کوہلو کے مختلف محکموں میں بغیر اشتہارات، ٹیسٹ اور انٹرویو کے بھرتیوں کا انکشاف، عوامی حلقوں کا شدید اظہار تشویش
کوہلو (نامہ نگار) بلوچستان کے پسماندہ ضلع کوہلو میں مختلف سرکاری محکموں میں بغیر کسی اشتہار، ٹیسٹ اور انٹرویو کے خفیہ طور پر بھرتیوں کا انکشاف ہوا ہے، جس پر عوامی حلقوں اور بےروزگار نوجوانوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے، ذرائع کے مطابق، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ افسران کی مبینہ ملی بھگت سے میرٹ کے تمام اصولوں کو پس پشت ڈال کر بند کمروں میں من پسند افراد کو ملازمتیں دی جا رہی ہیں۔ اس عمل میں نہ تو اخبارات میں نوکریوں کے اشتہارات شائع کیے گئے، نہ ہی امیدواروں سے کوئی ٹیسٹ یا انٹرویو لیا گیا، جس سے شفافیت کا شدید فقدان ظاہر ہوتا ہے، مقامی صحافی سے گفتگو کرتے ہوئے بےروزگار نوجوانوں اور سماجی کارکنوں نے کہا کہ ماضی میں کم از کم کاغذی کارروائی کے تحت ٹیسٹ و انٹرویو کیے جاتے تھے، مگر اب بھرتیوں کا عمل مکمل طور پر خفیہ کر دیا گیا ہے جو واضح طور پر نوجوانوں کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے، عوامی حلقوں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی، چیف سیکریٹری، اور دیگر اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوہلو میں ہونے والی ان غیرقانونی بھرتیوں کی شفاف تحقیقات کر کے ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے اور تمام آسامیوں پر ازسرِ نو میرٹ کی بنیاد پر بھرتیاں کی جائیں تاکہ حق دار نوجوانوں کو ان کا جائز حق مل سکے، مقامی افراد نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس ناانصافی کا تدارک نہ کیا گیا تو وہ احتجاج کا دائرہ وسیع کرنے پر مجبور ہوں گے۔


