متحدہ اپوزیشن کی رہبر کمیٹی حکومت مخالف تحریک کیلئے 3کمیٹیاں قائم کرنے پر متفق
اسلام آباد(آئی این پی)متحدہ اپوزیشن کی رہبر کمیٹی نے حکومت مخالف تحریک کیلئے 3کمیٹیاں قائم کرنے پر اتفاق کرلیا، تحریک عدم اعتماد، استعفوں کے معاملے، اپوزیشن کے متفقہ لائحہ عمل، جلسے اور احتجاج کیلئے کمیٹیاں قائم کی جائیں گی،رہبر کمیٹی کو بطور کوآرڈینیشن کمیٹی قائم کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے،کمیٹیوں بارے حتمی رائے کے بعد تجاویز قیادت کو دی جائیں گی۔ بدھ کو اسلام آباد میں اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کا اجلاس کنوینراکرم خان درانی کی زیر صدارت ہوا۔اجلاس میں آل پارٹیز کانفرنس میں طے کئے گئے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ذرائع کے مطابق اپوزیشن کی رہبر کمیٹی نے تین اہم امور پر مختلف کمیٹیاں قائم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، پارلیمنٹ میں تحریک عدم اعتماد اور قومی اسمبلی سے استعفوں پر ایک کمیٹی قائم ہوگی۔ذرائع کے مطابق ایک کمیٹی اپوزیشن کے متفقہ لائحہ عمل، جلسے اور احتجاج پر قائم کی جائے گی، جب کہ ایک کمیٹی تمام جماعتوں میں رابطوں کے حوالے سے امور انجام دے گی۔رہبر کمیٹی کو بطور کوآرڈینیشن کمیٹی قائم رکھنے کی بھی تجویز سامنے آئی ہے، ان کمیٹیوں کے بارے میں حتمی رائے کے بعد تجاویز قیادت کو دی جائیں گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کمیٹیوں کے امور کو دیکھنے کیلئے تین کنونیئربھی بنانے پر غور کیا گیا ہے، ہر کمیٹی کنونیئر کو تجاویز دے گی، جب کہ کنوینرقائدین کے سامنے تجاویز رکھے گا، تمام سفارشات پر حتمی فیصلہ پارٹیوں کے قائدین کریں گے۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال نے مختلف کمیٹیوں کے قیام کی تصدیق تے ہوئے کہا کہ رہبر کمیٹی نے کو آرڈینیشن کا بہترین کام کیا، اسے برقرار رکھا جا سکتا ہے۔اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رہبر کمیٹی کے کنوینراکرم خان درانی نے کہا کہ چند روز قبل اے پی سی ہوئی جس میں اپوزیشن کی بھرپور نمائندگی تھی ،تمام جماعتوں کے متفقہ اعلامیہ کی روشنی میں ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ جلد از جلد لائحہ عمل مرتب کریں ،رہبر کمیٹی کا اجلاس اے پی سی کا تسلسل ہے تاکہ جلد جلسے جلوس کا انعقاد کیا گیا ہے ،اے پی سی کے بعد پی ڈی ایم اور ایک خصوصی کمیٹی کی تشکیل کا اعلان کیا گیا تھا،ہم بھرپور مطالبہ کرتے ہیں کہ پی ڈی ایم کو جلد عمل میں لاکر کام کیا جائے،اے پی سی کے بعد حکومت اور اس کے سہولت کاروں میں ہلچل مچ چکی ہے،اس کی بڑی مثال مولانا کو نیب کا نوٹس ہے، بتایا جائے کون سے اثاثوں پر مولانا کو بلایا جارہا ہے ؟مولانا کی زندگی اور ان کے اثاثے سب کے سامنے ہیں،اس وقت تمام مذہبی فرقوں اہلحدیث ، اہل سنت، سنی اور شیعہ کو لڑانے کی کوشش ہورہی ہے اور دہشت گردی کی نئی لہر آرہی ہے ،میاں افتخار کو پھر سے دھمکیاں مل رہی ہیں، دن دیہاڑے لوگوں کو اسلام آباد سے اغواء کرلیا جاتا ہے ،اپوزیشن کو جو ووٹ دیئے گئے ہیں وہ دیکھ لیں اور جو زبردستی ووٹ حکومت کو ڈالے گئے اسکا موازنہ کرلیں،وزیراعظم بیچارہ جیسے حکومت چلا رہا ہے وہ سب کہ سامنے ہے ۔تمام سیاسی جماعتوں سے رہبر کمیٹی مطالبہ کرتی ہے کہ مرکزی ڈھانچہ تشکیل دیا جائے۔اے این پی کے رہنمامیاں افتخار احمد نے کہا کہ دو ہزار دس سے مسلسل دھمکیاں دی جارہی ہیں ،میرا لخت جگر شہید کیا گیا میں ڈرا نہیں ہوں ،میرے گھر خودکش حملہ ہوا اور دو جوان شہید ہوئے مگر میں جھکا نہیں ہوں ،میں باچا خان کا پیروکار ہوں، دھرتی پر مر مٹنے کو تیار ہوں،میں وطن، دھرتی کی خاطر کھڑا رہونگا اور اپنے خون کی قربانی دے دئوں گا مگر جھکوں گا نہیں ۔پشتونخواہ میپ کے زیارت وال نے کہا کہ عسکری قیادت کے ساتھ ملاقات میںپشتون خواہ اور نیشنل پارٹی کو نہیں بلایا گیا، کس کو کیوں بلایا گیا ہمیں علم نہیں،بوکھلاہٹ کا شکار ملک چلانے کے قابل نہیں ہیں ۔


