گھر پربم حملے کی مذمت، ایسے عناصر کی سرکوبی کی جائے، کریم نوشیروانی
کوئٹہ:بلوچستان عوامی پارٹی کے سینئر نائب صدر اور سابق صوبائی وزیر میر عبدالکریم نوشیروانی نے دو روز قبل خاران میں انکی اور شعیب نوشیروانی کی رہائش گاہ پر دستی بموں سے حملے اور فائرنگ کے واقعے پر اپنے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک بزدلانہ عمل قرار دیا ہے۔یہاں جاری کئے گئے اپنے ایک بیان میں اُنہوں نے کہا کہ ہم اس افسوسناک واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور اسے بلوچ روایات اور اقدار کے خلاف سمجھتے ہوئے اس میں ملوث عناصر کو خبردار کرتے ہیں کہ وہ اپنی ان بزدلانہ حرکتوں سے ہمیں جھکا نہیں سکتے اور نہ ہی خاران کے عوام کے دلوں سے نکال سکتے ہیں ہم ان عناصر کو اچھی طرح جانتے ہیں ہم نے پہلے بھی ان کا مقابلہ کیا تھا اور آئندہ بھی کریں گے میر عبدالکریم نوشیروانی نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ شرافت کی سیاست کی ہے اور ہم خاران کے عوام کی خدمت یوں ہی جاری رکھیں گے اور اس میں آنے والی ہر رکاوٹ کو دور کرنے کیلئے عوام کی ہی طاقت کو استعمال کریں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ خاران میں 25 اگست کو میر اعجاز سنجرانی کی آمد کے موقع پر اسی گھر میں ہم نے بلوچستان عوامی پارٹی کا ورکرز کنونشن کیا تھا جس میں پارٹی کے مرکزی عہدیداران ملک خدا بخش لانگو، فتح جمالی اور دیگر قائدین نے بھی شرکت کی تھی اس ورکرز کنونشن میں ہزاروں کی تعداد میں خاران کے لوگوں نے شرکت کی ہم نے اس کے علاوہ 26 کو واشک میں اگست کو دالبندین کے علاوہ نوشکی میں غلام دستگیر بادینی کی سربراہی میں بھی ایسے بڑے عوامی اجتماعات کرچکے ہیں اس ریجن میں پارٹی کے کامیاب عوامی اجتماعات سے منفی سوچ رکھنے والے عناصر گھبرا کر اس طرح کی بزدلانہ حرکتوں پر اُتر آئے ہیں جس کی نہ صرف ہم مذمت کررہے ہیں بلکہ ان بزدلانہ حرکتوںکی پورے ملک کے ساتھ ساتھ دبئی کے شیوخ نے بھی مذمت کی ہے دبئی سے شیخ خلفان، شیخ محمد عیسیٰ اور شیخ سعید نے فون کرکے اس بزدلانہ حرکت کی مذمت کی ہے اور اسے بلوچی روایات کے منافی قرار دیا ہے۔ میر عبدالکریم نوشیروانی نے مزید کہا کہ میں خاران کے قبائلی سرداروں، معتبرین سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس کا فوری نوٹس لیں اور ایسے عناصر کی نشاندہی کرکے ان کی سرکوبی کی جائے اگر آج بھی انہیں ان بزدلانہ حرکتوں سے نہ روکا گیا تو مستقبل میں ان سے کسی کی بھی عزتیں محفوظ نہیں رہیں گی۔اُنہوں نے کہا کہ خاران میں منعقد ہونے والا کامیاب ورکرز کنونشن ایک ٹریلر تھے نومبر میں وزیراعلیٰ جام کمال اور چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کو خاران آنے کی دعوت دی ہے اور اس موقع پر ہم ان منفی سوچ رکھنے والے عناصر کو پوری فلم دکھائیں گے اور اینٹ کا جواب اب پتھر سے دیا جائے گا۔آخر میں اُنہوں نے ڈپٹی کمشنر خاران سمیت تمام انتظامیہ، فرنٹیئر کور کے حکام اور دیگر اداروں کا بھی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس افسوسناک واقعے کی اطلاع جیسے ہی انہیں ملی اور انہوں نے جس طرح سے رسپانس دیا اور علاقے کو گھیرے میں لے کر ملزمان کی گرفتاری کیلئے اقدامات اُٹھائے ہیں وہ بھی قابل تعریف عمل ہے جس پر ہم ان تمام کے مشکور ہیں۔


