بجلی کی بندش و پھل اور سبزیوں کی درآمد زمینداروں کے لیے تشویشناک ہے، ملک نصیر شاہوانی

کوئٹہ :زمیندار ایکشن کمیٹی کے چیئرمین و رکن صوبائی اسمبلی ملک نصیر احمد شاہوانی نے بلوں کی 75سے 80فیصد ادائیگی کے باوجود فیڈرز کی بندش اور ہمسایہ ممالک سے فروٹ اور سبزیوں کی غیر قانونی اسمگلنگ پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کی جانب سے زرعی ٹیوب ویلوں پر سبسڈی فراہم نہ کرنے پر بجلی بند کردی گئی ہے جو زمینداروں کیلئے تشویشناک بات ہے جبکہ ہمسایہ ممالک سے فروٹ اور سبزیوں کی غیر قانونی اسمگلنگ بلوچستان کے زمینداروں کامعاشی قتل ہے 2سے 4گھنٹے بجلی کی فراہمی کیخلاف آئندہ اجلاس میں وزیراعلیٰ ہائوس کے سامنے دھرنا اور سڑکوں کو بلاک کرنے سے متعلق لائحہ عمل طے کیا جائے گا ان خیالات کااظہارانہوں نے گزشتہ روز زمیندار ایکشن کمیٹی کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اجلاس کی صدارت چیئرمین و رکن صوبائی اسمبلی ملک نصیر احمد شاہوانی نے کی جس میں جنرل سیکرٹری عبدالرحمن بازئی، حاجی ولی محمد رئیسانی، حاجی نور احمد بلوچ، عزیز سرپراہ ، جبار کاکڑ، سید جبار آغا، افضل گشت، صدیق اللہ آغا، خالق داد، حبیب اللہ شاہ سمیت دیگر نے شرکت کی۔ اجلاس میں محکمہ واپڈا کی جانب سے بلوچستان کے زرعی ٹیوب ویلوں کے 622 فیڈرز پر 2 سے 4 گھنٹے بجلی فراہمی و مختلف فیڈرز کے بجلی بلوں کا جائزہ اور افغانستان و ایران سے آنے والے غیر قانونی فروٹ اور سبزیوں سے متعلق غور و خوض ہوا اجلاس میں اس امر پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ صوبے کے اکثریت فیڈرز کی بلیں 75 سے 82 فیصد تک ادائیگی کرنے کے باوجود بجلی کی بندش سمجھ سے بالاتر ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت کی طرف سے ٹیوب ویلوں پر سبسڈی کی عدم فراہمی پر واپڈا حکام کی جانب سے فیڈرز بند کئے گئے ہیں اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ زمیندار ایکشن کمیٹی کا اجلاس 6 اکتوبر کو ہوگا جس میں صوبائی حکومت کی طرف سے سبسڈی کی عدم ادائیگی پر زرعی ٹیوب ویلوں کی بجلی بند کرنے کے خلاف وزیر اعلی ہاس کے سامنے دھرنا دینے، روڈوں کو بلاک کرنے سمیت احتجاجی تحریک کے حوالے سے لائحہ عمل طے کیا جائے گا، اجلاس میں ایران اور افغانستان سے غیر قانونی طور پر لائی جانے والے پیاز ، انگور، سیب اور دیگر سبزیوں کی اسمگلنگ پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے اس سے بلوچستان کے زمینداروں کیلئے معاشی قتل قرار دیا اور کہا گیا کہ اگر حکومت کی طرف سے فوری طور پر اس غیر قانونی اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے اقدامات نہ اٹھائے گئے تو غیر قانونی طور پر آنے والے سامان کے مالکان اپنے نقصان کے ذمہ دار خود ہونگے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں