نشتن گفتن برخاستن
جمشید حسنی
زیر نظر سطور کی اشاعت تک عمران خان کراچی میں ہوں گے گورنر ہاؤس میں بیٹھ کر کراچی کے مسائل پر سنیں گے بولیں گے شاید اس بار وزیر اعلیٰ سے بھی ملاقات ہو شبلی فراز کہتے ہیں سندھ حکومت کراچی کیلے دس ارب ڈالر مانگ رہی ہے سندھ حکومت کہتی ہے مرکز نے ہمارے حصہ کے 126 ارب روپیہ دینا ہے وہ دے اب تحریک انصاف نے بھی کراچی سے قومی اسمبلی کی بارہ تیرہ نشتیں لی ہیں کراچی پرپیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کی اجارہ داری رہی ہے تحریک انصاف کے نمائندے وہ ہیں جو لندن امریکہ میں پلے بڑھے۔ دہری شہر تیں انہیں لیاری گولیمار سہراب گوٹھ میں زندگی گزارنے کا کوئی تجربہ نہیں وزیر اعظم کہتے ہیں ٹیکس محاصل 17 ارب روپیہ کم وصول ہوئے نیپرانے کراچی میں بے جا لوڈ شیڈنگ بدانتظامی پر کے الیکٹرک کو بیس کروڑ روپیہ جرمانہ کیا ہے۔ اپیلیں چلتی رہیں گی گیس سلنڈر مہنگا ہو کر 1382 روپیہ کا ہوگیا کراچی بلکہ پورے سندھ میں برسات جاری ہے۔ بلدیاتی نمائندے تو ویسے بھی فارغ ہوگئے نئے بلدیاتی انتخابات ہوتے ہیں یا نہیں اختیارات فنڈز ملتے ہیں یا نہیں پہلے میئر تو بس خطوط گنواتے رہے ہیں میں نے اتنے وزیر اعظم کو اتنے گورنر وزیر اعلی کو اتنے اسپیکر قومی اسمبلی کو اتنے خطوط لکھے میرے پاس اختیارات نہیں ہے۔ چیف جسٹس نے کہا تو پھر گھر جاؤ جان چھوڑو اب ایڈ منسٹر میئر کیا کرپائیں گے۔ کراچی شہر سے پانی نہیں نکالا جاسکا انڈر پاس نالوں کی صفائی ہے۔ ایک وفاقی وزیر کہتے ہیں کراچی ڈیفینس میں ہزار ایکڑ کا پلاٹ دس کروڑ روپے میں ہے۔ دوسری طرف وہ کہتے ہیں وہ بے گھر ہیں جنہوں نے تجاوزات گرا کے نالوں پر رہائش کیلئے کچے کمرے بنارکھے ہیں اب وہ بھی چھن جائیں گے۔ کراچی نیویارک نہیں جب نیویارک شہر کی تعمیر کا منصوبہ بنا تو جہاں شہربسانا تھا وہاں ساری زمین کو سمینٹ کے فرش سے پختہ کیا گیا ہم سہراب گوٹھ بساتے رہے میونسپلٹی کی لیٹرین میں رفع حاجت کیلئے دس روپیہ دینے پڑتے ہیں
اب بھی اگر مرکز اور صوبہ اتفاق رائے سے منصوبہ بندی کریں نیت صحیح ہو تو کراچی کی بحالی مسئلہ نہیں اب اسے نیویارک پیرس سنگاپور کی طرح نہ بنائیں کراچی ہی رہنے دیں ترقیاتی فنڈز صحیح طریقہ پر خرچ ہوں عوام میں شعور پیدا کریں معاملات ٹوئٹر پریس کانفرنسوں ٹی وی ٹاک شو جلوسوں مظاہروں سے حل نہیں ہوتے اقتدار کیلئے سیاسی لیڈر سب کچھ بالائے طاق رکھ دیتے ہیں۔ لوگ مجبور ہیں قیادت آسمان سے نہیں اترتی یہی لو گ ہوں گے یہی لیڈر ہوں گے نسل در نسل ٹیکس کلچر نہیں مسائل رہیں گے بلدیات کو بے عمل کردیا گیا بلدیاتی نمائند ے بھی تو ہم آپ سے ہوں گے گلیوں کے سروں پر آئینی گیٹ لگانا شہری سہولت نہیں کراچی کی سڑکیں بیٹھ گئیں کروڑوں تعمیر پر خرچ ہوں گے نالوں کی صفائی پر کتنا خرچ ہوا کتنا خرچ ہوگا کوئی نہیں جانے گا عمران خان کے کراچی کاد ورہ مسئلے کا حل نہیں مستقل مانیٹرنگ صحیح افراد کا انتخاب کرنا ہوگا صوبائی حکومت مرکزی حکومت کے گر یہ زاری سے عوام کو نہیں ورغلایا جاسکتا۔
آج پورے امریکہ میں ایک کالے کی موت پر مظاہرے ہیں۔لبنان میں دھماکہ ہوا وزیراعظم مستعفی ہوئے مصطفےٰ ادیب نئے وزیر اعظم ہے۔پرانے سیاستدان ہیں، مسئلہ معاشی بدحالی ہے۔امریکہ میں صدارتی انتخابات ہونے ہیں۔وہاں حکومتی پالیسیاں مستقل ہوتی ہیں۔شخصیات کے آنے جانے سے فرق نہیں پڑتا افغان مسئلہ ٹھنڈا ٹھنڈا ہندوستان میں کرونا ہے 64000اموات ہوچکی ہیں۔مقبوضہ کشمیر اور چین کی سرحد پر تنازعات ہیں 22مسلمان عرب ممالک مسائل کا شکار ہیں یمن کا مسئلہ لٹکا ہوا ہے شام میں بشار الاسد مستحکم ہوگئے ہیں عرب امارات نے اسرائیل سے تعلقات اور فضائی رابطے بحال کرلئے اسرائیل ہوائی کمپنی ELALکا جہاز سعودی عرب کی حدود سے گزر کراسرائیل پہنچاتھا۔سعودی عرب نے فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت دی۔عراق سے امریکی فوجیں نکل رہی ہیں۔افغانستان میں امریکی افواج کی تعداد کم کردی گئی ہے۔امریکی صدارتی انتخابات ہیں دوماہ رہ گئے ہیں خیال نہیں کہ امریکی حکومت عالمی سطح پر سیاسی مسائل میں کوئی اہم کردار ادا کرے گی اس کو انتخابا ت میں روس ایران چین کی مداخلت کا خدشہ ہے۔افغان طالبان قیدی رہا ہوگئے ہیں۔
ادھر ہمارے ہاں لوگ مہنگائی کے عادی ہوگئے ہیں،حزب اختلاف کی پارٹیاں کب اکھٹی ہوتی ہیں ایجنڈا کیا ہوگا کچھ نہیں معلوم بات تو عوام کے رد عمل کی ہے آیا عوام ان پر اعتماد کرے گی،پیپلزپار،مسلم لیگ ن کے لیڈر پیشیاں بھگت رہے ہیں۔حکومت فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی پابندیوں سے جان چھڑانا چاہتی ہے۔حکومت اس کی اور ورلڈ بینک کی شرائط بلاچوں وچراں مان رہی ہے۔قانون سازی کی کوشش ہورہی ہے۔ڈالر168روپیہ کا ہوگیا۔دوسال میں بس صرف پشاور میٹرو چلی،چینی والے جہانگیر ترین لندن جابیٹھے۔نیب تنقید کی زد میں،تعلیمی ادارے بند ہیں۔ٹڈل دل ہے معاشی عدم استحکام ہے عام آدمی مایوس ہے برآمدات کم ہیں۔بیرونی قرضے ہیں،کابینہ کی فوج ظفر فوج ہے،بس ٹی وی پر ٹاک شوک دیکھیں اینکر پرسنز کا میاب چست چالاک باتیں المرنشرح۔
صابن سے ہاتھ دھوئیں،سینٹائرز استعمال کریں،ماسک پہنیں ہاتھ نہ ملائیں گھر میں رہیں بور ہوجائیں تو گھر میں لڑ کر جھگڑے نہ کریں زیادہ پاکستان نہ ہوتی تبدیلی آرہی ہے گھر بنیں گے روز گار ملے گا۔


