عمران خان کی جیل میں پُش اپس لگانے کی تصویر مصنوعی ذہانت کی مدد سے بنائی گئی، عالمی خبر رساں ادارے کی تصدیق
راولپنڈی (صباح نیوز) اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی کوئی ویڈیو یا تصویر سامنے نہ آنے پر اُ کی صحت اور جیل میں حالات کے بارے میں قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ لیکن چند روز سے سابق وزیرِ اعظم سے منسوب ایک وائرل تصویر کا چرچا ہے، جس میں وہ جیل میں ورزش کرتے دکھائے گئے ہیں۔ عمران خان کی جیل میں موجودگی سے منسوب کئی تصاویر اور ویڈیوز سامنے آتی رہتی ہیں، جنھیں دیکھ کر آسانی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ اصلی ہیں یا جعلی۔ لیکن عمران خان کو ورزش کرنے کی اس مبینہ تصویر سے متعلق اُن کی بہن علیمہ خان نے کہا کہ ’یہ اصلی لگتی ہے۔‘ جو تصویر وائرل ہے، اس میں ایک جنگلے کے پیچھے دوپہر کے وقت ٹی شرٹ اور ٹرا¶زر پہنے عمران خان کو پُش اپس لگاتے دکھایا گیا ہے۔ اس دوران وہ پسینے میں شرابور ہیں اور اُن سے کچھ فاصلے پر کچھ پولیس اہلکار کھڑے اُنھیں دیکھ رہے ہیں۔ انسدادِ دہشتِ گردی عدالت راولپنڈی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے یہ تصویر کسی اور کو بھیجی اور چیک کرایا کہ یہ اے آئی سے بنی ہے یا حقیقی ہے، جس کے بعد اُنھیں بتایا گیا کہ یہ ’کچھ ماہ پرانی‘ اور ’گرمیوں کی‘ لگ رہی ہے۔علیمہ خان نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ یہ تصویر ’عمران خان کی قیدِ تنہائی سے پہلے کی ہے‘ اور عمران خان نے ’وہی جوتے پہن رکھے تھے، جو اُنھوں نے ملاقات کے دوران پہنے ہوتے ہیں۔‘ تاہم بی بی سی کو مختلف ٹولز استعمال کر کے یہ معلوم ہوا ہے کہ عمران خان کی وائرل تصویر آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی مدد سے بنائی گئی تھی۔ یہ تصویر سب سے پہلے پاکستان تحریک انصاف کے انصاف لائرز فورم کے سوشل میڈیا اکا¶نٹ سے شیئر کی گئی اور پھر یہ تیزی سے وائرل ہو گئی۔ پاکستان تحریک انصاف کے متعدد رہنما¶ں کی جانب سے اسے سوشل میڈیا پر شیئر کیا گیا، لیکن ساتھ یہ بحث بھی شروع ہو گئی کہ یہ تصویر اصلی ہے یا جعلی؟ آئی بی اے کراچی کے سینٹر فار ایکسیلینس ان جرنلزم کے پروگرام آئی ویریفائی نے بھی اپنی تحقیقات کے ذریعے ثابت کیا ہے کہ یہ تصویر جعلی ہے۔بی بی سی نے عمران خان کی اس وائرل تصویر کی حقیقت جاننے کے لیے گوگل کے ڈیپ مائنڈ کی ٹول ’سنتھ آئی ڈی‘ کی مدد حاصل کی۔ ٹیکنالوجی کمپنی ’گوگل‘ نے اگست 2023 میں گوگل مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے بنائی گئی تصاویر کا تعین کرنے کے لیے ڈیجیٹل واٹر مارک کا تجربہ کیا۔ گوگل کے مصنوعی ذہانت کے فیچر ’ڈیپ مائنڈ‘ کے تیار کردہ ’سنتھ آئی ڈی‘ کے ذریعے گوگل اے آئی سے بنی تصاویر کا پتہ چلایا جا سکتا ہے کہ یہ اصلی ہیں یا جعلی۔ بی بی سی نے بھی عمران خان کی اس تصویر سے متعلق ’سنتھ آئی ڈی‘ پر ڈالی اور پوچھا کہ یہ تصویر اصلی ہے یا جعلی۔ اس پر ’سنتھ آئی ڈی‘ نے بتایا کہ یہ تصویر گوگل اے آئی کے ذریعے بنائی گئی ہے۔ گوگل کا یہ فیچر تصاویر کے پکسلز کا انتہائی باریکی سے جائزہ لے کر انسانی آنکھ سے پوشیدہ واٹر مارک کو ڈھونڈ لاتا ہے۔ بی بی سی نے تو آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے ایک جدید ٹول کا استعمال کر کے یہ تصدیق کی کہ عمران خان کی یہ تصویر جعلی ہے۔ لیکن اس کے علاوہ بھی بہت سے طریقوں سے یہ پتا چلایا جا سکتا ہے کہ تصویر اصلی ہے یا جعلی۔ ایسی ہی تحقیق آئی بی اے کے آئی ویریفائی نے بھی کی ہے، جس میں عمران خان کے قریب کھڑے پولیس اہلکاروں، اڈیالہ جیل کے بلڈنگ ڈیزائن اور دیگر عوامل کا جائزہ لے کر بتایا ہے کہ یہ تصویر جعلی ہے۔ آئی ویریفائی نے ’فیکٹ چیک‘ اور اس تصویر کا بغور جائزہ لیا، جس میں مختلف تضادات سامنے آئے۔ جو پولیس اہلکار قریب کھڑے تھے، اُن کی وردی پر اُن کے نام کا ٹیگ دکھائی نہیں دے رہا تھا، جو اس تصویر کے اے آئی ہونے کا اشارہ ہے۔ اس کے علاوہ ایک تصویر میں ایک پولیس اہلکار جو وردی پہنے ہوئے ہے، اس پر روایتی پولیس وردیوں کی طرح کوئی جیب نہیں ہے۔ جبکہ عمران خان نے جو ٹرا¶زر پہن رکھا ہے، اس کے برانڈ کا نام بھی دُھندلا ہے۔ جب اس تصویر کی ’کی ورڈز‘ کے ذریعے سرچ کی گئی تو پاکستان کے کسی مستند نیوز چینل نے اس تصویر سے متعلق کوئی خبر نہیں چلائی اور نہ ہی پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما¶ں نے باضابطہ طور پر اس کے درست ہونے کی تصدیق کی۔


