نیلا م عام
تحریر: جمشید حسنی
بیالیس لاکھ اٹھاون ہزار روپیہ کی گاڑی چھ لاکھ چھتیس ہزار روپیہ میں توشہ خانہ ریفرنس اور وہ جو بیچارے گیلانی کی بیوی نے ترک صدر کی بیوی کا چندہ میں دیا ہار واپس کردیا کوئی نہیں مانتا کون چھوڑتا ہے اب کہتے ہیں لندن میں بھتہ خوری کی دس ملین پاؤنڈ کی سات جائیدادیں الطاف حسین کے قبضے میں ہیں۔تو کیا ہوا یہاں تو سولہ گریڈ کے ایکسائز انسپکٹر سے33کروڑ نقد بیس کروڑ کے اثاثے ظاہر ہوتے ہیں خزانہ کے بیس گریڈ افسر سے 77کروڑ نقد برآمد ہوتا ہے ضمانت پر چھوٹ جاتا ہے۔زرداری نواز شریف گیلانی تالپورکی پیشیاں ہوتی رہیں گی عالمی طور پر امریکہ میں کورونا سے ایک لاکھ بیانوے ہزار اموات ہوچکی ہیں۔ٹرمپ کے بارے میں چار پانچ کتابیں مارکیٹ میں آچکی ہیں اس نے شروع میں کورونا کو اہمیت نہ دی۔امریکہ کی بارہ ریاستوں میں جنگل کی آگ پھیل چکی ہے صرف اوریگان ریاست میں پانچ لاکھ لوگ بے گھر ہوئے۔واشنگٹن ریاست کیلی فورنیا اور یگان ایری روتا میں ہنگامی حالت نافذ ہے۔امریکہ نے بحرین اور اسرائیل کے درمیان سمجھوتہ کرادیا ہے قطر کے بعد بحران دوسرا ملک ہے بحرین کی بندرگاہ امریکہ کے پاس ہے عراق اور سعودی عرب میں بھی امریکی فوج تعینات ہیں۔عراق میں امریکہ نے فوجیں کم کردی ہیں ان سطور کی اشاعت تک قطر دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کا کوئی نتیجہ نکل آئے گا۔طالبان قیدی رہا ہوگئے ہیں امریکی وزیر خارجہ پومپیو قطر پہنچ گئے ہیں۔
عمران خان کوئٹہ کے دورہ پر آئے بلوچستان کے لئے کچھ نہیں اسی تنخواہ پر گزارہ کرو بلوچستان میں کرونا کے 13401کیسز ہیں 145اموات ہوچکی ہیں۔رواں ہفتہ مہنگائی 37 فیصد بڑھی صرف دال تیرہ روپیہ فی کلو دیگر 22اشیاء کے علاوہ قیمت بڑھی۔نجکاری کمیشن نے1171کیس نجکاری کے لئے پیش کئے1477اداروں کی نجکاری ہوچکی ہے۔رقم کہاں جائے گی قومی اثاثے ٹائیگر فورس کے مراعات پر۔
گزشتہ سات ماہ میں لاہور میں 162اجتماعی زیادتی کے کیس درج ہوئے آج کل موٹر وے پر خاتون کی عصمت دری کا چرچاہے۔اب ہوش آیا توپولیس گشت بڑھا دی پولیس افسر نے کہا کہ خاتون کو نصف شب گھر سے سفر پر اکیلے نکلنے کی آخر کیا ضرور ت تھی ہمارے معاشرہ کے اقدار سے بات بے جا نہ تھی مذہب بھی خواتین کی اتنی دلیری کا حامی نہیں۔محرم کا ہونا ضروری ہے قانون کے پاس اس کے بقول ایک لاکھ روپیہ تھا اس نے گاڑی کا پیٹرول کیوں چیک نہیں کیا لاہور میں 183اجتماعی زیادتی کے کیس ٹریس نہ ہوسکے 331بچے اغواء ہوئے 38بچے قتل ہوئے۔
عمران خان کا کراچی کا دورہ ہوگیا بلاول کے پاس کہنے کو کچھ نہیں تو کہتے ہیں پیکج نہیں چاہیے خود بھی تو نالے نہ صاف کرسکے آل پارٹیز کا نفرنس ایجنڈا کیا ہوگا کیا عوام ان کے کہنے پر سڑکوں پر ڈنڈے کھانے نکلے گی۔
عوام کو پھر کچھ نہیں ملنا۔کیا آٹا،چینی،تیل راتوں رات سستے ہوجائیں گے ورلڈ بینک کہتا ہے گیس مہنگا کرو،کیا ٹڈی دل،کورونا ختم ہوجائے گا،لاہور میں پھر کانگو وائرس سے موت ہوئی پشاور میں بی آر ٹی کی دوسری بس میں آگ لگ گئی بلوچستان میٹرو کے تکلیف سے آزاد ہے۔یہاں کے لوگ بسوں کے دھکے کھانے کے عادی ہیں۔
بد قسمتی سے میری معلومات ناقص ہیں۔تعلقات محدود ہیں کسی ایک موضوع کو پار نہیں پہنچ سکتا یا لوگ اسے کٹ پیسٹ کہتے ہیں آخر پرانے کپڑے کے ٹکڑوں سے مختلف ڈایزائن کی رلیاں بنانا بھی تو فن ہے۔ادھر ادھر کی انٹ شنٹ مارتا رہتا ہوں شاید یہ لاشعوری خوف بھی ہے کہ اپنی کمزوری کے باعث کسی سے پنگہ نہیں لے سکتا۔پہلے کافی قیمت ادا کرچکا ہوں بیس گریڈ میں تین سال افسر بکار خاص بلکہ بیکار خاص رہا۔پھر جو لوگ میڈیا پر انکشافات تبصرے تجریئے کرتے رہے ہیں ان کی کسی نے سنی ہے کہ ہماری سنیں گے۔تھوتے چنا باجے گھنا۔
کورونا عالمی اموات کے حوالے سے ہندوستان امریکہ کے بعد دوسرا بڑا ملک ہے پھر اس کی آبادی بھی تو ایک ارب سے زیادہ ہے غربت ہے صحت کی سہولیات کم ہیں گنجان آبادیاں ہیں۔امریکہ کورونا اموات ایک لاکھ تیرانوے ہزار نو سو چار ہیں پاکستان میں اموات 6370ہیں۔عالمی اموات نو لاکھ بارہ ہزار ہیں۔
میرا خیال تھا دوحہ میں افغان مذاکرات کے بعد لکھوں تو کیا لکھوں یہی چالیس سال میں اتنے افغان مرے اتنے امریکی مرے اتنے پاکستانی مرے ہماری معیشت کا اتنا نقصا ن ہوا امریکہ کا اتنا خرچہ ہوا انقلاب سے پہلے افغانستان میں ڈیرے DUPERکی کتاب اتھارٹی تھی۔اس نے انقلاب سے پہلے کے افغان سیاسی حالات کا تجزیہ اور تاریخ بیان کی ہے۔ظاہر شاہ نے چالیس سال جمہود STATUSQUOرکھا۔روایتی قبائلی معاشرہ کی ظاہر شاہ کے بعد مرکر نیت نہ رہی آج تک بے اتفاقی ہے۔وادی داخان میں احمد شاہ آیا وہ بھی مارا گیا،ہرات میں اسماعیل، مزار شریف میں جنرل دوستم پشتون اُزبک تاجک ترکمن فارسی بان علیحدہ علیحدہ سوچ رہی مستقبل اب بھی غیر واضح ہے ایک دوسرے پر اعتماد کا فقدان ہے۔افغانستان خود کفیل ملک نہیں خشکی میں گھرا ملک ہے۔تجارت پاکستان کے راستے پر ہے۔اس وقت تیس لاکھ مہاجر پاکستان پانچ لاکھ ایران میں ہیں۔برآمدات نہیں صنعت نہیں ان کو دوبارہ بین الاقوامی امداد کے بغیر دوبارہ بسانا ممکن نہیں عالمی معیشت زبوں حالی کا شکار ہے۔بس اتنا ہوگا کہ ملک میں امن وامان ہوجائے۔


