مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کی آڑ میں وسائل کی لوٹ مار نہ روکی تو ہماری آئندہ نسلیں اپنی سر زمین کی مالک نہیں ہوسکتیں، حاجی لشکری

کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان ہائیکورٹ میں مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کیس کی سماعت کے بعد نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سیاسی کارکنوں سول سوسائٹی کے تعلق رکھنے والے افراد کا سینکڑوں کی تعداد میں عدالت آمد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ 2025 کے خلاف ہماری سیاسی و آئینی جنگ آئندہ نسلوں کی بقا، خوشحالی کی جنگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ تصور کیا جائے کہ آئندہ نسلوں کے وسائل کو لوٹا جائے اور وہ اپنے حقوق سے محروم ہوں تو ہماری آج کے نسل اور سیاسی لوگوں سے متعلق کیا ان کی کیا راہ ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ یہ اہم ترین کیس ہے بلوچستان کے قدرتی وسائل ہی ہماری ترقی کے ضامن ہوسکتے ہیں، قدرتی وسائل صوبے کو پسماندگی سے نکال سکتے ہیں ان کی لوٹ مار ہو تو آئندہ نسلیں ملٹی نیشنل کمپنیوں کی نوکری تو کرسکتی ہیں اپنی سرزمین کے مالک نہیں ہوسکتے۔ انہوں نے کہا کہ اکثر لوگوں کی خواہشات ہوتی ہوں گی کہ وہ کسی منصب پر یا پارلیمنٹ میں آئیں لیکن سیاست ہمیں اس بات کا درس دیتا ہے کہ آئندہ نسلوں کی خوشحالی کیلئے اپنے آج کو قربان کریں۔ انہوں نے اپنی لیگل ٹیم اور سیاسی کارکنوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ان کا جدوجہد میں ان کا بھرپور ساتھ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھ سمیت آج کی سیاسی جماعتیں جب تاریخ کے کٹہرے میں ہوں گے تو کم از کم میں اور میرے ساتھی سرخرو ہوں گے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ وزیراعلی بلوچستان کا بیان جس میں انہوں نے کہا تھا کہ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ پر ایگزیکٹو آرڈر کے تحت عملدرآمد روکا گیا ہے اس حوالے سے میں نے دو ہفتے پہلے ہائیکورٹ میں آئینی درخواست دائر کی کہ وزیراعلی نے جس ایگزیکٹو آڑدر کے تحت مائنز اینڈ منرلز ایکٹ پر عملدرآمد روکنے کا اعلان کیا ہے عدالت میں پیش کیا جائے آج عدالت نے اس حوالے سے نوٹسز جاری کئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں