مولانا فضل الرحمن کی کردارکشی کی مذمت ,معاملے کو سنگین ڈگرپر نہ لے جایاجائے کہ واپسی کاراستہ نہ ہو،مولانا واسع

adsf

کوئٹہ;جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے امیر ورکن قومی اسمبلی مولانا عبدالواسع نے قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن کی کردارکشی اور مذموم مہم جوئی کی مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ نیب کی جانب سے یکم تاریخ کو پیشی کے نوٹس کی خبریں تو گردش کررہی ہے لیکن نوٹس کسی کو نہیں ملا،قائدجمعیت کے موقف کی تائید ہوگئی کہ جب حکمرانوں کو پریشانی کاسامنا ہو تو نیب حرکت میں لایاجاتاہے،نیب خود اقرار کرچکی ہے کہ مولانافضل الرحمن کے خلاف کوئی کیس نہیں،حکومت کے دن گنے جاچکے ہیں ”پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ“ میں شامل تمام جماعتیں ایک پیج پر اور شیڈول کے مطابق تمام فیصلوں پر مکمل عملدرآمد ہوگا،مولانا فضل الرحمن کی آرمی چیف سے صدارت مانگنے والے پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہیں معاملے کو سنگین ڈگرپر نہ لے جایاجائے کہ واپسی کاراستہ نہ ہو،جمعیت بلوچستان اپنے قائدین کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ان خیالات کااظہار انہوں نے گزشتہ روز کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر بلوچستان اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ملک سکندرایڈووکیٹ،اراکین صوبائی اسمبلی حاجی نواز کاکڑ،اصغر علی ترین،سید عبدالواحد آغا، مولانا خورشید احمد،حاجی عین اللہ شمس،صوبائی مجلس شوریٰ کے اراکین سمیت دیگر بھی موجود تھے۔مولاناعبدالواسع نے کہاکہ موجودہ سلیکٹڈ حکومت کے دو سال کے دوران جمعیت علماء اسلام کی مسلسل جمہوری جدوجہد،ملین اورآزادی مارچ،کوروناوائرس کے بعد خیبرپشتونخوا میں سب سے بڑا کانفرنس جس نے آزادی مارچ کاریکارڈ بھی توڑ دیااورپاکستان کی تاریخ میں سب سے مضبوط تحریک ”پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ“ پی ڈی ایم بننے میں سمیت پاکستان کی سیاست میں جمعیت علماء اسلام اورقائد مولانافضل الرحمن کا اہم کرداررہاہے،جمعیت علماء اسلام کے صوبائی مجلس عاملہ کااجلاس ہوا جس میں روز اول سے لیکر آل پارٹیز کانفرنس تک اور پی ڈی ایم کے بعدصورتحال کاجائزہ لیا گیا اے پی سی کے بعد حکومت،مقتدر قوتوں ور ان طاقت ور قوتوں کی جانب سے جن کے خلاف آل پارٹیز کانفرنس کاایک واضح فیصلہ آگیا جس کے بعد قائدجمعیت مولانافضل الرحمن کے خلاف ان لوگوں نے اپنے زر خرید غلاموں کے ذریعے ایک مہم شروع کی تاکہ جمعیت علماء اسلام اورمولانا فضل الرحمن کو بدنام کیاجاسکے،گزشتہ عرصے کے دوران جمعیت علماء اسلام کے سربراہ اور پارٹی کے تمام رہنماؤں کے خلاف انکوائریاں اور نیب کے ذریعے تحقیقات کرائیں لیکن انہیں کچھ ہاتھ نہیں آیا چیئرمین نیب کا بیان کہ مولانا فضل الرحمن کے خلاف کوئی چیز نہیں ہے،جمعیت علماء اسلام چاہے وہ خیبرپشتونخوا،سندھ،پنجاب اور بلوچستان ہو کسی بھی رہنماء اور فرد کے خلاف کوئی کیس نہیں اگر کوئی تو انکوائری کے بعد تمام کیسز بند کردئیے گئے لیکن آل پارٹیز کانفرنس کے بعد اچانک ایک ڈرامہ رچایا گیا مولانافضل الرحمن کے خلاف ایک مہم شروع کردی گئی کہ یکم تاریخ کوقائد جمعیت پیش ہوں ان کے بقول اب تک نوٹس نہیں ملا یکم تاریخ کا نوٹس میڈیا پر تو چل رہاہے لیکن یہ بات بھی واضح ہے کہ نوٹس اب تک نہ ہی ہمیں ملا ہے اور نہ ہی میڈیا کو ملا ہے حالانکہ ہم نے میڈیا سے وضاحت بھی لی لیکن معلوم نہیں کس مجبوری کے تحت میڈیا ایک غلط پروپیگنڈے کا حصہ بن رہی ہے،جمعیت علماء اسلام نے واضح فیصلہ کیاہے کہ قائد جمعیت کے خلاف گزشتہ پانچ سالوں سے جو گالیاں دلوائی گئی اور ان کی جو کردارکشی کی گئی اور کی جارہی ہے اوران کے خلاف ایک غلیظ اور بازاری زبان استعمال کروایاجارہاہے لیکن گزشتہ دنوں جو ملاقات ہوئی جس میں دیگر سیاسی جماعتوں کے لوگ شامل ہیں جبکہ جمعیت علماء اسلام کے پارلیمانی لیڈر دوسرے جماعتوں کے پارلیمانی لیڈر کی طرح بھی ملاقات میں موجود تھے اور چیف آف آرمی سٹاف اور دیگراداروں کے ساتھ ملاقات ہم سمجھ رہے تھے کہ ملاقات ملکی قومی سلامتی سے متعلق ہوگی حالانکہ اس سے قبل بھی نیشنل سیکورٹی کے حوالے سے قومی اداروں کے سربراہان کے ساتھ اجلاس منعقد ہوتے رہے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ اداروں کے ساتھ تعاون ہو لیکن ملاقات میں قابل احترام چیف آف آرمی سٹاف کی طرف قائد جمعیت کے بیٹے مولانااسعد محمود کو کہاگیاکہ آپ کے والد آئے تھے اور مجھ سے صدارت مانگ رہے تھے اتنے بڑے عہدے پر فائز شخص اور چھوٹے آدمی کی طرح بات کرنا ملک کی بدقسمتی ہے،ملک کی بدبختی ہے کہ بڑے کی باتوں ان کے چھوٹوں کے سامنے رکھنا اور پھر صدارت جب آپ سے مانگتے ہیں ہم واضح کرتے ہیں کہ ہمارے اور حکمرانوں کے درمیان جھگڑا نہ صرف آپ بلکہ آپ کے آقا امریکہ سے بھی جنگ اسی بات پر ہے کہ وہ کہتے ہیں مجھ سے مانگو تو حکومت دوں گا لیکن جمعیت علماء اسلام نے ہمیشہ واضح کیاہے کہ ہم مانگنے والے نہیں بلکہ ذمہ داری پورا کرنے والے لوگ ہیں اگر ہم ذمہ داری کو پورا کرینگے تواللہ کی مدد سے کرینگے۔یہ جھگڑا 70سالوں سے چلا آرہاہے کہ انتخابات میں جمعیت علماء اسلام کودیوار سے لگایاجارہاہے،ہم اللہ اور جمہور کی راہ سے آنے والے لوگ ہیں،مولانا فضل الرحمن کی آپ سے صدارت مانگنے والی بات کو ہم مسترد کرتے ہیں احترام کا ایک حد ہے میرے قائد کے خلاف بات کرنے کی مذمت کرتے ہیں آئندہ کے اس طرح کے اجلاسوں میں شرکت پر غور کرینگے کہ ہم اس ملک کے میٹنگز میں نیشنل سیکورٹی پرتعاون کیلئے جاتے ہیں لیکن اس کے باوجود جمعیت علماء اسلام اور قائد کے خلاف مہم جوئی کی جارہی ہے،ہم اس پر شدید ناراضگی کااظہار کرتے ہیں،انہوں نے کہاکہ آل پارٹیز کانفرنس کے فوراََ بعد جو مہم چلایا گیا ہم کو مسترد کرتے ہیں اور واضح کرتے ہیں کہ ہمارے قائد اور جمعیت کے موقف کی تائید ہوگئی کہ نیب اس وقت حرکت میں آتی ہے جب حکمرانوں کیلئے پریشانی زورپکڑتاہے تو نیب کواستعمال کیاجاتاہے،نیب کابیان کہ مولانافضل الرحمن کے خلاف کوئی کیس نہیں،جمعیت علماء اسلام کی قیادت اکیلی نہیں بلکہ جمعیت کا ہر کارکن اپنی قیادت پر قربانی کیلئے تیار ہے یہ دوسری سیاسی جماعتوں کے کارکن نہیں جو اپنے قائدین پر باتوں کو دیکھتے نہیں لیکن مولانا کو گرفتار کرنے یا قائدین کے خلاف مہم جاری رہا تو اس کے سنگین نتائج برآمدہونگے،جمعیت نے انتہائی سخت فیصلے کئے ہیں انتہا اقدام اٹھانے پرمجبور نہ کیاجائے کہ ہم ایسا اقدام اٹھائے کہ حکومت پھر مجبوراََ اپنی باتوں اور کیسز کو واپس لیں،جمعیت بلوچستان اپنے قائدین کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں،تمام اضلاع،تحصیل اور یونٹوں کے عہدیداروں کوہدایت جاری کرتے ہیں کہ وہ تیار رہیں جمعیت کی جانب سے جو بھی فیصلہ ہوا تو24گھنٹوں میں اس پرعملدرآمد کیلئے تیار رہیں،قائدین کے خلاف کسی بھی گالی کو عمران خان سے گالی نہیں بلکہ ان قوتوں کی طرف سے سمجھتے ہیں جنہوں نے اجلاس کے دوران ہماری قیادت کے خلاف مہم شیخ رشید یا کسی اور کے ذریعے شروع کروائی ہیں پھر انہیں اسی انداز میں جواب دیں گے اور جواب دینا حق بجانب ہونگے۔تحریک کیلئے ہمارے کارکن ہمہ وقت تیار ہیں اگر ہمارے کارکن سڑکوں پر نکلیں توتمام ترذمہ داری طاقت ور قوتوں پر عائد ہوگی،بہت جلد بلوچستان میں پی ڈی ایم کااجلاس بلا کر تمام تر صورتحال ان کے سامنے رکھاجائے گا،انہوں نے کہاکہ 25اکتوبرکوبلوچستان میں ملین مارچ”ختم نبوت کانفرنس“ ہوگی جو اپنے سابقہ ریکارڈ توڑے گی،کارکن اور عہدیداران محنت جاری رکھیں،صحافیوں کے سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ دو سال سے ہم نے پرامن جمہوری جدوجہد کی لیکن وہاں سے پتھر ماری شروع ہوگئی تو پتھر کا جواب پتھر سے دینا پڑے گا،استعفوں کا مسئلہ رہبر کمیٹی کاہے تمام سیاسی واتحادی جماعتیں ایک پیج پر متفق ہیں جنوری تک جوشیڈول طے کیاگیاہے اس پر متفقہ طورپرعمل کیاجائیگا،کسی کی دورائے نہیں یہ حکومت کے حربے ہیں اپنے دن گننے والے ہیں تو اپوزیشن میں اختلافات کی باتوں کو بے بنیاد ہوا دی جارہی ہے یہ جھوٹوں کے ہتھکنڈے کسی صورت کامیاب نہیں ہونگے،اے پی سی میں تمام سیاسی جماعتیں موجود تھی ایک ہفتے میں آل پارٹیز میں شریک جماعتوں کااجلاس بلایاجائے گااور سب سے موثر تحریک بلوچستان سے چلے گی،ملکی سطح پر قیادت کے فیصلے کی اے این پی پابند ہوگی،یہ نظریاتی جماعت راتوں رات بننے والی جماعت نہیں بلکہ خان عبدالغفار خان اور خان عبدالولی خان کی جماعت ہے جو اپنی قیادت کی تابع ہوگی۔پی ڈی ایم کی قیادت جس کے پاس ہواس میں کوئی اختلاف نہیں،ہمارا بنیادی مقصد عوام کو اس سلیکٹڈ،نااہل،کشمیر کوفروخت کرنے والا،ختم نبوت کے خلاف قادیانیت نواز حکومت،بے روزگار اور مہنگائی بڑھانے والی حکومت سے نجات دلاناہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں