تحریک بحالی بی ایم سی کی جانب سے 3ستمبر کو ہونے والے احتجاجی مظاہرے کی حمایت کرتے ہیں: بی ایس او شال زون

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کوئٹہ زون کے ڈپٹی آرگنائزر نزیر بلوچ ، یاسر بلوچ ڈاکٹر عاطف بلوچ ڈاکٹر مقبول بلوچ عاطف رودینی بلوچ اور شکور بلوچ نے مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ایک سوچے سمجھے سازش کے تحت بلوچستان کے طلباء کو تعلیم سے دور رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہیں چاہے وہ جامعہ بلوچستان اسکینڈل ہو سوئی گرلز کالج کا واقعہ ہو، بی ایم سی ایکٹ میں ترمیم ہو، حیات بلوچ کے ساتھ افسوس ناک واقعہ ہو، یا پنجاب میں جامعات میں بلوچستان کے طلباء کیلئے اسکالرشپ کی بندش ہر طرف سے ہی بلوچستان کے طلباء کو تعلیم سے دور رکھنے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں بلوچستان پہلے سے کئی محرومیوں کا شکار ہے ستر سالوں سے بلوچستان کو ہر حکومت نے نظر انداز کیا ان کے طرف کوئی توجہ نہیں دیتا لیکن جب بلوچستان کے باسی اپنے آئینی حق استعمال کرتے ہوئے اپنا حق مانگتے ہیں پر امن احتجاج کرتے ہیں تو انہیں شدت پسند کہہ کر ان کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جاتی ہے جو جمہوری ریاست کے دعویداروں کیلئے سوالیہ نشان ہے۔
بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن نے ہر اس سازش کے خلاف اپنا کردار ادا کیا ہے جو تعلیم دشمن، بلوچ قوم و بلوچستان کے سرزمین و باسیوں کے خلاف ہو یا ہمیشہ جدوجھد و قربانی سے ان سازشوں کو ناکام بنایا ہے تحریک بحالی بی ایم سی میں روز اول سے کردار ادا کر رہا ہے جس میں بی ایس او بی ایم سی یونٹ کا کردار مثالی رہا ہے بی ایم سی ہونٹ اور دیگر طلباء تنظیموں اور ایپکا ملازمین کے خدمات اور قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہے اور 3 ستمبر کو ہونے والے احتجاج کا مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے تمام علم دوست وطن دوست اور ہر مقتبہ فکر کے لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس احتجاج میں شامل ہوکر قومی جہد میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ ہم اتحاد جدوجھد سے ان سازشوں کو ناکام بنا کر اپنے آنے والے نسلوں کیلئے تعلیم جیسا عظیم تحفہ دے سکے

اپنا تبصرہ بھیجیں