خضدار میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ، پانی کی قلت، مچھروں کی بہتات،شہری شدید اذیت میں مبتلا، کیسکو چیف سے نوٹس لینے کا مطالبہ

خضدار (بیورو رپورٹ) خضدار شہر اور گردونواح میں واپڈا کی جانب سے بجلی کی غیر اعلانیہ اور انوکھی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے، محکمہ واپڈا نے متبادل راتوں کا غیر تحریری شیڈول نافذ کر رکھا ہے، اس شیڈول کے تحت ایک رات بجلی فراہم کی جاتی ہے جبکہ دوسری رات مکمل طور پر بجلی غائب کردی جاتی ہے، اس عمل سے شہری شدید ذہنی اذیت اور جسمانی تکلیف میں مبتلا ہیں، شدید گرمی اور حبس کے موسم میں رات کی بجلی بندش نے نظام زندگی درہم برہم کر دیا ہے بچے، بوڑھے اور مریض رات بھر جاگنے پر مجبور ہیں کمروں میں پنکھے بند ہونے سے گھروں میں حبس بڑھ جاتا ہے، مچھروں کی بہتات کے باعث ملیریا ڈینگی اور ٹائیفائیڈ جیسے امراض پھیلنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ سلسلہ نئے ایکسیئن کی تعیناتی کے فوراً بعد شروع ہوا ہے۔ اس سے قبل رات کے اوقات میں بجلی کی ترسیل نسبتاً بہتر تھی اب صورتحال یہ ہے کہ رات 11:30 کے بعد پورا شہر تاریکی میں ڈوب جاتا ہے بجلی کے بند ہونے سے رات کے وقت چوری کی وارداتوں کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے، گھروں، مساجدوں کو پانی بھرنے اور دیگر کاموں میں مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ اکثر علاقوں میں پانی رات کو فراہم کیا جاتا ہے، اور گھروں مساجدوں کی موٹریں بجلی سے چلتی ہیں متعدد محلوں میں پینے کے صاف پانی کا بحران شدت اختیار کرگیا ہے۔ ذرائع کے مطابق رات کی لوڈشیڈنگ سے اسپتالوں میں ایمرجنسی کیسز نمٹانا دشوار ہوچکا ہے جنریٹرز کا مسلسل استعمال ڈاکٹروں اور مریضوں کے لیے اضافی مالی بوجھ ہے مساجدوں میں نمازیوں کو فجر کے وقت سخت پریشانی ہورہی ہے۔ شہری حلقوں نے اس طرزعمل کو واپڈا کی حسبِ روایت ظلم و زیادتی قرار دیا ہے، خضدار کے عوامی و سیاسی حلقوں نے بھی اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ خضدار پہلے ہی دنیا بنیادی سہولیات سے محروم ضلع ہے، ایسے میں بجلی جیسی بنیادی ضرورت سے کو محروم رکھنا سراسر ناانصافی ہے شہریوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر رات کی بجلی فوری بحال نہ کی گئی تو واپڈا کیخلاف عوام احتجاج کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں