کوئٹہ، بلوچ طلباء کاملتان یونیورسٹی میں سکالرشپس کی بحالی کے لیے احتجاجی مظاہرہ
کوئٹہ؛بلوچ سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے زیراہتمام بہاؤ الدین ذکریا یونیورسٹی ملتان میں بلوچستان اور فاٹا کے طلباء کیلئے اسکالرشپس کی بحالی کیلئے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹرنواب بلوچ نے کہا کہ بلوچستان تعلیمی حوالے سے زبوں حالی کا شکارصوبہ ہے جہاں حکومت اورانتظامیہ کی نا اہلی کی وجہ سے طلبا کو آئے روز مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اسی تعلیمی زبوں حالی اور بلوچستان کے حالات کے پیش نظر پنجاب حکومت کی جانب سے بلوچستان کے طلباء کے لئے اسکالرشپس کا اعلان کیا گیا بلوچستان کے طلباء نے اپنی تعلیمی سرگرمیوں کے لئے پنجاب کا رخ کیا مگر 2018ء میں یونیورسٹی انتظامیہ نے اوپن میرٹ پر سکالرشپ کا خاتمہ کیا اب انہوں نے 2020ء سے کوٹے پر آئے ہوئے طلباء کیلئے فیس پالیسی لاگو کرنے کی پالیسی جاری کی ہے اس دوران اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کی جانب سے بھی طلباء کے اسکالرشپس کا خاتمہ کیا گیا جو ایک افسوسناک عمل ہے جس کی وجہ سے تعلیمی حوالے سے محکوم صوبے کے طلباء میں تشویش پائی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ بہاوالدین ذکریا یونیورسٹی ملتان کی جانب سے اسکالر شپس کا خاتمہ اور وائس چانسلر کی بے حسی ایک محکوم صوبے کے طلباء کے ساتھ نا انصافی ہے ۔انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کے اس اقدام کے خلاف طلباء نے یونیورسٹی کے گیٹ کے سامنے ایک احتجاجی کیمپ لگا ہے ۔انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ اور بلوچ طلباء کے درمیان مذاکرات میں یونیورسٹی انتظامیہ نے کہاکہ فنانشنل بحران کی وجہ سے اسکالرشپس کا خاتمہ کیاگیا ہے ہم پنجاب اور بلوچستان حکومت اورایچ ای سی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بلوچستان اورفاٹا کے طلباء کے مسائل کا جلد از جلد حل تلاش کیا جائے تاکہ طلباء اپنی سرگرمیاں برقرار رکھ سکیں۔


