بلوچستان میں معدنی ذخائر کی حفاظت کیلئے انٹیلی جنس نیٹ ورک مضبوط اور خصوصی سیکورٹی فورس قائم کرنے کا فیصلہ

کراچی (ویب ڈیسک) پاکستان نے معدنیات سے مالا مال صوبہ بلوچستان اور ایران و افغانستان سے ملنے والی سرحدوں کی حفاظت کے لیے انٹیلی جنس نیٹ ورک مضبوط کرنے اور ایک خصوصی سیکورٹی فورس قائم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ صوبائی حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے ہفتے کے روز اس بات کی تصدیق کی۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب کینیڈا کی بڑی مائننگ کمپنی بیریک گولڈ نے بلوچستان میں واقع اربوں ڈالر کے ریکو ڈک تانبہ و سونا منصوبے کے تمام پہلوﺅ¿ں کا فوری طور پر ازسرِنو جائزہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کے معاون شاہد رند نے عرب نیوز کو بتایا کہ حالیہ دہشت گردی کے واقعات کے بعد صوبائی حکومت اور سیکورٹی ادارے مل کر سیکورٹی نظام کو ازسرِنو ترتیب دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، ”اس منصوبے کے تحت معدنی علاقوں کے لیے خصوصی فرنٹیئر کور تشکیل دی جائے گی اور ایران و افغانستان سے ملنے والی سرحدوں کو محفوظ بنایا جائے گا۔“ صوبائی حکومت انٹیلی جنس نظام کو مزید موثر بنانے اور مائننگ کمپنیوں کے ساتھ قریبی تعاون بھی کرے گی۔ شاہد رند کے مطابق حکومت بلوچستان غیر ملکی سرمایہ کاری کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہی ہے اور ریکو ڈک منصوبے کو صوبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا علمبردار سمجھتی ہے۔ بیریک گولڈ کے ترجمان نے عرب نیوز کو بتایا کہ کمپنی ریکو ڈک منصوبے کی سیکورٹی، ترقیاتی شیڈول اور سرمایہ جاتی اخراجات سمیت تمام پہلوﺅ¿ں کا جائزہ لے رہی ہے، جس کا آغاز فوری طور پر کیا جاچکا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں

Logged in as Bk Bk. Edit your profile. Log out? ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے