پر تشدد احتجاج، پنجاب بھر سے ہزاروں افراد گرفتار، صوبائی حکومت کی جانب سے مذہبی جماعت پر پابندی کی سفارش
لاہور (انتخاب نیوز) پنجاب بھر میں مذہبی جماعت کیخلاف کریک ڈاﺅن جاری، پرتشدد احتجاج میں ملوث گرفتار ملزمان کی تعداد 3 ہزار 400 ہوگئی۔ رپورٹ کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ مذہبی جماعت کے خلاف پنجاب بھر میں جاری کریک ڈاﺅن میں گرفتاریوں کی تعداد 3400 تک جاپہنچی ہے، جبکہ لاہور سے گرفتار ملزمان کی تعداد 326 ہوگئی ہے۔ پولیس کے مطابق اشتعال انگیزی، احتجاج میں ملوث ملزمان کی گرفتاری فہرستوں کے مطابق جاری ہے جبکہ فوٹیجز کی مدد سے براہ راست تشدد اور توڑ پھوڑ میں ملوث ملزمان کی نشاندہی جاری ہے، ملزمان کو اے، بی اور سی کیٹیگری میں تقسیم کرکے گرفتار کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں پنجاب حکومت نے ریاستی رِٹ اور قانون کی بالادستی قائم کرنے کے لیے وفاقی حکومت کو انتہا پسند جماعت پر پابندی عائد کرنے کی سفارش کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیرِ صدارت امن و امان پر غیر معمولی اجلاس منعقد کیا گیا جس میں ریاستی رٹ اور قانون کی بالادستی قائم کرنے کے لیے غیر معمولی فیصلے کیے گئے۔ پنجاب حکومت وفاقی حکومت کو انتہا پسند جماعت پر پابندی عائد کرنے کی سفارش کرے گی جبکہ صوبے میں نفرت انگیزی، اشتعال انگیزی اور قانون شکنی میں ملوث افراد کو فوری گرفتار کیا جائے گا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ پولیس افسران کی شہادت اور املاک کی تباہی میں ملوث رہنماﺅں اور کارکنوں کے خلاف انسداد دہشت گردی عدالتوں میں مقدمات چلائے جائیں گے اور انتہا پسند جماعت کی قیادت کو انسداد دہشت گردی ایکٹ کے فورتھ شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ انتہا پسند جماعت کی تمام جائیدادیں اور اثاثے محکمہ اوقاف کے حوالے کیے جائیں گے جبکہ اس کے پوسٹرز، بینرز اور اشتہارات پر مکمل پابندی ہوگی۔ اجلاس میں نفرت پھیلانے والی انتہا پسند جماعت کے سوشل میڈیا اکاﺅنٹس بند اور تمام بینک اکاﺅنٹس منجمد کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ اجلاس میں لاﺅڈ اسپیکر ایکٹ کی خلاف ورزی پر سخت ترین کارروائی کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔


