چاندنی میں بکھرے ستارے
تحریر: حفصہ اشرف جوکھیو
سیاہ رات قطرہ قطرہ پگل رہی تھی۔ آج اندھیرا نہ تھا چونکہ آج آسمان پر چاند کی حکمرانی تھی ، آج ماہ کامل کی رات تھی۔ ماہ کامل کا چاند بڑی شان و شوکت سے آسمان کی وسعتوں میں تیر رہا تھا ، وہ ہر شے سے بے نیاز تھا۔
آسمان کے ساتھ ساتھ اس نے زمین پر بھی اپنے پر یوں پھیلائے ہوئے تھے کہ گویا زمین پر موجود ہر شے پر چاندی کی تہہ چڑھادی گئی ہو۔
جھلملاتے ستاروں میں وہ تنہا چاند خوبصورت لگ رہا، ایسے میں ایک ستارے نے اسے اپنی جانب مخاطب کیا :
اے مغرور چاند ! تجھے اپنی خوبصورتی پر اتنا ناز کیوں ہے ، جب کہ یہ حسن فنا ہے ”چاند نے ایک نزاکت سے ستارے کی جانب دیکھا مگر کچھ نہ بولا“ اس کے کچھ نہ کہنے پر ساتھ کھڑے دوسرے ستارے نے کہا:
کتنے مغرور ہو تم اپنے حسن پر اتنا اتراو¿ مت ، لوگ تمھیں پسند کرتے ہیں اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہماری کوئی اہمیت نہیں ہیں، چاندنی صرف چار دن کی ہے جبکہ ہم ہر روز جلوہ افروز ہوتے ہیں، اس آسمان کو ہم ہی دلفریب بناتے ہیں ، پھر اتنا غرور کس لیے ؟؟؟
چاند اب بھی کچھ نہ بولا وہ بس خاموشی سے ان کی کڑوی باتیں سنتا رہا، ہاں شاید وہ بہت مغرور تھا جسے ان کی کسی بات کا کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا۔ اتنے میں پہلے ستارے نے کہا :
چھوڑو ا سے، اس سے کچھ کہنا بھینس کے آگے بین بجانے کے مترادف ہے، چلو ہم چلتے ہیں اتنا کہہ کر وہ دونوں ستارے اپنی راہ لیے چل دیئے۔ اور چاند ، وہ بھی خاموشی سے اپنی منزلیں طے کرنے لگا۔ مگر جو اگر کوئی اسے غور سے دیکھتا تو وہ ضرور جان جاتا کہ فلک پر بکھرے ان عربوں ستاروں میں گھرا وہ تنہا چاند سب سے زیادہ اداس تھا، بے حد اداس۔
سب سمجھتے ہیں کہ اسے اپنی خوبصورتی پر ناز ہے، وہ بے حد مغرور ہے ، جبکہ اگر کوئی اس کے دل کا حال پوچھے تو وہ بتائے کہ یہ تو صرف ایک خول تھا جسے اس نے خود پر چڑھا رکھا تھا تا کہ وہ اپنے غموں کو چھپا سکے۔ اس کا سب سے بڑا غم تنہائی تھا۔ ہاں وہ تنہا تھا، وہ عربوں ستاروں کے درمیان بھی تنہا تھا، ہاں اس کا کوئی ساتھی نہ تھا۔ کیا شریک سفر نہ ہونے سے بھی بڑا کوئی غم ہے ؟
ستارے تو ستارے مگر زمین زاد بھی اسے مغرور سمجھتے ہیں یا پھر صرف اس کی ظاہری خوبصورتی کے اسیر ہیں۔ مگر سب نہیں کچھ زمین زاد ایسے بھی ہیں جو اس کے غموں سے واقف ہوتے ہیں۔ مگر جو اگر کوئی زمین زاد چاند بننا چاہے یا چاند کا شیدائی بن جائے تو زمین زاد اسے Lunatic کہنے لگ جاتے ہیں۔ مگر کون جانے کہ وہ اپنے کتنے دانوں کو چھپائے، اپنے غموں پر پردہ ڈالے اور اپنے چہرے پر ایک خوبصورت کھوکھلی مسکان سجائے ، سورج کے شعلوں کی حدت سہتے ہوئے روشنی پھیلا رہا ہے۔
ویسے تو ہر شخص چاند کا شیدائی ہے مگر کہتے ہیں کہ اگر ہم زمین زاد نہ ہوتے تو ستارے ہوتے ، پتہ ہے کیوں ، کیونکہ چاند بننا آسان نہیں کیونکہ اگر چاند بننا ہے یا چاند کو پانے کی تمنا ہے تو اس کے داغ بھی قبول کرنے پڑیں گے۔ مگر ہم زمین زاد صرف خوبصورتی کے دلدادہ ہیں ہمیں بس صورت ہی متاثر کرتی ہے ، پھر چاہے اندر سے کھوکھلا ہی کیوں نہ ہو۔
اور پھر جب وہ چاند کو پالیتے ہیں تو کہنے لگتے ہیں کہ چاند حاصل ہوجائے تو چاند نہیں رہتا، چاند بھلا چاند کیسے رہے گا جب اس میں داغ ہی نہ ہو نگے۔ چاند تو خود اپنے داغوں کے بنا ادھورا ہے۔
اور میرے خیال میں اسی لیے کہا گیا ہے کہ ہم زمین زاد نہ ہوتے تو ستارے ہوتے۔ کیونکہ ہم صرف آگ کا ایک شعلہ بن کر ٹمٹما سکتے ہیں نہ کہ چاند بن کر روشنی پھیلا سکتے ہیں۔
مگر کچھ زمین زاد ہیں ایسے جو چاند کی طرح روشنی پھیلانے کا کام کرتے ہیں۔
سو زمین زاد ستارے بھی ہیں اور چاند بھی یا پھر سب چاندنی میں بکھرے ستارے ہیں۔
ہر شخص چاند بھی بن سکتا ہے
اور ہر شخص ستارہ بھی ،
مگر یہ ہمیں خود سوچنا ہے کہ چاند بن کر روشنی پھیلانا ہے یا ستارہ بن کر جھلملانا ہے
مگر بات یاد رکھنا ،
گر جھلملانا ہے ،
یا روشنی پھیلانا ہے ،
اس سے پہلے سورج سے منور دن کو پار کرنا پڑے گا۔


