احتساب یا مذاق

تحریر: انور ساجدی
باقی دنیا کا تو معلوم نہیں لیکن پاکستان میں جو طبقات احتساب سے بالاتر ہیں وہ جج اور جرنیل ہیں کہنے کی حد تک دونوں اداروں کے اندراحتساب کا اپنا نظام موجود ہے لیکن شازونادر ہی سزا اور احتساب کا عمل حرکت میں آتے ہیں جج صاحبان کے احتساب کیلئے سپریم جوڈیشل کونسل موجود ہے لیکن اس کا طریقہ کار پیچیدہ اورمشکل ہے جبکہ فوج کے اندر احتساب کو عمومی طور پر خفیہ اور صیغہ راز میں رکھا جاتا ہے۔1951ء میں جب جنرل اکبر خان عرف رنگروٹ کولیاقت علی خان کی حکومت کاتختہ الٹنے کے الزام میں گرفتار کیا گیاتو اس وقت فوجی ایکٹ برٹش دور کاتھا جبکہ آئین نہ ہونے کی وجہ سے سازش اور غداری کے مقدمات بھی برٹش قوانین کے تحت چلائے جاتے تھے اگردیکھاجائے تولیاقت علی خان کی حکومت کوئی آئینی حکومت نہیں تھی کیونکہ پاکستان کے گورنر جنرل نے انڈیا ایکٹ کے تحت مفت اٹھایا تھا پھر گورنر جنرل نے لیاقت علی خان کو اپنے اختیارات کے تحت وزیراعظم نامزد کیا تھا یہ حکومت اس لئے بھی غیر آئینی تھی کہ وزیراعظم سمیت کئی اراکین پارلیمنٹ انڈیا کے علاقوں سے منتخب ہوئے تھے لیکن انہیں پاکستان کی دستورساز اسمبلی کا رکن قرار دیا گیا تھا ہونا یہ چاہئے تھا کہ ایک عبوری یا نگران حکومت قائم کی جاتی جو ملک میں عام انتخابات کرواتی اسکے نتیجے میں جو اسمبلی وجود میں آجاتی اسے دستورساز اسمبلی قرار دیا جاتا تاکہ وہ ملک کے آئین کی تشکیل کرسکے لیکن ایسا نہیں کیا گیا پہلا باقاعدہ آئین1956ء میں بنا اورپہلے عام انتخابات 1970ء کو منعقد ہوئے جسٹس منیر نے پہلی اسمبلی کی تحلیل کو نظریہ ضرورت کے تحت جائز قراردیدیا۔1973ء کے آئین کے نفاذ کے باوجود یہ نظریہ ابھی تک زندہ ہے حالانکہ چوہدری افتخار اور جسٹس کھوسہ نے اسکے دفن ہونے کا اعلان کیا تھا لیکن انہوں نے کئی فیصلوں میں نظریہ ضرورت کا سہارا لیا چوہدری صاحب نے تو نوازشریف کی فرمائش پر یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کے جرم میں عہدے سے بھی معزول کردیا تھا۔باقی ماندہ مدت کیلئے راجہ پرویز اشرف آئے لیکن چوہدری صاحب نے انہیں بھی ”راجہ رینٹل“ کاخطاب دے کر ایک دن چین سے بیٹھنے نہیں دیا جسٹس کھوسہ کافی بڑی باتیں کرتے تھے اور دنیا کے بڑے مقدمات اور کرداروں کی مثالیں دیا کرتے تھے لیکن آرمی ایکٹ پر نظریہ ضرورت کو بروئے کارلاکر مصلحت پسندی سے کام کیا۔
عدلیہ کے احتساب کے معاملہ پرایک ریفرنس پرویز مشرف نے چوہدری افتخار کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجا تھا لیکن اس وقت عدلیہ نے ایکتا کا مظاہرہ کرکے پرویز مشرف کی کوشش ناکام بنادی تھی جبکہ وکلا نے ایک بھرپور عوامی تحریک چلاکر فوجی آمر کی طاقت ختم کرڈالی تھی دوسرا اہم ریفرنس فائز عیسیٰ کیخلاف زیرسماعت ہے چونکہ قاضی عیسیٰ کو چوہدری صاحب والی فضیلت حاصل نہیں اس لئے نہ وکلا سڑکوں پر ہیں اور نہ ہی عدلیہ نے ان کا ساتھ دیا حالانکہ افتخار چوہدری اور فائز عیسیٰ کے پس منظر میں زمین آسمان کا فرق ہے چوہدری افتخار کے خاندان نے ہریانہ سے فیصل آباد ہجرت کی تھی جبکہ وہ خود کوئٹہ جاکر آباد ہوئے تھے انکے مقابلے میں قاضی فائز عیسیٰ کے والد قاضی عیسیٰ تحریک پاکستان کے سرکردہ رہنماؤں میں سے ایک تھے جبکہ ان کا شمار جناح کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا تھا لیکن طاقت کے توازنی تناظر میں ان باتوں کو اہمیت نہیں دی جاتی بلکہ جن لوگوں کے آباؤاجداد انگریزوں کے ساتھ تھے اور قیام پاکستان کے مخالف تھے انکی اہمیت زیادہ ہے کیونکہ اس طبقہ کو پاورگیم کھیلنا آتا ہے اس لئے یہ لوگ ہمیشہ اقتدار کے قریب یااسکے ساتھ رہتے ہیں اکثراوقات یہ طبقہ برسراقتدار ہوتا ہے۔
افتخار چوہدری کا یہ عالم تھا کہ جب ججز کالونی سے انہیں گرفتار کیا گیا تو وہ بھاگ کر بلوچستان ہاؤس کے اندر پناہ گزین ہوگئے مصیبت کے وقت انہوں نے بلوچستان سے رشتہ جوڑا جونہی وہ بحال ہوگئے تو فیصل آباد میں جشن منایا گیا۔
عدلیہ کے بہم فیصلہ کے تحت قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کو روز ایف بی آر کے چکر لگانا پڑتے ہیں لیکن ایسے ہی مقدمات میں دیگر شخصیات سے الگ سلوک کیاجاتا ہے یہی وجہ ہے کہ موجودہ دور میں احتساب کا عمل مذاق بن گیا ہے اور یہ تاثر روز بروز مستحکم ہوتا جارہاہے کہ احتساب بطور ہتھیار اپوزیشن یا مخالف سیاستدانوں کیخلاف استعمال کیا جاتا ہے مثال کے طور پر نوازشریف سے تو کہاجارہا ہے کہ آپ واپس آکر سرنڈر کریں لیکن کسی کی مجال نہیں جو جنرل پرویز مشرف سے یہ بات کہے حالانکہ وہ متنازعہ فیصلہ ہی سہی وہ پشاور ہائی کورٹ سے سزا یافتہ ہیں اور ان پر آئین کی دفعہ 6کے تحت مقدمہ قائم ہے۔پرویز مشرف اکبر بگٹی قتل کیس اور جامعہ حفصہ کیس میں کبھی کسی عدالت میں پیش نہیں ہوئے اورلگتا ہے کہ آئندہ بھی یہ نوبت نہیں آئے گی یعنی اس دنیا میں پرویز مشرف کا محاسبہ نہیں ہوسکتا البتہ اگلے جہاں میں ضرور انصاف ہوگا ماضی میں نظریہ ضرورت کے خالق جسٹس منیر کا بھی کوئی بال بیکا نہ ہوا البتہ انہوں نے ایک اچھی کتاب جناح ٹوضیاء ضرور لکھی ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کی سزا سنانے والے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مولوی مشتاق سے بھی شہد کی مکھیوں نے انصاف کیا حتیٰ کہ انکی نماز جنازہ میں شریک لوگ بھاگنے پر مجبور ہوئے بھٹو کی سزا کی توثیق کرنے والے چیف جسٹس انوارالحق جالندھری بھی بہت ہی گمنامی اور بے کسی کی موت مرے انکے فیصلے پر مٹھائی بانٹنے والے بھی جنازے میں شریک نہ ہوئے۔
ماضی میں چونکہ سوشل میڈیا موجود نہیں تھا اس لئے عدالتی فیصلوں پر تبصرہ نہیں ہوسکتا تھا کیونکہ یہ توہین عدالت کے زمرے میں آتا تھا لیکن اب طاقتور سوشل میڈیا پر ہرطرح کے تبصرے ہورہے ہیں اور خفیہ اکاؤنٹ والے تبصرہ نگاروں کوپکڑنا تقریباً ناممکن ہے مثال کے طورپر کوئٹہ کے مقتول ٹریفک سارجنٹ عطاؤ اللہ دشتی کے کیس پر سینکڑوں لوگ تبصرہ کررہے ہیں اور مجید اچکزئی کی وڈیوز شیر کررہے ہیں۔لیکن کسی بھی تبصرہ نگار کیخلاف قانونی کارروائی ناممکن ہے بلکہ جس جج نے فیصلہ سنایا ہے اس کا وہ حال کردیا گیا ہے کہ ”الامان الحفیظ“ اگرچہ بڑے لوگوں کیخلاف انصاف پرمبنی فیصلے دینا مشکل ہے لیکن عوام اپنی عدالت میں ہمیشہ میرٹ پرفیصلے دیتے ہیں عوامی عدالت نے مجیداچکزئی کو معاف نہیں کیا اس عدالت نے جسٹس منیر،جسٹس انوارالحق اور مولوی مشتاق کو کبھی معاف نہیں کیا عوام نے احتساب عدالت کے اس رنگیلے جج کو کبھی نہیں بخشا جس نے نوازشریف کو اقامہ رکھنے پر سزا سنائی تھی لاہور کے کینگرو کورٹ کے کینگرو جج جسٹس قیوم کو آصف علی زرداری نے تو معاف کردیا تھا لیکن عوامی عدالت نے معاف نہیں کیا توقع یہی ہے کہ اللہ کی عدالت بھی ان تمام ناجائزمنصفوں کو معاف نہیں کرے گی جنہوں نے وقت کے طاقتور حکمرانوں کی خواہشات پر مخالفین کیخلاف ناجائز فیصلے دیئے۔
آج تک حضرت علیؓ کایہ قول لاکھوں بار دہرایا جاچکا ہے کہ کفر کا نظام تو چل سکتا ہے لیکن ظلم کا نظام نہیں چل سکتا
لیکن بدقسمتی سے مسلمان سماج اورانکے ملوکی اور مملوکی حکمرانوں نے حضرت علیؓ کے اس فلسفہ پر کبھی عمل نہیں کیا۔چونکہ پاکستان کا سیاسی عدالتی سماجی اور معاشرتی نظام ابھی تک طے نہیں ہوسکا اس لئے یہاں پر انصاف آٹا اور چینی سے بھی زیادہ نایاب اور مفقود ہے۔سیاسی نظام کرپٹ اور کریہہ ہے پورے نظام کے ستون استحصال جبر اور ناانصافی پر کھڑے ہیں یہاں پر روز سینکڑوں عطاؤ اللہ دشتی کچلے جاتے ہیں لیکن کچلنے والے اتنے زور اور زروالے ہیں کہ ان پر ہاتھ نہیں ڈالا جاسکتا اگرچہ دو بالا دست طبقے تو پہلے ہی سے احتساب سے بالاتر ہیں لیکن استحصالی طبقہ بھی انصاف کی گرفت سے باہر ہے نقیب اللہ محسود کا کیس ایک مثال ہے انہیں جعلی پولیس مقابلہ میں بے رحمی کے ساتھ مارا گیا لیکن ملزمان دھندناتے گھوم رہے ہیں وہ ہتھکڑی کے بغیر عدالتوں میں پیش ہورہے ہیں جبکہ نیب اچھے خاصے معززین کو ہتھکڑیاں لگاکر پیش کرتا ہے جو نادار لوگ ہوتے ہیں انکے پیروں میں بیڑیاں بھی ڈال دی جاتی ہیں لہٰذا ہمارے سماج میں انصاف زمین پر ناممکن ہے۔صرف آسمان پر ممکن ہے اس ضمن میں فیض فراز اور جالب کے آفاقی کلام سے رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں