سرپلس بجلی کے باوجود بلوچستان کو ایک میگاواٹ بھی فراہم نہیں کیا جارہا ہے،ثناء بلوچ

کوئٹہ:بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما و رکن صوبائی اسمبلی ثنا اللہ بلوچ نے کہا ہے کہ آج بلوچستان میں کربلا کا منظر ہے بجلی سرپلس یعنی اضافی ہے لیکن بلوچستان کو ایک میگاواٹ بھی فراہم نہیں کیا جارہاملک کو 16سو میگا واٹ بجلی فراہم کرنے والے بلوچستان کو صرف 400میگا واٹ بجلی فراہم کی جارہی ہے جبکہ اوچ اور حبکو پاور پلانٹ سے بلوچستان کو گزشتہ 15سے 20سالوں میں ایک میگا واٹ بجلی کی فراہم نہیں کی جارہی ان خیالات کا اظہار انہوں نے سوشل میڈیا پربلوچستان میں بجلی کی صورتحال سے متعلق ویڈیو پیغام میں کیا ثناء بلوچ نے کہا کہ پاکستان میں سی پیک بجلی سرپلس یعنی اضافی ہے لیکن بلوچستان کو ایک میگاواٹ بھی فراہم نہیں کیا جارہا اور نہ ہی ایک میٹر کی کوئی لائن بچائی گئی آج بلوچستان میں کربلا کا منظر ہے دیہی علاقوں میں صرف 2 گھنٹہ بجلی دستیاب جو کم وولٹیج کی وجہ سے پانی کی پمپنگ بھی ممکن نہیں انہوں نے کہا کہ 12کے قریب پروجیکٹس مشرقی روٹ پر تعمیرکئے گئے ہیں جو اکثریت سینٹرل پنجاب میں ہیں جبکہ 5کے قریب سندھ اور 2تھر میں ہیں اس میں ہوا سے بننے والے پروجیکٹ بھی شامل ہیں جس سے 16ہزار میگا واٹ بجلی پیدا ہوگی اور بعد میں یہ بجلی،نیشنل گریڈ میں شامل کی جائیگی اور جہاں بجلی کی زیادہ ضرورت ہوں وہاں بھیج دی جائے گی انہوں نے کہا کہ یہاں ایک بہت بڑا ٹرک یہ ہے کہ جس طرح سوئی گیس تربت تک نہیں پہنچائی جاسکی ہے جس کی اہم وجہ ٹرانسمیشن لائن ہے اسی طرح بجلی بھی یہاں نہیں پہنچائی جاسکی اس کیلئے کم سے کم 500kvلائن ضروری ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 5ہزار کلومیٹر سے زیادہ 500kvکی ٹرانسمیشن لائنیں ہیں اور کل 13کے قریب گرڈ اسٹیشن 500kvکے ہیں جس میں ایک بھی گرڈ بلوچستان میں نہیں ہے یہ سارے سندھ اور پنجاب میں جبکہ 1پشاور میں ہے تاہم حیرانی کی بات یہ ہے کہ 500kvکی 27کلو میٹر لائن ہے بلوچستان میں حب کو اور اوچ پاور پلانٹ سے 16سو میگا واٹ بجلی بن رہی ہے جبکہ بلوچستان کو صرف00 4سو میگا واٹ بجلی فراہم کی جارہی ہے حبکو میں پیدا ہونے والی بجلی 500kvلائن کے ذریعے کراچی منتقل کی جارہی ہے جبکہ اوچ کی بجلی شکار پور لے جائی جارہی ہے انہوں نے انکشاف کیا کہ اوچ اور حبکو پاور پلانٹ سے بلوچستان کو گزشتہ 15سے 20سالوں میں ایک میگا واٹ بجلی کی فراہم نہیں کی جارہی انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو بجلی کی فراہمی کیلئے 20سے 25سال ٹرانسمیشن لائن بچھانے میں لگے گی بلوچستان میں اس وقت 132اورkv 65کی لائنیں موجود ہیں ان لائنوں میں مزید بجلی برداشت کرنے کی سکت نہیں یہاں آنے والے بیوروکریٹس اس طرح کے معلومات سے واقفیت نہیں رکھتے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں