ماربل سٹیز کے منصوبے میں نجی شعبے سے بھی شراکت داری کی جاے، جام کمال

کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی زیر صدارت منعقد ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں صوبے کے معدنی وسائل کی تلاش و ترقی کے لئے قائم کی گئی کمپنیوں بلوچستان منرل ایکسپلوریشن کمپنی اور بلوچستان منرل ریسورسز کمپنی لمیٹڈ کے امور کا جائزہ لیتے ہوئے فیصلہ کیا گیا ہے کہ ان کمپنیوں کے رولز میں ایسی شقیں بھی شامل کی جائیں گی جن کے تحت ان کمپنیوں کومائننگ لیزکے حصول اور پبلک پرائیویٹ پاٹنر شپ کے تحت معدنی منصوبے بنانے کا قانونی تحفظ حاصل ہوگا، سیکریٹری محکمہ معدنیات و معدنی ترقی ظفر بخاری نے اجلاس کو بی ایم ای سی اور بی ایم آر ایل سے متعلق امور پر بریفنگ دی، سیکریٹری اطلاعات شاہ عرفان غرشین، اسپیشل سیکریٹری محکمہ خزانہ لعل جان جعفر، ڈائریکٹر جنرل معدنیات اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلا س میں شرکت کی، اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ معدنی شعبہ میں کمپنیوں کے قیام کا مقصد بلوچستان کے قیمتی معدنی وسائل کی تلاش وترقی، ان کا تحفظ اور انہیں صوبے کے معاشی استحکام کے لئے بروئے کار لانا ہے، انہوں نے کہا کہ معدنیات کے شعبہ میں ایسی جامع حکمت عملی اپنانے اور موثر پالیسیاں بنانے کی ضرورت ہے جن سے ہم اپنے معدنی وسائل کو بھرپور طور پر بروئے کار لاسکیں جس کی بے پناہ گنجائش موجود ہے، معدنی ذخائرکے حامل ممالک نے بہتر پالیسیوں اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعہ ترقی حاصل کی ہمیں بھی ان کی تقلید کرنے کی ضرورت ہے، وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ بی ایم ای سی اور بی ایم آر ایل کے ٹرمز آف ریفرنس میں جدت کرتے ہوئے ایسی شقیں شامل کی جائیں جن کے ذریعہ یہ کمپنیاں خودمختارحیثیت سے معدنی ذخائر کی تلاش وترقی کے منصوبوں میں حصہ لے سکیں، وزیراعلیٰ نے کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں معدنی شعبہ کے ماہرین کو شامل کرنے کی ہدایت بھی کی، وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے کے وسائل کے حامل دیگر شعبوں کو بھی کمپنی موڈ پر لے جانے کے بہتر نتائج مل سکتے ہیں، قبل ازیں سیکریٹری معدنیات نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ بی ایم آر سی کی سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان میں رجسٹریشن ہوگئی ہے جبکہ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تشکیل کی جارہی ہے جس میں معدنی شعبہ کے ماہرین کی نمائندگی بھی ہوگی، کمپنی میں نوے فیصد شیئر حکومت بلوچستان جبکہ 10فیصد شیئر وفاقی حکومت کا ہے، اس حوالے سے وفاقی اور صوبائی حکومت کے درمیان معاہدے پر دستخط ہوچکے ہیں، کمپنی کو ابتدائی دوسالوں میں 3.2ارب روپے فراہم کئے جائیں گے۔ رواں مالی سال میں حکومت بلوچستان نے 1.44روپے مختص کئے ہیں، محکمہ کے جاری اور نئے منصوبوں کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ان میں 100ملین روپے کی لاگت سے مائن ریسورس میپنگ، 300ملین روپے کی لاگت سے محکمہ کے افسران کی استعداد کار میں اضافہ کا پروگرام، 70ملین روپے کی لاگت سے مختلف علاقوں میں وزن کے ڈیجیٹل کانٹوں کی تنصیب، 150ملین روپے کی لاگت سے رائیلٹی کی وصولی کے نظام کی کمپیوٹرائزیشن، 500ملین روپے کی لاگت سے منرل کمپلیکس کا قیام، 10ملین روپے کی لاگت سے دکی میں مائننگ ریسورس سینٹر کا قیام اور وفاقی حکومت کی جانب سے 300ملین روپے کی لاگت سے میٹل پارک کا قیام شامل ہے، انہوں نے بتایا کہ 23سو ملین روپے کی لاگت سے خام معدنیات کی ویلیو ایڈیشن کے لئے مختلف علاقوں میں پلانٹس قائم کئے جائیں گے، اس منصوبے کے تحت دالبندین میں آئرن اور پلانٹ، مسلم باغ میں کرومائیٹ پروسیسنگ پلانٹ، کوئٹہ میں کول واشنگ پلانٹ، لسبیلہ میں بیرائیٹ گرائینڈنگ پلانٹ، دالبندین، خضدار، لورالائی اور بیلہ میں ماربل کٹنگ اینڈ پالیشنگ پلانٹ نصب کئے جائیں گے، وزیراعلیٰ بلوچستان نے اس موقع پر ہدایت کی کہ صوبے میں تین ماربل سٹی کے قیام کے منصوبے میں نجی شعبے سے بھی شراکت داری کی جائے۔وزیراعلیٰ نے معدنی ذخائر کی تلاش وترقی کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور سروے کے عمل میں بین الاقوامی فرموں کے تعاون اور سرٹیفکیشن کے حصول کی ہدایت کی،وزیراعلیٰ نے مائننگ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم سمیت جدید آلات کی خریداری کے منصوبوں کے لئے مختص فنڈز کے فوری اجراء کی ہدایت بھی کی جبکہ انہوں نے منرل شو اور سیمیناروں کے انعقاد کی ہدایت کی جن کے ذریعہ صوبے کے معدنی ذخائر کی صلاحیت کو اجاگر کیا جاسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں