عوامی مسائل حل کرنے کیلئے محکموں کے درمیان موثررابطہ ناگزیرہے، ڈپٹی سیکریٹری پی ایچ ای
کوئٹہ (اسٹاف رپورٹر) سماجی تنظیم ہوپ بلوچستان ، فانسا نیٹ ورک، واٹر اینڈ سینی ٹیشن کوئٹہ کے زیراہتمام بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاونڈیشن کے تعاون سے گزشتہ روزکوئٹہ پریس کلب میں تقریب کاانعقادکیاگیا۔ جس میں محکمہ پی ایچ ای، صفا کوئٹہ اورپبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے نمائندگان شریک تھے۔ ڈپٹی سیکریٹری محکمہ پی ایچ ای تنویررحیم نے کہا کہ متعلقہ ادارے اورشہریوں کے درمیان موثررابطوں کے فقدان کی وجہ سے مسائل میں اضافہ ہورہا ہے، ہوپ بلوچستان اس خلا کوپرکرنے کیلئے کام کررہی ہے جوخوش آئندہے، انہوں نے کہا کہ صوبائی محکمے کام کرسکتے ہیںاورآفیسران میں اہلیت اورجذبہ موجودہے مگربدقسمتی سے بجٹ کے عدم تسلسل اورپی ایس ڈی پی میں اسکیمات کیلئے جزوی فنڈنگ کی جاتی ہے جوترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ ڈپٹی سیکریٹری پی ایچ ای نے کہا کہ عوامی مشکلات کے پیش نظرورلڈبینک کے تعاون سے کوئٹہ میں صاف پانی کی فراہمی کامنصوبہ شروع کیاگیاہے اورپانی کوذخیرہ کرنے کیلئے ڈیموں کی تعمیرکاکام جاری ہے۔ اس موقع پر ہوپ بلوچستان کے ہیڈآف پروگرامزظہوراحمد اورایڈووکیسی آفیسرسکینہ خان نے شرکاءکوواٹراینڈسینی ٹیشن کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ آج دنیابڑی تیزی سے ترقی کررہی ہے اورانہوں نے مختلف شعبہ جات میں نمایاںکامیابیاں حاصل کئے مگرہمارے یہاں عوام کوکافی مشکلات درپیش ہیں۔کوئٹہ سمیت بلوچستان بھرمیںعوام کوپینے کے صاف پانی کے حصول اورنکاسی آب کے مسائل درپیش ہیں۔ ہوپ بلوچستان نے (BMGF)کے تعاون سے واٹراینڈسینی ٹیشن کے حوالے سے منصوبے کاآغازکیاہے۔ اس ضمن میںرضاکاروں کی ٹیم تشکیل دی گئی ہے جومختلف علاقوں میںعوام کو درپیش مسائل کی نشاندہی کرکے انہیں آگاہی فراہم کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہرمیں باتھ روم کے فضلہ جات کوٹھکانے لگانے کاکوئی منظم طریقہ کارموجودنہیں اورباتھ روم کے پائپ کوبراہ راست سیوریج کی نالیوں کےساتھ منسلک کیاگیا ہے جہاں سے یہ فضلہ پانی میں شامل ہوجاتاہے اومعمولی بارش کے بعدیہ گندگی پانی کیساتھ نالیوں سے اب کرگلی کوچوں میں بہہ جاتا ہے جس سے لوگ مختلف بیماریوں میں مبتلاہورہے ہیں۔جبکہ اندرون بلوچستان گاؤں میں باتھ روم کارواج نہیں اورلوگ کھلے میدان میں رفع حاجت کرتے ہیں جوانسانی صحت کیلئے مضرہے۔انہوں نے بتایاکہ ہوپ بلوچستان نے متعلقہ اداروں کیساتھ ملکرواش پالیسی کے حوالے ایڈووکیسی کی اورہم اس میں کافی حد تک کامیاب ہوئے ہیں جوخوش آئندہے۔حکومت کیساتھ شہریوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ کھلے میدان کی بجائے باتھ روم تعمیرکرکے وہاں پررفع حاجت کریں تاکہ اس فضلے کوصحیح طریقے سے ٹھکانے لگانے کیلئے بروقت اقدامات اٹھائے جاسکیں۔ قبل ازیں ہوپ بلوچستان کے زیراہتمام کوئٹہ شہرکے مختلف علاقوں میںجاری ترقیاتی اسکیمات کاجائزہ لینے کیلئے چارٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں ۔اس موقع پرواٹراینڈسینی ٹیشن نیٹ ورک کوئٹہ کے ممبران نیٹ ورک کے صدرمیر بہرام لہڑی ، محمد حسین، شیزان ولیم ، میر بہرام بلوچ، صادق سمالانی، محمد شعیب، نیلم عزیز، عبد الواحد صدیقی اور صاحبزادہ عتیق ودیگر نے پی ایچ ای، واسا، صفا کوئٹہ اورپبلک پرائیویٹ پارٹرشپ کے حکام کواپنے آڈٹ رپورٹ پیش کئے۔حکام نے نیٹ ورک کے ممبران کی کاوشوں کوسراہا اور یقین دہانی کرائی کہ اس حوالے سے متعلقہ آفیسران کیساتھ بات چیت کرکے ان مسائل حل کرنے کیلئے ممکن اقدامات اٹھائے جائیں گے۔اجلاس میں محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے سید مظہر علی، واسا کی عشرت جہاں، سلمان علی ودیگر شریک تھے۔تقریب کے اختتام پرشرکاءمیں تعارفی شیلڈاورتعارفی اسنادتقسیم کئے گئے۔


