جعلی آرڈیننس لاکر صدر زرداری کے ساتھ باریک واردات ڈالی گئی، سینیٹر پلوشہ خان
کراچی (ویب ڈیسک) پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی رہنما سینیٹر پلوشہ خان نے کہا ہے کہ جعلی دوائیوں اور جعلی ڈگریوں کا سنا تھا لیکن اب جعلی آرڈینس بھی آنے لگے ہیں، جعلی آرڈیننس لاکر صدر زرداری کے ساتھ باریک واردات ڈالی گئی۔ پیپلز سیکرٹریٹ میں پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما چودھری منظور احمد کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ کل ایک آرڈینینس بغیر صدر کے دستخط کے جاری ہوا، صدر زرداری کو بھی دھوکا دیا گیا اور ان کے ساتھ باریک واردات ڈالی گئی، صدر کے نام سے آرڈینینس جاری ہوا انہیں خبر ہی نہیں، حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ یہ غلطی سے ہو گیا۔ پلوشہ خان نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی یہی مشورہ دے گی کہ ہوش کے ناخن لیں، پاکستان ایسی غلطیاں افورڈ نہیں کر سکتا، جو بھی ایسی غلطی کر رہا ان کو اپنی صفوں سے باہر نکالیں اور جعلی آرڈینینس کی فیکٹری کو بند کیا جائے۔ حکومت نے غلطی تسلیم کرکے آرڈینینس واپس لیا لیکن ایسی غلطیاں حکومتی اتحاد کے لئے نقصان دہ ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل شپنگ کارپوریشن کی نجکاری نہیں ہونے دیں گے، سمجھ نہیں آتی انکو کون مشورے دیتا ہے، نجکاری پر پیپلز پارٹی کا واضح موقف ہے، پیپلز پارٹی اپنی آواز بلند کرے گی اور قوم کے سامنے حقائق لائے گی۔ پی ٹی آئی کے کراچی میں سیاسی پاور شو پر تبصرہ کرتے ہوئے پلوشہ خان نے کہا کہ باغ جناح بہت بڑا پارک ہے جسے بھرنا پی ٹی آئی کے لئے مشکل تھا، پی ٹی آئی نے اسی وجہ سے سڑک پر جلسہ کیا۔


