نوکنڈی راجے گزر بارڈر کی بندش سے ہزاروں افراد بیروزگار، بدامنی میں اضافہ ہورہا ہے، آل پارٹیز

نوکنڈی (نامہ نگار) نوکنڈی تیل کمیٹی اور تیل کے کاروبار سے وابستہ افراد کی جانب سے راجے گزر بارڈر کی طویل بندش کیخلاف ایک اہم پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں مختلف سیاسی، مذہبی، قبائلی اور سماجی نمائندوں نے شرکت کی۔اس موقع پر نیشنل پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی)، مسلم لیگ (ن)، جمعیت علماءاسلام، بابائے چاغی پینل، الفتح پینل، خان پینل سمیت مقامی عمائدین کی بڑی تعداد موجود تھی۔پریس کانفرنس سے شاہ زمان بڑیچ، واحد بخش شیرزئی، سید تاجل شاہ اور مولوی صاحب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تین ماہ قبل ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگی کشیدگی کے باعث ایران نے سیکورٹی وجوہات کی بنا پر بلوچستان سے ملحقہ تمام بارڈرز بند کردیے تھے، لیکن حالات معمول پر آنے کے بعد دیگر تمام سرحدی راستے کھول دیے گئے، سوائے ضلع چاغی کے راجے گزر گیٹ کے، جو تاحال بند ہے۔ مقررین کا کہنا تھا کہ راجے گزر کی بندش نے مقامی معیشت کو مفلوج کردیا ہے۔ ہزاروں افراد بے روزگار ہوچکے ہیں، جبکہ لوگ نان شبینہ کے محتاج ہو کر رہ گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تقریباً آٹھ ہزار افراد براہ راست متاثر ہوئے ہیں، ڈرائیور، کلینر، گیراج مکینک، ہوٹل مالکان اور دکاندار طبقہ بدترین معاشی بحران کا شکار ہیں، بے روزگاری میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں امن و امان کی صورتحال بھی بگڑ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بارڈر کی بندش کی اصل وجوہات نہ تو واضح کی جا رہی ہیں اور نہ ہی عوام کو اعتماد میں لیا جا رہا ہے، جس سے کاروباری حلقوں میں سخت تشویش پائی جاتی ہے۔آخر میں انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان، کور کمانڈر 12 کور اور آئی جی ایف سی ساﺅتھ سے مطالبہ کیا کہ راجے گزر بارڈر پر کاروباری سرگرمیاں بحال کرنے کے لیے فوری طور پر ایرانی حکام سے سفارتی سطح پر بات چیت کا آغاز کیا جائے تاکہ متاثرہ عوام کو دوبارہ روزگار کے مواقع فراہم ہوسکیں اور نوکنڈی سمیت ضلع چاغی میں معاشی استحکام پیدا ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں