ٹی ایل پی کیخلاف پولیس کا آپریشن، جھڑپوں میں کئی اموات، متعدد کارکنان گرفتار، کراچی میں بھی مظاہرے شروع

لاہور (ویب ڈیسک) پنجاب کے شہر مریدکے میں ٹی ایل پی کے کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے پولیس آپریشن تقریباً پانچ گھنٹے جاری رہنے کے بعد مکمل ہو گیا۔ جھڑپوں میں ایک ایس ایچ او ہلاک ہوا جبکہ تحریک لبیک نے مظاہرین پر فائرنگ کا الزام لگایا ہے جس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ آپریشن کے بعد علاقے میں تباہی کے مناظر دیکھے گئے، جلی ہوئی گاڑیاں، موٹر سائیکلیں اور سامان ہر طرف بکھرا ہوا ہے۔ ٹی ایل پی کا مرکزی کنٹینر مکمل طور پر جل چکا ہے اور آنسو گیس کی ب±و ابھی تک فضا میں موجود ہے۔ جی ٹی روڈ کو جزوی طور پر ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں پنجاب کے بعد کراچی کے مختلف علاقوں میں بھی مذہبی جماعت کی جانب احتجاج کی کال دی گئی ہے، جس کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں جلاﺅ گھیراﺅ کے واقعات پیش آئے۔ احتجاج کے باعث متعدد شاہراہیں بند ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ نیو کراچی کے نالہ اسٹاپ پر مذہبی جماعت کے کارکنان نے احتجاج کیا، جہاں مشتعل مظاہرین نے گاڑیوں پر پتھراﺅ کیا اور شیشے توڑ دیے۔ اسی طرح نارتھ کراچی فور کے چورنگی پر بھی مظاہرین نے سڑک بلاک کردی، جس سے ٹریفک جام اور عوامی پریشانی میں اضافہ ہوگیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں