سندھ حکومت کی سرینڈر پالیسی، کچے کے 71 کے قریب مبینہ ڈاکوﺅں نے ہتھیار ڈال کر گرفتاری دیدی
شکار پور (ویب ڈیسک) سندھ کے شہر شکارپور میں 71 کے قریب مبینہ ڈاکوﺅں نے حکومت کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔ سندھ میں ڈاکووں کی جانب سے گرفتاری دینے والی تقریب شکارپور میں ہوئی۔ 71 خطرناک ڈاکوﺅں نے ہتھیار پھینک کر گرفتاری پیش کردی۔ لاکھوں روپے سر کی قیمت والے 9 پولیس اہلکاروں، 6 شہریوں کے قتل میں ملوث 19 ڈاکو بھی ہتھیار ڈال کر گرفتاری دینے والوں میں شامل ہیں۔ اغوا برائے تاوان میں ملوٹ 6، ہائی وے ڈکیتی میں ملوث 5، جبکہ پولیس مقابلوں اور دیگر مقدمات میں ملوث 26 ڈاکو بھی شامل ہیں۔ 60 لاکھ روپے سر کی قیمت والا سکھیو تیغانی، 60 لاکھ روپے سر کی قیمت والا سونارو تیغانی، 30 لاکھ روپے سر کی قیمت والا گلزار تیغانی، 30 لاکھ روپے سر کی قیمت والا ملا تیغانی بھی گرفتاری دینے والوں میں شامل۔ 30 لاکھ روپے سر کی قیمت والا ڈاکو نثار سبزوئی، 20 لاکھ روپے انعام یافتہ لاڈو تیغانی، 20 لاکھ روپے انعام یافتہ جمعو تیغانی، 15 لاکھ روپے سر کی قیمت والا ڈاکو نور الدین تیغانی اور 30 لاکھ روپے انعام یافتہ غلام حسین ٹمو شامل بھی گرفتاری دینے والوں میں شامل۔ شکارپور پولیس لائن میں سرینڈر کرنے والے مبینہ ڈاکو پہنچے، حکومت سندھ کی طرف سے ڈاکوﺅں کو ریڈ کارپٹ استقبال کیا گیا۔ اس حوالے سے صوبائی وزیر نے یقین دہانی کرائی کہ ان’ڈاکوﺅں‘ کا ماورائے عدالت قتل نہیں ہوگا۔


