کورونا وائرس کے خطرات کو کم کر کے پیش کیا،ٹرمپ کا اعتراف
واشنگٹن :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے کورونا کی ابتدا میں وائرس کے خطرے کی سنجیدگی کم کرنے کی کوشش کی۔انہوں نے یہ بات امریکی صحافی باب وڈورڈ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی ۔ انٹرویو میں ٹرمپ نے یہ واضح کردیا کہ انہیں شروع ہی سے سمجھ آگئی تھی کہ وائرس خطرناک ہوگا، عام فلو سے کہیں زیادہ خطرناک’لیکن 2020 کے اوائل میں لوگوں کے سامنے انہوں نے یہ بار بار کہا ہے کہ وائرس خطرناک نہیں اور خود سے ‘غائب’ ہو جائے گا۔ انہوں نے باب وڈورڈ کو بتایا کہ وائرس ‘ہوا کے ذریعے جاتا ہے اور آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں ماسک پہننے والے افراد کا مذاق اْڑایا۔ان کا کہناتھا کہ وہ اب بھی اس کی سنجیدگی کم ظاہر کرنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ اس بارے میں ہلچل نہیں پھیلانا چاہتے۔وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ لوگ ڈریں۔میں اس ملک یا دنیا کو ہلچل میں نہیں ڈالوں گا۔ ہمیں قیادت کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور ایسے میں ہلچل نہیں مچائی جا سکتی۔اب 3 نومبر کو ہونے والے انتخابات سے آٹھ ہفتے قبل ٹرمپ پر دباؤ ہے۔ رائے عامہ کے مطابق دو تہائی امریکی ٹرمپ کے وائرس سے نمٹنے کے طریقہ کار سے متفق نہیں ۔ ٹرمپ پر تنقید ہو رہی ہے کہ دوبارہ منتخب ہونے کے امکانات بڑھانے کے لیے انہوں نے بحران کو کم ظاہر کیا۔15 ستمبر کو شائع ہونے والی ‘ریج’ نام کی کتاب سے ڈیموکریٹس کو صدر ٹرمپ کے خلاف مزید مواد ملے گا۔ ٹرمپ کی مخالف پارٹی کے حامی پہلے دن ہی سے ان پر کورونا وائرس کی وبا کے لیے امریکیوں کو تیار نہ کرنے اور اس سے ٹھیک طرح سے نہ نمٹنے پر تنقید کر رہے ہیں۔نتخابات میں ٹرمپ کے حریف اور ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار جو بائیڈن کا مشی گن میں کہنا تھا کہ ‘وہ جانتے تھے یہ (وائرس) کتنا جان لیوا ہے۔’جو بائیڈن نے مزید کہا کہ انہوں نے امریکہ کے لوگوں سے جھوٹ بولا۔ ان کے جانتے ہوئے مہینوں تک وائرس کے خطرات سے متعلق جھوٹ بولا’جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ امریکیوں کو دھوکا دیا گیا ہے۔بعد ازاں انہوں نے سی این این کو بتایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا رویہ ‘تقریباً مجرمانہ’ ہے۔


