وفاقی حکومت کا نوازشریف کو لندن سے واپس لانے کیلئے ایک بار پھر دفتر خارجہ کے ذریعے برطانیہ کو خط لکھنے کا اعلان
اسلام آباد : وفاقی حکومت نے سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف کو لندن سے واپس لانے کیلئے ایک بار پھر دفتر خارجہ کے ذریعے برطانیہ کو خط لکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ نوازشریف کو واپس لانے کیلئے تمام قانونی ذرائع استعمال کریں گے،میڈیکل رپورٹس میں ہیر پھیر کے ذریعے علاج کے لیے لندن گئے اور اب وہاں بیٹھ کر سیاست کررہے ہیں ،نوارشریف کی میڈیکل رپورٹس فورنزک کرایا جائیگا ،اپوزیشن پاکستان کے ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں جانے کے خطرات سے بخوبی آگاہ ہونے کے باوجود این آراو کے حصول کیلئے بلیک میلنگ کررہی ہے،اگر پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کردیا گیا تو اس کی ذمہ داری اپوزیشن پر ہوگی،مریم نوازشریف کوئی سیاسی رہنما نہیں ، انہیں پارٹء وراثت میں ملی،مریم نواز تقریریں کرنے کی بجائے نیب کے سوالات کے جواب دیں۔ ہفتہ کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی بلیک لسٹ میں جانے کی وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان سرمایہ کاری کرنے سے کترائیں گے اور کرنسی پر بھی دباؤ آئے گا، چیزیں مہنگی ہوجائیں گی جس سے عوام کو تکلیف پہنچے گی۔انہوں نے کہاکہ ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں آنے کے نقصانات جانتے ہوئے بھی ہم نے دیکھا کہ اپوزیشن اس پر بھی سیاست کررہی ہے اور سیاست تو انہوں نے حکومت کے پہلے دن کہ جب وزیراعظم نے حلف اٹھایا تھا اسی روز سے شروع کردی تھی، یہ پہلے دن سے کہنا شروع ہوگئے تھے کہ حکومت ناکام ہے۔سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ بنیادی طور پر یہ ہمیں اس لیے ناکام کرنا چاہتے ہیں کہ اس کی آڑ میں چاہے اس سے ملک کو نقصان پہنچے اس کی انہیں کوئی پرواہ نہیں ہے، انہیں پرواہ ہے تو صرف اپنے لوٹے ہوئے پیسوں کو بچانے کی ہے۔وزیراطلاعات نے کہا کہ یہ مسلسل بلیک میل کرتے آئے ہیں اور انہوں نے ہمیشہ این آر او مانگا ہے پھر یہ کہتے ہیں کہ این آر او کس نے مانگا تو جب اسمبلی کے سارے اجلاس دیکھ لیں اور جب کووِڈ 19 آیا تو وہ ایسی صورتحال تھی کہ جس میں ہمیں مکمل یکجہتی دکھانی تھی انہوں نے اس وقت بھی ہم پر دباؤ ڈالا کیوں کہ ان کا مقصد یہی تھا کہ یا تو ہلاکتیں اتنی ہوجائیں کہ حکومت کا تختہ الٹ دیا جائے یا مالی صورتحال اتنی نازک ہوجائے کہ اس وقت بھی حکومت جانے کے کا امکان ہوگا جس سے ان کے پیسے محفوظ رہیں اور جیل جانے سے بھی بچ سکیں گے تاہم وزیر اعظم عمران خان کہ جن کی نیت کے بارے میں دشمن بھی کہتے ہیں کہ ان کی نیت ٹھیک ہے اور وہ ملک، عوام خاص کر غریب عوام کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں، انہوں نے نیک نیتی سے غریبوں کا روزگار جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔انہوں نے کہا کہ دوسری جانب اپوزیشن یہ چاہتی تھی کہ لوگ بھوک سے بے شک مرجائیں لیکن کورونا سے نہ مریں جو عجیب منطق تھی لیکن وزیراعظم نے مستقل مزاجی سے اسمارٹ لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس مشکل سے نکال دیا۔انہوںنے کہاکہ وزیراعظم ایسے ہی نہیں کہتے کہ یہ این آر او مانگ رہے ہیں، اب ایف اے ٹی ایف کے کچھ قوانین منظور ہوگئے ہیں تاہم ابھی بھی چند باقی ہیں تاہم اپوزیشن کی پوری کوشش ہے کہ اس پر مذاکرات کرے کہ حکومت ان کو این آر او دے۔ایک دستاویز دکھاتے ہوئے کہا کہ یہ مسودہ اپوزیشن نے ہمیں بھیجا ہے جس میں ایک بل کے 37 پوائنٹس میں سے 34 پوائنٹس تبدیل کروانا چاہتے ہیں اور یہ تبدیلی ایسی نہیں کہ ملک اوپر چلا جائے کیوں کہ اس سے ملک کو فائدہ ہوتا تو ہم 100 مرتبہ کرتے تاہم انہوں نے کرپشن کی تشریح بھی اپنی مرضی کے مطابق کی ہوئی ہے یہ چاہتے ہیں کہ انہیں بالکل چھوٹ مل جائے۔وزیراطلاعات نے کہا کہ اس قسم کی بلیک میلنگ میں عمران خان نہ پہلے آئے تھے نہ اب آئیں گے بلکہ ہم ہمارا عزم زیاد مضبوط ہوگیا ہے کہ جہاں تک کرپشن کا تعلق ہے ہم کسی صورت ان کو ریلیف نہیں دیں گے کیوں کہ جو مہنگائی ہے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے ملک کا نظام اس طرح چلایا کہ اداروں اور معیشت دونوں کو تباہ کردیا۔شبلی فراز نے کہا کہ ان کی سیاست اور عمران خان کی سیاست میں فرق یہ ہے کہ عمران خان اس ملک کے لیے فیصلے کرتے ہیں چاہے اس کے لیے انہیں سیاسی قیمت ہی کیوں نہ ادا کرنی پڑے جبکہ یہ جو سیاست کرتے آئے ہیں وہ اپنی حکومتوں کو بچانے کے لیے کرتے آئے ہیں۔وزیراطلاعات نے کہا کہ عمران خان کی ان کے ساتھ ذاتی دشمنی نہیں ہے بلکہ وہ ملک دوستی میں یہ جدوجہد کررہے ہیں کہ اس ملک میں بہتری آئے عوام کو سہولتیں، صحت، تعلیم، چیزیں سستی ملیں اور امن و امان، قانون کی بالادستی قائم ہو یہی ہے ہماری سیاست کا ہدف ہے اور ہم سی پر کارفرما رہیں گے اور اپوزیشن کی کسی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ نوازشریف بیماری کا بہانہ بنا کر (بیرونِ ملک) چلے گئے تھے انہوں نے ڈاکٹروں اور اپنے ٹیسٹ کو دھوکا دیا یہ تو ماسٹر ہیں اس چیز کے اور جاکر بیٹھ گئے لندن میں جہاں علاج تو کیا ایک ایکسرے تک تو کیا نہیں ہے۔انہوںنے کہاکہ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے مصنوعی طور ہر ڈالر کی قیمت برقرار رکھی ،ڈالر کی قیمت برقرار رکھنے کے لیے اسحاق ڈار نے سالانہ چھ ارب ڈالر خرچ کیے،اب ہم ڈالر کی قیمت کو مارکیٹ ویکیو پر لے آئے ہیں۔


