کراچی، سرکاری ملازمین کااحتجاج، پولیس کی مظاہرین پرشیلنگ و لاٹھی چارج
ویب ڈیسک: کراچی پریس کلب کے باہر سندھ ایمپلائز الائنس کے احتجاجی مظاہرین کو ریڈ زون جانے سے روکنے کے لیے پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج اور واٹر کینن کا استعمال کیا گیا جس کے نتیجے میں شہر میں بدترین ٹریفک جام ہوگیا ہے۔ڈان نیوز کے مطابق کراچی پریس کلب کے باہر سندھ ایمپلائز الائنس کے احتجاج کیا گیا، مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ ہماری تنخواہوں میں پنشنز میں 70 فیصد اضافہ کیا جائے جب کہ مظاہرین نے پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے۔احتجاجی مظاہرین نے وزیراعلیٰ ہاؤس جانے کی کوشش کی جس پر پولیس نے لاٹھی چارج شروع کردیا اور متعدد مظاہرین کو گرفتار بھی کرلیا گیا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرین کوریڈزون جانےکی اجازت نہیں دی جائے گی، اس دوران مظاہرین کو روکنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال بھی کیا گیا، جبکہ پولیس کی اضافی نفری بھی طلب کرلی گئی۔ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) جنوبی سید اسد رضا نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ مظاہرین اور سرکاری حکام کے درمیان مذاکرات ناکام ہونے کے بعد پولیس نے کارروائی کی۔ان کا کہنا تھا کہ ’سندھ ایمپلائز الائنس (ایس ای اے)نے وزیراعلیٰ ہاؤس جانے کی کوشش کی اور ان کی تین بڑے مطالبات ہیں۔مزید کہا ’مظاہرین کے مطالبات میں گریڈ 1 سے 22 تک کے سندھ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 70 فیصد اضافہ، تمام مذکورہ گریڈز کے ملازمین کو 50 فیصد ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس (ڈی آر اے، بلوچستان حکومت کے طرز پر ریٹائرمنٹ کے بعد تمام ملازمین کو گروپ انشورنس اور بینیوولنٹ فنڈ کی فراہمی شامل ہے۔دوسری جانب، پولیس کی کارروائی کے باعث شہریوں کو مختلف شاہراہوں پر بدترین ٹریفک جام ہوگیا۔ڈی آئی جی کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ ہاؤس کے قریب سڑکیں پہلے ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے رکاوٹیں لگا کر بند کر رکھی تھیں۔کراچی پریس کلب کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایس ای اے کے رہنما اشرف خاصخیلی اور ضمیر چانڈیو نے الزام لگایا کہ مظاہرین کو منتشر کرنے کے دوران پولیس نے ’تشدد‘ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ وہ آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے اور اپنے مطالبات کے لیے بلاول ہاؤس کلفٹن کی طرف مارچ کا ارادہ رکھتے ہیں۔رہنماؤں نے دعویٰ کیا کہ وزیر ناصر حسین شاہ نے ان کے مطالبات ’تسلیم‘ کر لیے ہیں لیکن وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے مذاکرات کے لیے 3 دن کا وقت مانگا ہے۔


