خاتون تیر انداز سارہ خان نے فرسودہ روایات کو مات دے دی

خیبر پختونخوا کے ضلع مالاکنڈ کے علاقے سخاکوٹ سے تعلق رکھنے والی 37 سالہ سارہ خان نے قدیم روایتی کھیل” تیراندازی” کو اپنا کر مردوں کے لیے مخصوص اس کھیل کے بارے میں تاثر بدل ڈالا۔
خیبرپختونخوا میں عام طور پر جہاں مرد کھلاڑیوں کے لیے آگے آنے کے مواقع بہت کم ہیں وہاں کسی خاتون کا کھیلوں کے شعبے کا انتخاب کرنا اور پھر اس میں کامیابی کے جھنڈے گاڑنا کسی انہونی سے کم نہیں۔ مگر اس انہونی کو ہونی کر دکھایا سارہ خان نے تیر اندازی کے کھیل کا انتخاب کر کے۔ ایک ایسا کھیل جسے یہاں پر زیادہ کوئی پہچانتا نہیں، نہ ہی اس کھیل کے قوائد و ضوابط کے بارے میں کسی کو معلومات ہیں۔ سارہ خان نے آرچری یعنی تیر اندازی میں کامیابی کے ایسے تیر چلائے کہ نہ صرف میدان میں حریفوں کو ہرایا بلکہ میدان سے باہر پختون معاشرے میں رائج منفی سوچ اور فرسودہ روایات کو بھی مات دے دی۔ اور آج اس کھیل میں ان کا الگ مقام اور پہچان ہے۔
سارہ خان اردو ادب کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے پشاور آئی تھیں۔ تعلیم سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد انہوں نے مختلف کھیلوں میں حصہ لیا لیکن اپنے آپ کو تیر اندازی کے لیے موزوں پایا اور پھر خود کو اس کھیل کے لیے مکمل وقف کردیا۔
ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "تیر اندازی کا بچپن سے ہی ایک جنون تھا اور انہوں نے پاک فوج کے زیر اہتمام تیر اندازی کی تربیت لی۔”
سارہ خان 8 سال تک جوڈو کے کھیل سے منسلک رہیں اور جوڈو کے داؤ آزماتی تیراندازی کی طرف آ گئیں۔ وہ اس وقت جوڈو ایسوسی ایشن پاکستان وومن ونگ کی سیکرٹری بھی ہیں جبکہ خیبر پختونخوا کی واحد خاتون آرچری کوچ کی زمہ داریاں بھی سنبھالے ہوئے ہیں۔
سارہ خان کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ وہ پاکستان کی اور خیبر پختونخوا کی واحد خاتون آرچر ہیں جنہوں نے آرچری کلب قائم کیا۔ سال 2016 میں صوبے میں تیر اندازی اسکول بھی قائم کیا ہے جہاں وہ تیراندازی کے شوقین مرد اور خواتین کو تربیت دے رہی ہیں۔
ڈی ڈبلیو اردو سے بات چیت کرتے ہوئے سارہ خان نے کہا کہ "تیر اندازی ایک تکنیکی کھیل ہے ، اس میں توجہ اور سکون کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کا سامان بھی سستا نہیں ہے اس لیے بہت کم لوگ اس کھیل کی جانب آتے ہیں ۔مگر میں اس قدیم کھیل کو فروغ دینے کے لیے بہت سے لوگوں کو بغیر معاوضے کے بھی تیر اندازی سکھاتی ہوں۔”
اپنے کیریئر کے ابتدائی دنوں کا زکر کرتے ہوئے انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا "مجھے اب بھی یاد ہے کہ ابتدا میں یہ کتنا مشکل تھا ، مردوں کی طرف سے پیدا کردہ رکاوٹوں کے ساتھ چلنا اور پھر اس میں آگے بڑھتے جانا لیکن میرے والد نے میری مکمل حمایت کی۔ میں نے ہر مخالف کو دکھایا کہ خواتین جو کچھ کرنا چاہیں وہ کرسکتی ہیں۔ میری والدہ کومیرے لیے یہ شعبہ بالکل پسند نہیں تھا مگر میرے بھائی نہیں ہیں ۔میں ثابت قدم رہی اور ثابت کیا کہ کوئی کھیل صرف مردوں کے لیے نہیں اور وہ عورت نہیں کر سکتی اب انہیں میرے انوکھے پیشے پر فخر ہے۔”


