عالمی یومِ ذہنی صحت ذہنوں کا سکون، بلوچستان کا امن
تحریر: میر بہرام لہڑی
دنیا آج عالمی یومِ ذہنی صحت منارہی ہے۔ اس دن کا مقصد یہ یاد دہانی ہے کہ ذہنی صحت، انسانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے، کوئی عیاشی نہیں۔ بدقسمتی سے بلوچستان میں یہ حقیقت ابھی تک پوری طرح تسلیم نہیں کی گئی۔ معاشی بدحالی، بیروزگاری، محرومی اور سماجی دباؤ نے یہاں کے لوگوں کو گہری نفسیاتی بے چینی میں مبتلا کر رکھا ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں بلوچستان کے مختلف علاقوں سے نوجوانوں کی خودکشیوں کے واقعات میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے۔ یہ واقعات محض اعدادوشمار نہیں بلکہ ایک اجتماعی المیہ ہیں۔ یہ اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ہماری نوجوان نسل ذہنی دباؤ، مایوسی اور بے سمتی کا شکار ہے۔ اسی ذہنی بحران نے کچھ نوجوانوں کو جرائم اور منشیات کی طرف بھی دھکیل دیا ہے۔ ان سب کا بنیادی سبب یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں ذہنی صحت کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔
بلوچستان میں سنہ 2019 میں ’’بلوچستان مینٹل ہیلتھ ایکٹ‘‘ منظور کیا گیا جو ایک مثبت قدم تھا، مگر اس قانون میں کئی خامیاں اور خلا موجود ہیں۔ یہ قانون زیادہ تر ماہرِ نفسیات (Psychiatrists) کے کردار پر مرکوز ہے جبکہ ماہرینِ نفسیات (Psychologists) جو انسانی رویوں، سوچ اور احساسات پر براہِ راست کام کرتے ہیں تقریباً نظرانداز کر دیے گئے ہیں۔ اگر ہم واقعی ذہنی صحت کو بہتر بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں اس قانون میں نفسیات دانوں کو مساوی حیثیت دینی ہوگی۔
بلوچستان کے ماہرینِ نفسیات اپنی پیشہ ورانہ خدمات کے ساتھ ساتھ عوامی شعور بیدار کرنے میں بھی مصروف ہیں۔ بلوچستان سائیکالوجسٹس ایسوسی ایشن، جو 2018 میں قائم ہوئی، اس مقصد کے لیے سرگرم عمل ہے۔ یہ تنظیم نہ صرف ماہرینِ نفسیات کے حقوق کے لیے کام کررہی ہے بلکہ اسکولوں، جامعات اور کمیونٹیز میں آگاہی، مشاورت اور بحالی کے پروگرام بھی چلا رہی ہے۔ اس ایسوسی ایشن کا موقف ہے کہ بلوچستان میں پائیدار امن کا آغاز ذہنی سکون سے ہوتا ہے۔ جب تک فرد کے اندر امن نہیں ہوگا، معاشرہ بھی پُرامن نہیں ہوسکتا۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ذہنی صحت کو ایک طبی یا قانونی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی اور انسانی ترجیح سمجھیں۔ حکومت کو چاہیے کہ ’’بلوچستان مینٹل ہیلتھ ایکٹ‘‘ میں ضروری ترامیم کرے، نفسیات دانوں اور سماجی کارکنوں کو شامل کرے، اور تعلیمی اداروں میں ذہنی صحت کی آگاہی کو لازمی بنائے۔ خودکشی کے واقعات کو جرم کے بجائے انسانی دکھ کے طور پر دیکھا جائے اور متاثرین کو مدد فراہم کی جائے۔
عالمی یومِ ذہنی صحت ہمیں یہی پیغام دیتا ہے کہ اصل امن انسان کے ذہن اور دل میں ہوتا ہے۔ اگر ہم بلوچستان میں امن، ترقی اور خوشحالی چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے لوگوں کے ذہنی سکون اور احساسِ تحفظ کو اولین ترجیح دینا ہوگی۔ امن کا سفر ذہنی صحت سے شروع ہوتا ہے اور یہ سفر ہمیں ابھی سے شروع کرنا ہے۔


