ریکوڈک، پانی اور چاغی کے عوام

تحریر : یوسف ساسولی


بلوچستان کے سرحدی ضلع چاغی کی تحصیل نوکنڈی کے کئی دیہی گاؤں دہائیوں سے پانی کی شدید قلت کا سامنا کر رہے تھے۔ خواتین اور بچے میلوں دور سے، کبھی پیدل، کبھی ہاتھ ریڑھیوں اور گاڑیوں کے ذریعے پانی لاتے تھے۔ سخت گرمی ہو یا شدید سردی، پانی کا حصول روزمرہ کی ایک اذیت بن چکا تھا۔لیکن اب ان گاؤں کے مکینوں کے چہروں پر اطمینان اور آنکھوں میں شکرگزاری جھلکتی ہے۔ اس تبدیلی کا سہرا ریکوڈک مائننگ کمپنی کے اس عملی اقدام کو جاتا ہے، جس کے تحت پانی جیسی بنیادی سہولت ان دیہاتوں تک پہنچائی گئی ہے۔ریکوڈک مائننگ کمپنی نے منصوبے سے متصل دیہی علاقوں میں ریورس اوسموسس (RO) پلانٹس نصب کیے ہیں۔ ایک جدید نظام جو پانی کو فلٹر کرکے پینے کے قابل بناتا ہے۔کمپنی کے کمیونٹی انویسٹمنٹ ٹیم لیڈر، محمد عیسیٰ طاہر کے مطابق:”یہ علاقے طویل عرصے سے پانی کے بحران کا شکار تھے۔ لوگ 1500 سے 2200 ٹی ڈی ایس والے پانی کو پینے پر مجبور تھے، جبکہ عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے معیار کے مطابق 900 سے زیادہ ٹی ڈی ایس والا پانی ناقص تصور کیا جاتا ہے، اور اگر ٹی ڈی ایس 1200 سے تجاوز کر جائے تو وہ ناقابل قبول ہو جاتا ہے۔ اب آر او پلانٹس کے ذریعے ان علاقوں میں 250 سے 300 ٹی ڈی ایس کا صاف پانی دستیاب ہے، جو WHO کے معیار کے مطابق بہترین ہے۔ ہر تین ماہ بعد پانی کا کیمیائی تجزیہ بھی کروایا جاتا ہے تاکہ نمکیات کی مقدار کا جائزہ لیا جا سکے۔”اب تک ریکوڈک مائننگ کمپنی چار آر او واٹر پلانٹس قائم کر چکی ہے، جو ہمئے، مشکی چاہ، نوک چاہ اور دوربن چاہ میں مکمل طور پر فعال ہیں۔ ہر پلانٹ، اگر 24 گھنٹے چلایا جائے، تو روزانہ کم از کم 10,000 گیلن (تقریباً 38,000 لیٹر) صاف پانی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو مقامی گھروں اور کلیوں کی ضروریات پوری کر رہا ہے۔نوک چاہ کے قبائلی رہنما، ملک عبدالسلام محمدزئی کہتے ہیں:”یہاں کے لوگ پہلے پانی کے لیے ترستے تھے، لیکن اب ہمارے گاؤں میں آر او پلانٹ نصب ہے، اور لوگ باعزت طریقے سے اپنی ضرورت پوری کر رہے ہیں۔”دوربن چاہ کی بزرگ خاتون، مسماۃ (ش) کہتی ہیں:”پہلے ہمیں پانی کے لیے دور جانا پڑتا تھا۔ چاہے گرمی ہو یا سردی، ہاتھ ریڑھیوں اور گاڑیوں پر پانی لانا معمول بن چکا تھا۔ لیکن اب حالات یکسر بدل چکے ہیں۔”ڈاکٹر محمد علی کے مطابق:”آر او پلانٹس کے استعمال کے بعد ان علاقوں میں پانی سے پھیلنے والی بیماریوں، خصوصاً پیٹ، گردے اور معدے کے امراض میں نمایاں کمی آئی ہے۔”محمد عیسیٰ طاہر مزید بتاتے ہیں:”ہر آر او پلانٹ اس وقت روزانہ تقریباً 6,000 لیٹر صاف پانی فراہم کر رہا ہے۔ تاہم، اگر یہ پلانٹس مکمل وقت میں چلائے جائیں تو ان کی پیداواری صلاحیت روزانہ 10,000 گیلن تک پہنچ سکتی ہے۔ پانی پائپ لائن کے ذریعے قریبی گھروں اور کلیوں تک پہنچایا جا رہا ہے، جہاں روزانہ سینکڑوں افراد اس سے مستفید ہو رہے ہیں۔”یہ تمام اقدامات ریکوڈک مائننگ کمپنی کے کارپوریٹ سوشیل رسپانسبیلٹی (CSR) فنڈز کے تحت کیے جا رہے ہیں، اور اس منصوبے پر خطیر رقم خرچ کی گئی ہے۔ کمپنی کے ترجمان کے مطابق، یہ اقدامات ابھی منصوبے کے ابتدائی مرحلے کا حصہ ہیں، جبکہ دیگر عوامی فلاحی منصوبے بھی جاری ہیں، جن میں صاف پانی کی فراہمی، طبی کیمپس، تعلیم، انفراسٹرکچر کی بہتری اور نوجوانوں کے لیے تکنیکی تربیت شامل ہے۔ریکوڈک مائننگ کمپنی کا ماننا ہے کہ کسی بھی منصوبے کی کامیابی مقامی آبادی کے اعتماد اور تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔ کمپنی کا پیغام ہے:”ہم نہ صرف یہاں کے قدرتی وسائل کو ترقی دینا چاہتے ہیں بلکہ یہاں کے لوگوں کی زندگیوں میں بھی مثبت تبدیلی لانا ہمارا مقصد ہے۔”صاف پانی کی فراہمی کمپنی کا صرف ایک قدم ہے۔ لیکن ایک ایسا قدم جو زندگیوں کو بدل رہا ہے۔بلوچستان جیسے خشک، دور افتادہ اور پسماندہ علاقوں میں یہ اقدام ایک انقلابی تبدیلی کی نوید ہے۔ اگر صنعتی ترقی کو مقامی شراکت داری اور سماجی انصاف کے ساتھ آگے بڑھایا جائے تو یہ خطہ ایک نئی شناخت حاصل کر سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں