ملک خانہ جنگی کے دہانے پر ،چمن سے لیکر کراچی تک مسلح لوگ شاہراہوں پر کھڑے ہوکر لوگوں کو لوٹتے ہیں، اچکزئی

اسلام آباد،کوئٹہ(یو این اے ) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین وتحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور رکن قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی نے اسلام آباد پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان انتہائی خطرناک حالت میں ہے ، جوڈیشری کو ختم کردیا گیا ہے ،پریس پر مکمل پابندی ہے ، ووٹوں کی منتخب پارلیمنٹ کو ڈیبٹینگ سوسائٹی سے بھی نیچے کی درجے پر لے گئے ہیں ، تمام انسان 2وقت کی روٹ کے لیے مضطرب ہے، ایک بین الاقوامی ادارے کے مطابق 47فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے ہیں ۔ تاجرہڑتالوں کی تیاری میں ہے ، پنجاب کا کسان چونکہ زیادہ گندم اُگاتا ہے وہ تکلیف میں رُل گیا ہے۔ باقی ایسا شُنید میں آیا ہے کہ انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم صرف اپنے بچوں کے لیے گندم اگائینگے ، ہم نے پاکستان کا ٹھیکہ نہیں لیا ۔ ان حالات میں سیاسی پارٹیوں اور تحریکوں کی خاموشی بڑی خطرناک ہے ۔ لوگ قیادتوں سے آگے نکل گئے ہیں ، لاکھوں کی تعداد میں باجوڑ سے لیکر خیبر پشتونخوا تک بغیر کسی قیادت کے نکل آئے ہیں اور ان کے سلوگنز آپ سُن رہے ہیں وہ کیا کہتے ہیں ۔ ان حالات میں تحریک تحفظ آئین پاکستان نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم مزید شاید انتظار نہ کرسکے ۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ایک بات طے ہے کہ ہماری نہ کسی سے دشمنی ہے نہ شہباز شریف سے نہ کسی اور سے لیکن ایک بات پوری دنیا کو معلوم ہے کہ یہ حکومت زر اور زور کی بنیاد پر لوگوں کو ڈرا دھمکا کر لوگوں کی وفاداریاں خرید کر بنائی گئی ہے اور اس پر لگے ہوئے ہیں ایک معزز وزیر صاحب نے کہا کہ اگر چہ ہائبرڈ نظام کا تصور آئین میں نہیں ہے لیکن ہم چلا رہے ہیں ۔ان حالات میں پاکستان کے اُن تمام لوگوں سے چاہے ان کا تعلق کسی بھی طبقے کسی بھی پیشے سے ہو جنہیں پاکستان عزیز اور واقعی چاہتے ہیں کہ پاکستان ایشیئن ٹائیگر بنے ۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ ہم نے اس حکومت کے خلاف اس دھاندلی زدہ الیکشن کے خلاف نکلنا ہوگا۔ ہم نے یہ فیصلہ کیاہے کہ جہاں جہاں عوامی تحریکیں چلیں گی تحریک تحفظ آئین پاکستان ان کا بھرپور ساتھ دے گی ۔ محمودخان اچکزئی نے کہا کہ تاجروں کی ہڑتال ہے ہم نے پہلے ہی اپنے ساتھیوں سے کہہ دیا ہے کہ جو امداد ہماری ہوسکے تاجروں کی حمایت جاری وساری رہے گی ۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ بین الاقوامی طور پر پاکستان کی جو حالت ہے اور جس انداز میں ہم محتاط رویہ رکھے ہوئے ہیں اگر چہ ہم نژاد پرست نہیں ہیں ہمیں اسرائیلیوں یا امریکیوں سے نفرت نہیں ہے ہم مذہب پرست تو نہیں ہیں ۔لیکن خود نیتن یاھو جانتے ہیں کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد ہٹلر کے ساتھ جو کچھ ہوا ، یہودیوں کے ساتھ جو کچھ ہوا (ہیمبرگ) کی عدالت میں فیصلہ ہوا کہ ان کو نہیں چھوڑا جائے گا۔ انہوں نے نسل کشی کی ہے یہودیوں کو مارا پیٹا ہے ، چاہیے تو یہ تھا کہ یہ ہماری پارلیمنٹ آج ریزولیشن پاس کرتی کہ نیتن یاھو کو جنگی مجرم قرار دیا جائے اسے قاتل ڈکلیئر کیا جائے اُسے (ہیمبرگ) کے طرز کی عدالت کے ذریعے دنیا کی عدالت میں رُسوا کیا جائے۔ لیکن ہماری حکومت بڑی فراخ دل ہے دریا دل ہے وہ ہمارے مائٹی امریکنز امریکہ کا صدر بہادر طاقتور لوگ ہیں ۔ نیتن یاھو کے ان تمام بداعمالیوں کاموں کو ٹرمپ سپورٹ کررہا ہے۔ شہباز بھائی بڑے دریا دل آدمی ہے وہ اور ان کے ساتھی پتہ نہیں امن نوبل انعام کہاں سے انہوں نے ڈھونڈا ہے وہ پتہ نہیں لاہور یا پنڈی میں ٹرمپ کو نوبل انعام دینگے۔ ان حالات میں پاکستان کو بچانا ہر پاکستانی کا فرض ہے ، پاکستان ایک رضاکارانہ فیڈریشن ہے اس کا اپنا ایک عمرانی معاہدہ ہے۔ جس کو آئین کہتے ہیں جب اس کو آپ درمیان سے نکال دینگے پھر لوگوں کے رشتے ختم ہوجائینگے۔ عدالت میں لوگ بیٹھے ہیں جس انداز میں 26ویں ترمیم پاس ہوئی۔ یعنی یہاں تک عدالت کا ٹریزن(Treason)ہو جائے کہ وہ ایک سیاسی پارٹی سے اس کا انتخابی نشان چھینے لے دنیا میں کئی بھی ایسا نہیں ہوا ۔ پھر سپریم کورٹ فیصلہ کرے کہ فلاں فلاں سیٹیں فلاں پارٹی کا حق ہے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو منٹوں میں ختم کردیا گیا ،اور ہم سب ایسے سیاسی لوگ ہیں ۔ دُکھ کی بات ہے کہ ایک پارٹی سے چھینی گئی سیٹیں دیگر سیاسی پارٹیوں میں بانٹ دی جارہی ہے اتنی شرافت تو سیاسی پارٹیوں میں ہونی چاہیے تھی کہ آپ یہ سیٹیں ہمیں دے رہے ہیں لیکن یہ ہمارا حق نہیں ۔ میاں محمد نواز شریف صاحب کا سلوگن تھا کہ ووٹ کو عزت دو، پیپلز پارٹی کا سلوگن تھا روٹی ، کپڑا اور مکان ، سوشلزم ہماری معیشت سیاست ہماری جمہوریت ان حالات میں ہمیںایسی پارٹیوں سے گلہ ہے ۔یہ پارٹیاں ملکر اس بدبختی کو سپورٹ کررہی ہے۔ ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ نہ ہم کسی کو گالیاں دینگے نہ کسی کو پتھر مارینگے اور نہ ہی کسی کے خلاف کوئی غلط زبان استعمال کرینگے پھر بھی اگر کوئی ہماری جمہوری حقوق ہمیں نہیں دیتا ہمیں جیلوں کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں تو کوئی بات نہیں ہم جیلوں میں پڑے رہینگے۔ محمود خان اچکزئی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ باجوڑ سے لیکر خیبر پشتونخوا اور افغانستان کے بارڈر تک اور پھر پشتون بلوچ علاقوں میں جو اُبھارپیداہوا ہے اگر کوئی پاکستان کو واقعی بچانا چاہتا ہے تو ہمارے پاس یہ نسخہ ہے کہ آئین بالادست ہوگا، منتخب پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ ہوں گی ،ووٹ کا احترام ہوگا جو جیتے گا وہی پارٹی حکمرانی کریگی ، آزاد الیکشن کمیشن ہوگا، عدلیہ آزاد ہوگی ہر ادارہ آئین کے فریم میں اپنا کام کریگا اگر یہ ملک کی محبت سے سنجیدہ ہے تو انہیں یہ کہہ دینا چاہیے کہ باجوڑ کے لوگوں باجوڑ آپ کا ہے، وزیرستان وزیرستان کے لوگوں، سندھ سندھ کے بچوں ،گلگت بلتستان پر وہاں کے بچوں ، پنجاب پر پنجاب کے بچوں جہاں جہاں اقوام وعوام آباد ہیں وہاں کے معدنیات ،وسائل پر پہلا حق اُن کا ہوگا۔ پاکستان ترقی کرسکتا ہے لیکن ایسے نہیں کہ آپ ہمارے ٹیکسز سے ٹینک واسلحہ لیکر ہم پر چلائینگے ۔ ہم وارن کرتے ہیں کہ آپ کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان میں خانہ جنگی شروع ہوتی ہے اور پاکستان کو کوئی نقصان ہوتا ہے تو اس کے ذمہ دار شہباز شریف اور اس کو سپورٹ کرنیوالے تمام ادارے ہوں گے۔ اپنی بندوقوں سے لوگوں کو مت مارو وہ حق کی بات کرتے ہیں ۔وہ کہتے ہیں کہ ہم یہ نہیں کہتے کہ سارے کے سارا ہمارا لیکن ہم بھوکے مررہے ہیں اس زمین میں اللہ پاک نے جو کچھ پیدا کیا ہے ہماراحصہ ہمیں بتا دے پھر بیشک جاکر معاہدے کرے جس طرح دنیا کرتی ہے۔ دنیا میں کئی نہیں دیکھا گیا کہ گلگت بلتستان کے لوگوں ، وزیرستان کے لوگوں کو نکالا جاتا ہے کہ ہم آپ کے گھر میں چور ڈھونڈیں گے ۔ اگر آپ کو چوروں کا نہیں پتہ تو ہم آپ کو بتا دیتے ہیں ۔ آج بھی چمن سے لیکر کراچی تک مسلح لوگ ان کی آشرباد سے شاہراہوں پر کھڑے ہوکر لوگوں کو لوٹتے ہیں ان کی عزتوں کو نقصان پہنچاتے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں اور ان کے خلاف اُٹھنا ہر پاکستانی کا فرض ہے اور ہم اس کے لیے اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں ۔ اس موقع پر تحریک تحفظ آئین پاکستان میںشامل جماعتوں کے دیگر اکابرین اور رہنماء بھی موجود تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں