ملتان بلوچ طلبا کا احتجاج جاری،کوئی پرسان حال نہیں

بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل ملتان کی طرف سےاپنے مطالبات کے حق میں لگائےگئے احتجاجی کیمپ کو پچیس دن مکمل ہوگئےہیں مگرحکام کی جانب سے کوئی شنوائی نہیں ہوئی بلوچ طلبا کونسل کےرہنما وقاربلوچ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم گزشتہ پچیس دن سےاحتجاجی کیمپ میں بیٹھے ہوئے ہیں لیکن حکام اور یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے کوئی شنوائی نہیں ہورہی
انہوں نے کہا کہ میڈیا اور قلم کی دنیا سےوابستہ لوگ ہماری اس پرامن جدوجہد کو نظرانداز کررہے ہیں
چیرمین وقاربلوچ نے میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ امر ہمارے لیے افسوس ناک ہے کہ ہماری قوم کے نوجوان اور سیاست دان ہماری اس احتجاجی تحریک سے چشم پوشی کررہے ہیں
انہوں نےقوم اورسیاست دانوں سےاپیل کرتے ہوئے کہاکہ وہ ہماری تحریک سے وابستہ رہیں اور ہماری آواز کو اعلی حکام تک پہنچانے کی کوشش کریں
انہوں نےاس موقع پر بلوچستان اورپنجاب حکومت کی طرف سے سردمہری پراظہارِ افسوس کیا اور کہا کہ یہ امر ہمارے لیے باعث تشویش ہے کہ جمہوری حکومت کےہوتے ہوئے ہماری آواز کو حکومت سن نہیں پارہی اور نہ ہی ہمارے مسئلے کوحل کرنے کی کوشش میں مگن ہے
انہوں نےحکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا
کہ وہ بہاوالدین زکریا یونیورسٹی کی طرف سے فیس وصولی کےپالیسی کو روکیں اور ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے قبائلی علاقوں کےلیے کوٹے پرسکالرشپ کااجرا کرنے کےساتھ ان کےلیے ہرشعبے میں کوٹے کی تخصیص ممکن بنایاجائے
واضح رہے سوشل میڈیا پہ بھی بلوچ طلبا کی جانب سے

RestoreReserveSeatsInBZU کےعنوان سے ایک ہیش ٹرینڈبھی

چلائی گئی جو پاکستان میں نمبر ایک پر ٹرینڈکرگیا
جس پرایک ٹوئٹرصارف نےاظہارخیال کرتے ہوئےکہا
”بلوچ طلبا کےاحتجاجی کیمپ کوپچیس دن ہوئےہیں لیکن میڈیااس سےنظرچرانے کی کوشش کررہاہے بلوچ طلبا نمرہ علی تھوڑی ہے ان میں زیادہ بولنے کی ٹیلینٹ کہاں ہے؟گونگےہیں بول نہیں سکتے(نمرہ علی سےمعذرت،بہت اچھی بچی ہے)“
مزید لکھا ہے
”ہمارا مقصد نمرہ علی پرتضحیک یا طنزنہیں ہے بلکہ میڈیا پرطنز وتشنیع کرنا مقصودہے جنہوں نے سکالرشپ کی بحالی کےلیے ہمارےاحتجاجی کیمپ آنا گواراہ نہیں کیا، لویونمرہ علی“
ایک صارف علی محمد نےشکایت کرتے ہوئے لکھا
اپوزیشن سےہمارا گلہ ہے کہ انہوں نے کبھی ہماری آوازبلندنہیں کی ،ہماری سکالرشپ کی بحالی کی بات نہیں کی چاہے وہ نوازشریف والے ہو یا بلاول والے یا مولانا والے ،ایسی اپوزیشن پہ تھو
ایک صارف نے دل جلے انداز میں بلوچ میڈیا سے کچھ یوں شکایت کی
”بلوچ میڈیا سے ہمارا سوال ہے کہ آپ ہماری کوئی ایسی کوتاہی بتائیں؟ جس کی وجہ سےآپ ہماری آواز کو دبانے پہ تلے ہوئےہیں “
ایک صارف نے تو بلوچ سیاست دانوں کواڑےہاتھوں لیتے ہوئےلکھا
”میرا بلوچ سیاستدانوں سےسوال ہے ہم نے کون سی ایسی گناہ کی جس کی وجہ سےآپ لاہور اوراسلام آباد توآتے ہولیکن ہماری آواز سننے اوراظہارِیکجہتی کرنے ملتان نہیں آتے“
ایک صارف نے توعثمان خان کی وکالت والی تقریرکاحوالے دیتے ہوئےانہیں یاد دلانے کی کوشش کی
”عثمان بزدارصاحب!آپ نےکہاتھا کہ میں آپ کالاہورمیں وکیل بیٹھاہوں توآپ کی وکالت کہاں گئی؟ ڈیرہ غازی خان ،راجن پور اوربلوچستان کےطلباآپ کی طرف سے کیےگئےوعدوں کےپوراہونے کےمنتظرہیں “
واضح رہے بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل ملتان نے ٹرینڈ کوکامیاب بنانے پرتمام سوشل میڈیاایکٹوسٹ ،تنظیموں اور کونسلوں کاشکریہ ادا کیا

اپنا تبصرہ بھیجیں