اتحادی جماعتوں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان سے اے این پی کو حکومت سے علیحدہ کرنیکا مطالبہ کردیا

وفاق میں اپوزیشن جبکہ صوبے میں حکومت کے مزے لوٹے جا رہے ہیں ‘حکومت اور افواج پر تنقید برداشت نہیں‘اے این پی کے وزیر و مشیر کو برطرف کیا جائے‘ارکان صوبائی اسمبلی پی ٹی آئی

اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ میں عوامی نیشنل پارٹی کی شمولیت اور وفاقی حکومت بالخصوص وزیر اعظم عمران خان کے خلاف 8اکتوبر کو بلوچستان کے ضلع قلعہ سیف اللہ کے جلسہ عام میں عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی قیادت کی جانب سے وزیراعظم عمران خان اور حساس اداروں اور افواج پاکستان کے خلاف سخت لب و لہجہ اختیار کرنے پر پاکستان تحریک انصاف کے اراکین بلوچستان اسمبلی اور بلوچستان عوامی پارٹی کے وزراء نے وزیراعلی جام کمال سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی کے دو وزراء کو صوبائی کابینہ سے برطرف کیا جائیں کیونکہ وزیر اعظم عمران خان اور افواج پاکستان پر تنقید کرنے پر ہمارے پارلیمانی گروپ اور کارکنوں میں گہری تشویش پائی جاتی ہے اور عوامی نیشنل پارٹی بیک وقت حکومت اور اپوزیشن دونوں کے مزے لوٹ رہی ہیں ذرائع کے مطابق بلوچستان اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر صوبائی وزیر تعلیم سردار یار محمد رند اور دیگر جماعتوں کے اراکین اسمبلی جلد وزیراعلی جام کمال سے ملاقات کر کے پی ٹی آئی کے پارلیمانی گروپ اور کارکنوں کے خدشات سے وزیراعلی بلوچستان کو آگاہ کرینگے جس کے بعد امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وزیر اعلیٰ جام کمال وزیر اعظم عمران خان اور مقتدر قوتوں کی ناراضگی مول لینے کی بجائے بلوچستان کابینہ میں شامل اے این پی کے وزیر زراعت زمرک خان اچکزئی اور وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن ملک نعیم بازئی کو کابینہ سے فارغ کردینگے۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں