اسد اچکزئی اگر مجرم ہیں تو عدالت میں پیش کیاجائے، اصغرخان اچکزئی
چمن؛عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر و پارلیمانی لیڈر اصغر خان اچکزئی نے اے این پی کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات اسد خان اچکزئی کی گمشدگی کے خلاف کوژک ٹاپ پر 5روز تک پاک افغان قومی شاہراہ کے کھولنے اور6اکتوبر سے پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرے کے بعد دھرنے کو ڈپٹی کمشنر آفس چمن کے سامنے منتقل کرنے اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسد خان اچکزئی جو چمن سے کوئٹہ جارہے تھے راستے سے لاپتہ ہوچکے ہیں جس کا باقاعدہ ایف آئی آر درج کیا جاچکا ہے ، اسد خان اچکزئی کی آخری لوکیشن ائیرپورٹ روڈ کوئٹہ ہے ، ائیرپورٹ سے سے کسی شخص کا لاپتہ افراد حیران کن اور تعجب خیز بات ہے ۔ چمن میں آل پارٹیز تاجر اتحاد اور چیمبر آف کامرس کے مشترکہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے اصغر خان اچکزئی نے کہا کہ آل پارٹیز تاجر اتحاد وچیمبرآف کامرس کے عہدیداران خصوصی طورپر نئے نومنتخب صدر چیمبرآف کامرس کے حاجی جلات خان اچکزئی اوردیگر سماجی تنظیموں کا شکریہ اداکرتے ہیں جنہوںنے آج مشترکہ طورپر بیٹھ کر چمن کے مسائل کو حل کرنے کیلئے اپنی قیمتی آراء دیئے اور اس مشکل صورتحال میں مکمل ساتھ دینے کا اعلان کیا اور مشترکہ طور جدوجہد کااعلان کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر آفس کے سامنے احتجاجی مظاہرہ اور دھرنا ہوگا جس میں تمام سیاسی پارٹیاں شریک ہونگی اور شہرکے ہرمسائل پر مشترکہ ساتھ دینے پر انشاء اللہ مسائل کا خاتمہ ہونگا سافروں کے مشکلات کے پیش نظر کوئٹہ چمن شاہراہ کو کھولنے کا اعلان کرتے ہیں اور احتجاج کو چمن شہر میں ڈپٹی کمشنر آفس اور دیگر اہم دفاترکے سامنے مظاہرے اور دھرنا ہوگا انہوںنے مزیدکہاکہ اسدخان اچکزئی کو کوئٹہ جاتے ہوئے راستے سے لاپتہ ہوچکے ہیں جس کا باقاعدہ کوئٹہ ایئرپورٹ تھانہ میں ایف آئی آر درج کرچکے ہیں کیونکہ اسدخان اچکزئی کی آخری لوکیشن کوئٹہ ائیرپورٹ ہیں انہوںنے مزیدکہاکہ ائرپورٹ روڈ جیسے پوش ایریاء سے لاپتہ ہونا انتہائی حیران کن ہے اگر معاملہ اس کے برعکس ہوتا یعنی کسی غیر آباد علاقے توبہ اچکزئی دیگر پہاڑی سلسلے سے غائب ہوتے تو کوئی تعجب نہیں ہوتا مگر اس طرح کے پوش ایریاجہاں پر ٹریفک موومنٹ جاری رہتاہو تو تعجب کی بات ہیں بلکہ یہ سیکورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے ۔ریاست اور حکومت کایہ فرض ہے کہ وہ اپنے عوام کی جان ومال کی حفاظت یقینی بنائے اور ہم نے باقاعدہ ایف آئی آر درج کررکھی ہے ۔ ریاست اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے اسد خان اچکزئی کو بازیاب کریا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز بھی پریس کانفرنس میں کہاکہ اسدخان پر اگر کوئی الزام ہیں اورمجرم ہیں تو عدالت میں پیش کیاجائے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں سمجھ نہیں آرہا ہے کہ آخر چمن میں کیوں اسطرح کے واقعات متواتر ہورہے ہیں چمن کے لوگوں کا واحد ذریعہ معاش بارڈر کے کاروبار سے وابستہ ہے یہاں پر کوئی دوسراذریعہ معاش نہیں ہے پاک افغان سرحد کے ماسوائے کیونکہ یہاں پر ایگریکلچر نہیں ہے اورنہ ہی انڈسٹریل ہیں ۔ کیونکہ موجودہ پاک افغان سرحدپر روزگار کی بندش پر عوامی نیشنل پارٹی نے بھی کھل کر اپنی اظہار رائے کی کیونکہ ہم نے پوری زندگی ایوان میں نہیں گزارنی ہم نے واپس اسی عوام میں واپس آناہے اوردوسری بات لیویز کی پولیس میں انضمام کا ہیں جس پر ہم عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا تین اضلاع کے لیویز کا پولیس میں ضم ہونے کے بعد دیگر اضلاع کو رکوانے کیلئے عدالت میں ہم گئے اور یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ پہلے ہی خدانخواستہ ہم انتہائی تک جائے وہ اسدخان کی بحفاظت بازیابی کویقینی بناکر ہمیں دے دیں ۔انہوںنے پریس کانفرنس میں مزیدکہاکہ پہلے میرے والد کو شہید کیاگیا وہ بھی ساڑھے آٹھ بجے کے قریب شہرکے پوش روڈ پر جس پر ٹریفک کا انتہائی رش ہوتاہے مگر حملہ آوروں کو کوئی سراغ نہیں مل سکا پھر 8اگست کے سانحہ ہوا جس میں میرے بھائی عسکرخان شہید شہید ہوگئے اس کے بعد تیسرا واقعہ رسالدار میجر نصیب اللہ کا واقعہ تھا جس میں اس کو اپنے طریقے سے مارا گیاتھا مگر وہ تو اللہ تعالیٰ کا رحم تھا کہ وہ بچ گیا جبکہ اسدخان اچکزئی ایک گردے سے زندگی گزارہے ہیں جس کیلئے گھراس کیلئے ہسپتال جیساتھا اور ہر مہینے کراچی میں باقاعدہ وہ اپنا چیک اپ کراتے تھے اور کسی بھی ٹینشن کو وہ جھیل نہیں سکتے، انہوں نے کہا کہ ہم اس ملک میں حقیقی جمہوریت کے قائل لوگ ہیں اور پارلیمنٹ کی بالادستی چاہتے ہیں اور ہم اداروں کی عدم مداخلت کی بات کرتے ہیں اور ہرادارے کی اپنے حدود میں رہنے کی بات چاہتے ہم اداروں کی خلاف نہیں بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے ملک کے ادارے دنیا کی صف اول کی ادارے بن جائے ۔ انہوں نے کہاکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ساتھ جو رویہ رکھا گیا ہے روز روز اس کے بیوی بچے سیڑھیاں چڑھتے اترتے ہیں ہم اس کی سخت مخالفت کرتے ہیں ہم اس کے مخالف ہیں ، ہم چاہتے ہیں کہ جوڈیشری کو کام کرنے دیاجائے آل پارٹیز نے کوئٹہ چمن شاہراہ کو بند کردیا جس پر متعلقہ حکام اور انتظامیہ نے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا اور اس کو صرف عوام کی نقصان سے تشبیہ دی جس پر ہم نے فیصلہ کیاکہ کوژک کاراستہ کھولنے کا اعلان کرتے ہیں اور 6 تاریخ سے پریس کلب چمن کے سامنے سے جلسہ اور دھرنا دیاجائے گا جس کو ڈپٹی کمشنر آفس کے سامنے ہوگا اور شہرمیں نہ جلسہ ہوگا اور نہ ہی دھرنا ہوگا اور ہمارا جلسہ اوردھرنا اسوقت تک جاری رہے گا جب تک اسدخان اچکزئی کو بازیاب نہیں کرایاجاتا اور وہ چاہتے ہیں کہ پی ڈی ایم کا جلسہ ناکام ہو مگر الحمد اللہ پی ڈی ایم کے جلسے کو بھی کامیاب کرنے کیلئے بھرپور طریقے سے اپنا کام جاری رہے گا پی ڈی ایم جلسے کے بعد تمام سیاسی پارٹیوں کے صوبائی صدور کا ایک اہم اجلاس ہوگا جس میں اسٹیک ہولڈر ز کو شرکت کی دعوت دی جائے گی جس میں اہم فیصلے ہونگے اور صوبے کے لیول پر فیصلے ہونگے جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کاجلسہ عام آٹھ تاریخ کو قلعہ سیف اللہ میں جلسہ عام ہوگا اور احتجاج جاری رہے گا اس وقت تک جاری رہے گا جب تک اسدخان اچکزئی کو زندہ یامردہ بازیاب نہیں کرایاجاتااور ہم سب ہر حد تک جائینگے ۔


