ہم کسی سے لڑنا نہیں چاہتے یہ ہمارا ملک ہے لیکن ظالموں، چوروں اور غاصبوں کو پاکستان میں نہیں چھوڑینگے، محمو دخان اچکزئی

اسلام آباد/کوئٹہ ( آئی این پی ) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئر مین وتحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے 21نومبر یوم سیاہ کے موقع پر شاہ فیصل مسجد کے باہرعلامہ راجہ ناصر عباس، سلمان اکرم راجہ، مصطفی نواز کھوکھر، اخونزادہ حسین ودیگر کے ہمراہ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آئین پر حملہ آوروں کو آئی ایم ایف نے بھی چوروں کی حکومت اعلان کردیا ۔ کل تک ہم پر الزامات لگائے جارہے تھے کہ ہم شریف لوگ اس حکومت کو چور کہتے ہیں لیکن گزشتہ روز آئی ایم ایف کی پاکستان میں بد عنوانی اور گورننس پر جاری ہونیوالی رپورٹ اور اخبارات میں خبریں شائع ہوئی ہیں کہ دو سال میں حکومت نے تقریباً پانچ ہزار ارب روپے کی کرپشن کی ہے۔ عوام کی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے والے، ججز کے ذریعے اقلیت کی نشستوں کو چھین کر حکومت پر قابض ہوئے اور پاکستان کے وفادار بن کر ہمارے پارلیمنٹ کو اپائج بنادیا گیا۔ آئین کو پائمال کرکے 26ویں،27ویں آئینی ترامیم کے ذریعے عدلیہ کے اختیارات چھین لیے گئے اور پیکاایکٹ کے ذریعے آزادی صحافت کو سلب کیا گیا۔محمودخان اچکزئی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے جتنے بھی پیغمبر پیدا کیئے انہیں پیغام یہ تھاکہ آپ نے ظالم حکمران کے سامنے کھڑا ہونا ہے ، سارے ظلم آپ نے سہنے ہیں شرط یہ تھی کہ اگر آپ نے ایک چھوٹا سا ٹولہ( ساتھیوںکا مجمع) کا پیدا کیا تو پھر اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ نصرومن اللہ وفتح القریب۔ اللہ تعالیٰ کے وہ شرائط ہم نے پورے کیئے ہیں ہر شہر میں ہمارا چھوٹا سا ٹولہ بن چکا ہے جو آئین کی حفاظت ، حق کی لڑائی میں ہمارے ساتھ ہیں۔ اور ایسے میں اللہ تعالیٰ کی مدد ضرور ہمارے ساتھ ہوگی۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہم کسی سے لڑنا نہیں چاہتے یہ ہمارا ملک ہے لیکن ہم ظالموں، چوروں، غاصبوں کو پاکستان میں نہیں چھوڑینگے ، ہم سب سے بار بار آئین کی دفاع کا حلف لیا گیا ہے لیکن اس وقت آئین روندھ دیا گیا ہے ،آئین جو اقوام کے درمیان ایک سماجی معاہدہ ہے اُسے پھاڑ دیا گیا ہے ۔ ہر پاکستانی آدمی کا یہ فرض بنتا ہے کہ ہمارے ساتھ اپنی رائے شریک کریں اور ہم سب ملکر اجتماعی دانش سے پاکستان کے آئین کو بچائیں اور ایک نئے پاکستان کی تشکیل کرے ۔ جس میں غریب کی روٹی کا بندوبست ہو، مذہب کی آزادی ہو، انسان کو بنیادی حقوق حاصل ہو ، انصاف کو دور دورہ ہو، ایک فرقے کا دوسرے فرقے پر ظلم نہ ہو۔ اگر ہم یہ نہیں کرینگے تو ہم خدا کے بھی اور اپنے عوام کی بھی مجرم ہوں گے۔ محمود خان اچکزئی نے علامہ اقبال کا شعر پڑھتے ہوئے کہا کہ
”اُٹھو مری دنیا کے غریبو کو جگا دو
جو نقش کہن تم کو نظر آئے مٹا دو
جس کھیت سے دہقان کو میسر نہ ہو روزی
اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو “
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ انقلاب ضرور آئیگا ،ہمارے عوام بھوکے مررہے ہیں اورحکومت پر قابض ایک ووٹ خریدنے کے لیے 90کرورڑ روپے دیتے ہیں اور پھر ایک بھی نہیں دس سے پندرہ ووٹ خریدتے ہیں یہ پیسوں کی مشین آپ کہاں سے لاتے ہیں۔ اگر اتنے روپے ہیں تو پھر غریب کیوں بھوکا مررہا ہے ۔70لاکھ پاکستانی اس وقت خارجی ملکوں میں مزدوری کررہے ہیں کیونکہ آپ نے انہیں انسان ہی نہیں سمجھا ۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ایک نئے اور جمہوری پاکستان کی تشکیل ہوگی۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ جن کو قید ہونا چاہیے تھاجو چور ، ڈاکو ، قاتل ہیں وہ پھر رہے ہیں حکمرانی کررہے ہیں اور جو عوام کے لیے لڑتے ہیں ان کو گولیاں مارتے ہیں یا جیلیں بھر دیتے ہیں ۔ عمران خان کا کیا قصور ہے ۔ اگر اس نے کچھ کیا بھی ہے تو اتنا بڑا جرم نہیں کہ آپ عمران خان کی بہنوں ان کی فیملی کو ان سے ملنے نہ دے۔ پاکستان میں جمہوری اور غیر جمہوری قوتوں کی لڑائی شروع ہوگئی ہے ۔ ہمارا ہر ساتھی ضمیراور عوام کی مفادات کا قیدی ہوگا اور ہمارا حق بنتا ہے کہ ہم اُن سے ملاقات کرے اُن سے بات کریں ۔ میں مذاق نہیں کررہا جو ہمیں یہ نہیں کرنے دینگے وہ دن پھر آئیگا کہ ہم سیڑھیاں لیکر جیل کی دیواروں کے اندر کھود جائینگے اورعمران خان سے ملاقات بھی کرینگے اور اسے نکالیں گے بھی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں