نیب کا تعلق کسی سیاسی جماعت ،گروہ اور فرد سے نہیں ، جاوید اقبال

اسلام آباد ۛنیب کے ایگزیکٹو بورڈ نے 7انوسٹی گیشنز اور 12 انکوائریز کی منظوری دیدی ہے جبکہ چیئرمین نیب جسٹس (ر)جاوید اقبال نے کہا ہے کہ ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ اور کرپشن فری پاکستان کیلئے انتہائی سنجیدہ ہیں ،اولین ترجیح میگا کرپشن کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا ہے،نیب کا تعلق کسی سیاسی جماعت ،گروہ اور فرد سے نہیں بلکہ صرف اور صرف ریاست پاکستان سے ہے،تمام ڈائریکٹر جنرلز شکایات کی جانچ پڑتال ، انکوائریاں اور انوسٹی گیشنز مقررہ وقت کے اندر قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچائیں۔بدھ کو قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال کی زیرصدارت نیب ہیڈکوارٹر ز اسلام آبادمیں منعقد ہوا ۔اجلاس میںڈپٹی چئیرمین نیب ، پراسیکیوٹر جنرل اکائو نٹبلٹی نیب ،ڈی جی آپریشن نیب، ڈی جی نیب راولپنڈی،ڈی جی نیب خیبرپختونخوا،ڈی جی نیب سکھراور ڈی جی نیب کراچی نے بذریعہ ویڈیولنک اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔ نیب کی یہ دیرینہ پالیسی ہے کہ قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس کے بارے میں تفصیلات عوام کو فراہم کی جائیں جو طریقہ گزشتہ کئی سالوں سے رائج ہے جس کا مقصد کسی کی دل آزاری مقصود نہیں ۔ تمام انکوائریاں اورانویسٹی گیشنز مبینہ الزامات کی بنیاد پر شروع کی گئی ہیں جوکہ حتمی نہیں۔ نیب قانو ن کے مطابق تمام متعلقہ افراد سے بھی ان کا موقف معلوم کر نے کے بعد مزید کاروائی کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرتا ہے۔ قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میںعاصم مرتضیٰ خان سابق مینجنگ ڈائریکٹر /چیف ایگزیکٹو آفیسر/رکن بورڈ آف ڈائریکٹرز پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ(پی پی ایل) اور دیگر کے خلاف بد عنوانی کا ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی۔ملزمان پر مبینہ طورمیسرزمورانوفتوڈولے کو تیل و گیس کی تلاش کے ٹھیکہ میں بدعنوانی کا الزام ہے۔جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا۔ قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈکے اجلاس میں (7) انوسٹی گیشنز کی منظوری دی گئی۔جن میںالمسہ ماڈل ٹائون اور پروفیسر ماڈل ٹائون کی انتظامیہ اور دیگر،بلین ٹری سونامی پروجیکٹ خیبر پختونخواہ میں4الگ الگ انوسٹی گیشنز ،ٹیکسٹ بورڈ خیبر پختونخواہ کے افسران /اہلکاران اور دیگر،مرزا خان صوہیرا نی،محکمہ تعلیم اور خواندگی حکومت سندھ کے افسران و اہلکاران اور دیگر کے خلاف انوسٹی گیشنز شامل ہیں۔ قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈکے اجلاس میں (12) انکوائریز کی منظوری دی گئی۔ جن میںبلین ٹری سونامی پروجیکٹ خیبر پختونخواہ میں 6الگ الگ انکوائریز،شوگرسبسڈی سیکنڈل میں شوگر ملز کی انتظامیہ اور دیگر، عبدالرحیم خان،ظہور احمد،عظمت علی شاہ اور حمزہ خان، عرش الرحمان، ایڈیشنل کنٹرولر عبد الولی خان یونیورسٹی مردان اور دیگر،بنوں شوگر ملز لمیٹڈ کے افسران /اہلکاران،آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ خیبر پختونخواہ کے افسران /اہلکاران اور دیگر،سردار خان چانڈیو رکن صوبائی اسمبلی،برہان خان چانڈیو رکن صوبائی اسمبلی،ریونیو ڈیپارٹمنٹ کے افسران /اہلکاران اور دیگر کے خلاف انکوائریز شامل ہیں۔ قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈکے اجلاس میں قیصر ولی خان سابق رکن صوبائی اسمبلی ،پاک پی ڈبلیو ڈی کے افسران/اہلکاران اور دیگر،ایل جی ای اینڈ آر ڈی ڈی، ٹی ایم اے ٹائون کے افسران اور اہلکاران اور دیگر ،گومل یونیورسٹی ڈی آئی خان کے افسران /اہلکاران اور دیگر،سابق ضلع ناظم پشاوراور دیگر،لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ حکومت خیبر پختونخواہ کے افسران /اہلکاران اور دیگر،ریونیو ڈپارٹمنٹ ڈی آئی خان کے افسران /اہلکاران اور دیگر،دلاور حسین میمن سی ای او سیپکو سکھر، نظیر سومرو سی ٹی او سکھر اور دیگرکے خلاف انکوائریز اب تک عدم شواہد کی بنیاد پرقانون کے مطابق بند کرنے کی منظوری دی گئی۔جبکہ سریر محمد سابق ڈی جی پی ڈی اے، محمد طارق سابق جنرل منیجر پی ڈی اے،عبد الحلیم پراچا سابق ڈائریکٹر پی ڈی اے، مرزا خان ہائوسنگ آفیسر پی ڈی اے اور دیگر کے خلاف انوسٹی گیشن اب تک عدم شواہد کی بنیاد پرقانون کے مطابق بند کرنے کی منظوری دی گئی۔ قومی احتساب بیورو کے چئیرمین جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ نیب ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ اور کرپشن فری پاکستان کے لئے انتہائی سنجیدہ ہے ۔ نیب کی اولین ترجیح میگا کرپشن کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا ہے۔نیب نے احتساب سب کیلئے کی پالیسی کے تحت 468 ارب روپے بلواسطہ اور بلا واسطہ طور پر بدعنوان عناصر سے برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کروائے جو ایک ریکارڈ کامیابی ہے۔نیب کی کارکردگی کو معتبر قومی اور بین الا قوامی اداروں نے سراہا ہے جو نیب کیلئے اعزازکی بات ہے۔نیب کا تعلق کسی سیاسی جماعت ،گروہ اور فرد سے نہیں بلکہ صرف اور صرف ریاست پاکستان سے ہے۔نیب قانون کے مطابق بد عنوان عناصر سے قوم کی لوٹی گئی دولت بر آمد کرنے کے لئے ہر ممکن وسائل بروئے کار لا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مفرور اور اشتہاری ملزمان کی گرفتاری کے لئے قانو ن کے مطابق اقدامات اٹھائے جائیں گے تاکہ بدعنوان عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جاسکے جہاں قانون اپنا راستہ خودبنائے گا۔ چیئرمین نیب نے نیب کے تمام ڈائریکٹر جنرلز کو ہدایت کی کہ شکایات کی جانچ پڑتال ، انکوائریاں اور انوسٹی گیشنز مقررہ وقت کے اندر قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچائی جائیں اور تمام انوسٹی گیشن آفیسرز اور پراسیکیوٹرز پوری تیاری ، ٹھوس شواہد اور قانون کے مطابق معزز عدالتوں میں نیب کے مقدمات کی پیروی کریں تاکہ بدعنوان عناصر کو قانون کے مطابق سزا دلوائی جاسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں