکشن میں ملک پر ایک ایسا مفلوج پارلیمان کو مسلط کیا جس نے 26 ویں آئینی ترمیم سے عدلیہ کی آزادی ختم کردی، عدلیہ سے عوام کو جو امیدیں وابستہ تھی وہ ختم ہوگئی ہے آج کا عدلیہ فارم 47 کا عدلیہ ہے جس کے ججوں کا انتخاب میرٹ اور انصاف کے تحت نہیں ہوتا،پیکا ایکٹ کے تحت میڈیا کی آزادی ختم کی گئی ہے آج کا میڈیا قوموں اور عوام کی جمہوری تحریکوں کے خلاف استعمال ہورہی ہے۔ ملی شہید عثمان خان کاکڑ اپنے خاندان اور اولاد سے زیادہ قوم اور وطن سے زیادہ محبت رکھتے تھے آج پشتون افغان عوام کو گزشتہ 50 سالوں کے دوران مسلط کردہ استعماری جنگوں، آپریشنوں اور تمام بربادی و تباہی کے بعد بھی جان ومال ، عزت وناموس کی تحفظ حاصل نہیں، دہشتگردی کے واقعات میں لاکھوں پشتون شہید ہوئے ہیں ، پشتونخوا وطن کو معاشی تباہ حالی اور بدترین بے روزگاری کا سامنا ہے، ڈیورنڈ لائن پر تجارت کے تمام تاریخی راستوں کو بند کیا گیا ہے، افغانستان اور ایران سے تجارتی سامان کی ایک گاڑی کسٹم ٹیکس ادا کرنے کے بعد بھی لاہور تک پہنچنے کے راستے میں لاکھوں روپے کا بھتہ ادا کرنے پر مجبور ہے، پشتونخوا وطن میں زراعت، صنعت اور سیاحت کی اقتصادی ترقی کے پلان کا کوئی کمرشل ضلع قائم نہیں یہ استعماری طرز عمل پشتونوں کی معاشی قتل عام کےسوا کچھ نہیں جبکہ پنجاب کے تمام علاقوں میں کمرشل اضلاع قائم ہے جہاں اربوں روپے کی ریلیف عوام کو ملتی رہی ہے، پنجاب اور کراچی کے ڈرائی پورٹس 20 فیصد ٹیکس بھی ادا نہیں کرتے اور ان علاقوں میں کوئی بھتہ نہیں لیا جاتا جبکہ پشتونوں کے سبزی جات اور میوہ جات و کوئلہ کے ٹرکوں سے بھی لاکھوں کا بھتہ وصول کیا جاتاہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ عوام نے قومی حقوق کیلئے بندوق اٹھائی تو ان کو تجارت کے حقوق حاصل ہیں جبکہ پرامن پشتونوں پر تجارت و روزگار کے تمام دروازے بند ہے، ہمارا تعلیمی نظام تباہ ہے جس کا ذمہ دار ریاست ہے جو دانستہ طور پر ہمیں جاہل رکھنا چاہتے ہیں ہمیں اپنے قومی وجود اور زبان کی بقا کا مسئلہ درپیش ہے۔


