موجودہ حکومت کو مزید اقتدار میں رہنے کا کوئی جواز نہیں ، غفور حیدری
مانسہرہۛ جمعیت علماء اسلام کے مرکزی جنرل سیکرٹری جنرل سابق چیئر مین سینٹ آف پاکستان سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ موجودہ حکومت کو مزید اقتدار میں رہنے کا کوئی جواز نہیں ، موجودہ حکومت آٹا چور، چینی چورکی پشت پنائی کر رہی ہے ، حکومت نے عوام کا جینا حرام کر دیا ہے ، موجودہ حکومت کا فارن فنڈنگ کیس میں حکومت لیت و لعل سے کام لے رہی ہے۔ حکومت کے خلاف جلد رہبر کمیٹی کا اجلاس طلب کیا جائے گا۔ جس میں حکومت کے خلاف تحریک کا آغازکریں گے ۔ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کر چکے ہیں۔ اور تمام اپوزیشن جماعتیں پر عزم ہیں ،ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوکر حکومت کے خلاف جنگ کا طبل بجائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے مانسہرہ میں حاجی طاہر کے بھائی جمعیت علماء اسلام برطانیہ کے امیر مفتی اسلم کے برادرنسبتی اور سربلند خان کی دادی کی وفات پر تعزیت کرتے ہوئے کیا۔اور محمد جان کی رہائش گاہ ہل کوٹ میں ظہرانہ دیا گیا ۔ اس موقع پر جمعیت علماء اسلام کے پی کے کے سینئر نائب امیر قائم مقام امیر جمعیت علماء اسلام ضلع مانسہرہ سابق سینیٹر مولانا سید ہدایت اللہ شاہ ، ممتاز قانون دان قاری عبدالرشید ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان، ضلعی جنرل سیکرٹری مولانا ناصر محمود ، مولانا قاضی اورنگزیب ، مفتی ابرار، مفتی وقار الحق عثمان، مولانا ثاقب شاہ ، قاری ریاض ، شفیق الرحمن ہل کوٹ ،عبدالوحید خان سواتی اور دیگر موجود تھے۔انہوںنے کہا کہ 7ستمبر 2020ئ کو جمعیت علماء اسلام کے پی کے پشاور میں ایک تاریخ ساز ختم نبوت کانفرنس منعقد کر رہی ہے۔ انہوںنے کہا کہ اس کانفرنس کو کامیاب بنانے کیلئے ورکر بھرپور محنت کریں ،انہوںنے کہا کہ دو سال مکمل ہو چکے ہیں اس حکومت کی کوئی کارکردگی نہیں ہے۔یہ ہماری خدمت کیلئے نہیں بین الاقوامی اسٹیبلیشمنٹ کے اشارے پر آئیں ہیں۔ اس وقت پوری قوم ان حکمرانوںکے خلاف نکلنے کیلئے تیار ہے ۔ ان حکمرانوںنے معاشی طور پر قوم کو کنگال کر دیا ہے۔ داخلہ پالیسی سے انتشار پھیل رہا ہے ، حارجہ پالیسی سے ہم خطہ میں تنہا ہو گئے ہیں ہماری داخلہ اور خارجہ پالیسیاں ناکام ہو چکی ہیں۔ انہوںنے کہا کہ اس وقت ختم نبوت کے قانون کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ قادیانی لابی متحرک ہو چکی ہے۔ جمعیت علماء اسلام ان کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ، جمعیت علماء اسلام کے ہوتے ہوئے دنیا کی کوئی طاقت ختم نبوت کے قانون میں ترمیم نہیں کر سکتی ۔ 7ستمبر 1974ئ کو قادیانی کو غیرمسلم اقلیت قرار دے دیا گیا ہے ۔ اس کے پیچھے ہمارے اکابرین کی بہت بڑی قربانیاں ہیں اور 7ستمبر کو ہم یوم فتح کے نام سے منانے رہے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ اس وقت قادیانیوں کو تحفظ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام عالمی قوتوں کو بتانا چاہتی ہے کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے اور اس میں قرآن و سنت کا ہی قانون چلے گا۔ قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون سازی نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عالم کفر ایک مرتبہ پھر نبی کریم ﷺ کے قانون پر حملہ آور ہو رہا ہے ، اور اس کے دفاع کیلئے پوری امت مسلمہ یکجا ہے۔ عالمی کفر کی یہ خواہش کبھی پوری نہ ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ 7ستمبر کو پشاور میں ہونے والی ختم نبوت کانفرنس باطل قوتوں اور ناموس رسالت کے قانون کو ختم کرنے والوں کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو گی ، جمعیت علماء اسلام کے ورکر اس کانفرنس کو کامیاب بنانے کیلئے گلی گلی، کوچے کوچے اس کاپیغام عام کریں۔


