پارلیمنٹ میں بندوق رکھ کر قانون سازی کی جارہی ہے ،رضا ربانی

کراچی:پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما سینیٹر رضا ربانی نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ میں بندوق رکھ کر قانون سازی کی جارہی ہے ۔حکومت ایسی قانون سازی کرنے جارہی ہے جس سے عوام کے بنیادی حقوق سلب ہورہے ہیں۔ سینیٹ اور قومی اسمبلی کوبے کار کرکے رکھ دیا گیا ہے ۔ملک میں صدارتی نظام کے لیے پٹیشن د ائر کروائی گئی ہیں جو انتہائی خطرناک ہے ۔پاکستان کے عوام فیصلہ کرچکے ہیں کہ یہاں صدارتی نظام نہیں چل سکتا ہے ۔دوہری شخصیت کے حامل افراد کو ملک میں انتخابات لڑنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے ۔ان خیالات کا اظہار انہوںنے بدھ کو سندھ اسمبلی کے کمیٹی روم میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر پیپلزپارٹی کے رہنما وقار مہدی اور راشد ربانی موجود تھے ۔سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہاس پریس کانفرنس کا مقصد اپنے کھلے خط سے آگاہ کرنا ہے۔خط پاکستان کے محنت کش، سیاسی کارکنان ، اسکالرز، طلبا، صحافی اور عوام کے نام لکھا گیاہے۔خط کا عنوان ’’آئین کو جینے دیں‘‘ ہے۔خط کا تعلق اٹھارویں ترمیم سے ہے سولہ صفحات پر مشتمل ہے۔خط میں آٹھ مختلف عنوان ہیں۔خط وفاق پاکستان، رابطوں کا فقدان، این ایف سی، عدلیہ تبدیلی کا ڈرائیور اور فساد کی جڑ سمیت دئگر عنوانات پر مشتمل ہے۔انہوںنے کہا کہ پاکستان کی بنیاد فیڈرل ازم پر تھی ۔قائداعظم نے بھی صوبوں کی مضبوطی کی بات کی۔پاکستان معرض وجود میں آنے کے بعد بانی پاکستان ہمارے درمیان نہیں رہے۔اور پھر بدقسمتی سے پاکستان نیشنل سیکورٹی اسٹیٹ بن گیااور تمام ترجیحات تبدیل ہوگئیں۔انہوںنے کہا کہ جو لوگ اٹھارویں ترمیم کو رول بیک کرنے کے درپے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اسلام آباد کمزور ہونے سے ملک کمزور ہوتا ہے۔ایسا مرکز جس کے پاس وسائل نہ ہوں تو اس میں استحکام نہیں رہتا ہے ۔اٹھارویں ترمیم کے بعد17 وزارتیں وفاق کی صوبوں کومنتقل ہوئیں۔اس حساب سے صوبوں کے اخراجات بڑھے ہیں ۔۔اسلام آباد میں اب بھی کچھ محکمے رکھے گئے ہیں۔صوبوں کے حصے کوکم کرکے این ایف سی میں ناانصافی کی گئی ہے ۔میاں رضا ربانی نے کہا کہ 20کے قریب وفاق میں ارکان ایسے ہیں جو پارلیمان کو جواب دہ نہیں ہیں۔وہ معاون خصوصی ہیں یا مشیر ہیں۔انکے پاس اہم وزارتیں ہیں۔یہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے کی خلاف ورزی ہے۔انہوںنے کہا کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کو بے کار کرکے رکھ دیا گیا ہے۔پارلیمینٹ کو اعتماد میں نہیں کیا جارہا ہے ۔بندوق رکھ کر قانون سازی کی جارہی ہے۔حکومت ایسی قانون سازی کرنے جارہی ہے جس سے عوام کے بنیادی حقوق سلب ہورہے ہیں۔رضاربانی نے کہا کہ سینیٹ الیکشنزمیں منڈی لگتی ہے اس کوروکنا چاہیے ۔سینیٹ کی طرف سے سفارشات تیارکی گئی ہیں۔حکومت ان کاجائزہ لے۔دہری شہریت کے حامل افراد کوملک میں انتخاب لڑنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔پی ٹی آئی اوروزیراعظم کابھی ماضی میں یہی موقف رہا ہے ۔اہم پوزیشنز پردہری شہریت کے شخص کی وفاداری تقسیم ہوسکتی ہے۔امریکا میں دوہری شہریت کے لئے حلف لیاجاتا ہے کہ وقت آنے پروہ شخص ملک کے لئے لڑے گا۔انہوںنے کہا کہ ملک میں صدارتی نظام کے لئے پٹیشن دائر کروائی گئی ہیں۔یہ خطرناک صورتحال ہے۔یہ ایک سیاسی فیصلہ ہے۔ پاکستان کے عوام کرچکے ہیں کہ ملک میں صدارتی نظام نہیں چل سکتا ہے ۔ماضی میں آپ صدارتی نظام کو آزما چکے ہیں۔صدارتی نظام پاکستان میں ناکام ہوچکا ہے۔یہ فیصلہ عدالتوں کے ذریعے نہیں آسکتا ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں