میرحاصل بزنجوکی جدوجہد ترقی پسند سیاست کا ایک روشن باب ہے،کبیر محمدشہی

پشاور:پختونخواہ جمہوری اتحاد کی جانب سے پشاور پریس کلب میں نیشنل پارٹی کے قائد میر حاصل خان بزنجو مرحوم کی یاد میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل پارٹی کے سینئیر نائب صدر سینیٹر میر کبیر احمد محمد شہی نے کہا ہے کہ میر حاصل خان بزنجو کی بے وقت رحلت سے پاکستان بھر کے محکوم اقوام اور محروم طبقات کے حق میں اٹھنے والی ایک توانا ا?واز خاموش ہوگئی۔ میر حاصل بزنجو نے زمانہ طالب علمی سے لے کر زندگی کے ا?خری ایام تک اپنے اصولوں اور میر غوث بخش بزنجو کے فکر و فلسفہ پر کاربند رہتے ہوئے ملک میں وفاقی جمیوریت، پارلیمان کی بالادستی، قومی برابری اور مظلوم و محنت کش عوام کے حقوق کے لیے جمہوری انداز میں پرامن سیاسی جدوجہد کی۔ میر حاصل بزنجو نہ صرف بلوچستان بلکہ ملک بھر میں مظلوم و محکوم عوام کے حقوق اور استحصال سے پاک سماج کی تشکیل کے لیے جدوجہد کرنے والی قوتوں کے رہنمائ￿ تھے۔ انکی زندگی جمہوری جدوجہد پر یقین رکھنے والے کارکنوں کے لیے ایک عملی نمونہ ہے جبکہ انکی جدوجہد پاکستان میں ترقی پسند سیاست کا ایک روشن باب ہے۔ میر کبیر کا مزید کہنا تھا کہ میر حاصل نے ملک میں جمہوریت کی بحالی اور صوبوں کو اختیارات کی منتقلی کے حوالے سے ایک بھرپور سیاسی کردار ادا کیا۔ ا?ج جب ان دونوں محاذوں پر ہمیں انتہائی سخت چیلنجز کا سامنا ہے ایسے میں میر حاصل کی بے وقت رحلت ملک میں حقیقی جمہوریت و وفاقییت پر یقین رکھنے والی قوتوں کے لیے ایک سانحہ ہے۔ اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے میر کبیر محمد شہی کا مزید کہنا تھا کہ ا?ج جن حالات سے ملک گزر رہا ہے اس میں ہمیں سیکورٹی ریاست سے فلاحی ریاست کی طرف پیراڈائم شفٹ کی ضرورت ہے وگرنہ ہمیں مزید مخدوش حالات کا سامنا کرنا پڑھ سکتا ہے۔ وفاقی اکائیوں کو مضبوط کر کے ہی وفاق کو مضبوط کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد بھی ا?ئین میں صوبوں کو جو اختیارات دیے گئے ہیں وہ ناکافی ہیں البتہ اٹھارہویں ترمیم اس جانب ایک تاریخی قدم تھا تاہم ایک دہائی گزر جانے کے باوجود ہم ابھی تک اٹھارہویں ترمیم پر اسکی روح کے مطابق عملدرا?مد نہیں کروا سکے جبکہ نصف صدی کی جدوجہد کے بعد حاصل ہونے والی اس محدود صوبائی خودمختاری کو ا?ج رول بیک کرنے کی باتیں ہورہی ہیں۔ موجودہ ا?ئینی فریم ورک میں صوبوں کی نمائندگی صرف سینیٹ اور مشترکہ مفادات کونسل کی صورت میں ہے مگر ا?س کے باوجود سینیٹ کو بے اختیار اور مشترکہ مفادات کونسل کو غیر فعال رکھ کر اس محدود شراکت کو بھی بے اثر کر دیا گیا ہے۔ ا?خر میں میر کبیر محمد شہی نے میر حاصل بزنجو مرحوم کو خراج عقیدت پیش کرنے کے حوالے سے تعزیتی ریفرنس منعقد کرنے پر پختونخواہ جمہوری اتحاد میں شامل جماعتوں اوراجلاس کے تمام شرکائ￿ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حالات اس بات کا تقاضہ کرتے ہیں کہ تمام اپوزیشن جماعتیں مل کر کثیرالجہتی حکمت عملی کے تحت غیر جمہوری قوتوں کا راستہ روکنے لیے صف ا?رائ￿ ہوں اور میر حاصل بزنجو کی جدوجہد کو ا?گے بڑھائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں