توہین عدالت اور بد ترین گورننس
تحریر: بایزیدخان خروٹی
کسی بھی حکومت یا اس کے محکموں کے خلاف کتنے مقدمات عدالتوں میں چل رہے ہیں یہ بظاہر ایک عام سا سوال لگتا ہے لیکن یہی سوال کسی بھی حکومت کی گورننس کو پرکھنے کا سب سے آسان اور سائنٹفک طریقہ ہے۔ جب کوئی حکومت قانون اور ضابطے کے مطابق چلائی جاتی ہے تو نا انصافی، بد انتظامی اور کرپشن کی شکایات بہت کم ہو جاتی ہیں کیونکہ ہر شخص کو اطمینان ہوتا ہے کہ اس کا کام کچھ عرصے کے بعد ہی سہی لیکن قانون اور ضابطے کے مطابق ہو جائے گا۔ لیکن جب بد انتظامی، کرپشن، میرٹ کی پامالی اور اقربا پروری عروج پر ہو تو بے بس اور ناانصافی کے شکار لوگوں کے پاس عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچتا۔ میرے ایک دوست سرکاری وکیل کے بقول اس وقت صوبائی حکومت اور اس کے مختلف محکموں کے خلاف ان دو سالوں میں سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں مقدمے صوبے کی مختلف عدالتوں میں چل رہے ہیں اور سنا ہے سرکاری سطح پر حکومت کا دفاع کرنے کے لیے موجودہ وکلاء کی تعداد ناکافی ہو چکی ہے شاید اس میں اضافے کے لیے صوبائی حکومت کو درخواست بھی کی جا چکی ہے۔ موجودہ حکومت پچھلی حکومتوں کو نااہل اور نجانے کیا کیا القابات سے نوازتی رہی ہے۔ اپنے اس بیانیے کی صداقت کے لیے گزشتہ مالی سال کے بجٹ کے بعد پروپیگنڈہ مشینری نے شاید کچھ فیلڈز میں موازنہ کرنے کی بھی کوشش کی۔ لیکن اب اس پر زیادہ زور نہیں دیا کیا ہی اچھا ہو اگر موجودہ حکومت خود ہی اپنا اور پچھلی حکومتوں کے دوران دائر کردہ مقدمات کا موازنہ پیش کر دے ورنہ تو کسی بھی نئے لاء گریجویٹ کے لیے یہ اچھا تحقیقی کام ہو سکتا ہے۔
کسی بھی حکومت کا بنیادی کام عوام کی فلاح و بہبود کے لیے قانون سازی کرنا ہوتا ہے۔ تاکہ عوام کو اپنے مسائل کے حل میں کسی دشواری کا سامنا نا کرنا پڑے۔ ہر کام ایک ضابطے کے مطابق ہو اور اگر پرانے قوانین کو موجودہ تقاضوں کے مطابق ڈھالنا مقصود ہو تو اس میں مناسب ترامیم کی جائیں۔ لیکن شاید یہ سب اس صوبے کے عوام کا مقدر نہیں۔ اور انھیں اپنے مسائل کے حل کے لیے عدالتوں کے چکر کاٹنے پڑتے ہیں۔ ہر حکومت مالی سال کے اختتام پر آمدن اور اخراجات کا ایک میزانیہ پیش کرتی ہے جسے بجٹ کہتے ہیں۔ بجٹ بنانے کے کچھ بنیادی اصول اور ضابطے طے ہوتے ہیں جس کے مطابق یہ سارا عمل مکمل ہوتا ہے۔ اور کہا جاتا ہے جو حکومت بجٹ پیش نہیں کر سکتی اسے حکومت کرنے کا کوئی حق نہیں ہوتا ہے۔ کہنے کو تو ہماری موجودہ صوبائی حکومت نے غالباً تین بجٹ پیش کیے ہیں۔ جو صوبائی حکومت کی نیک نامی کی بجائے بدنامی کا باعث بنے ہیں۔ ان میں سے دو بجٹ اتنے بھونڈے انداز میں بنائے گئے اور قانون کی اس طرح دھجیاں اڑائی گئیں کہ انہیں اعلٰی عدالتوں میں چیلنج کر دیا گیا۔ یہ ہمارے صوبے کا اعزاز ہے کہ پچھلی حکومت میں ایک مرتبہ ہماری پی ایس ڈی پی سپریم کورٹ میں چیلنج کی گئی جس پر اعلیٰ عدالت کو مداخلت کرنا پڑی اور ایک فیصلہ دینا پڑا جس میں قانون کی وضاحت کرتے ہوئے صوبائی حکومت کو ڈائریکشن دی گئی کہ بجٹ تیار کرتے وقت قانون اور ضابطے کو ملحوظ خاطر رکھیں۔ لیکن مجال ہے جو ہماری صوبائی حکومت نے کوئی سبق سیکھا ہو بلکہ موجودہ صوبائی حکومت کا ریکارڈ شاید ہی کوئی توڑ سکے کہ جس کے توانائی سے بھر پور، ایماندار اور پڑھے لکھے وزیراعلی کی سربراہی میں تیار کردہ دو بجٹ اعلی عدالت میں چیلنج کر دئیے گئے اور دونوں مرتبہ صوبائی حکومت کی جس طرح عزت افزائی ہوئی ہے اس کا اندازہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات کو توہین عدالت کے نوٹس سے لگایا جا سکتا ہے۔ اب گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کو چیک کرنا پڑے گا کہ آیا اس قسم کا ریکارڈ دنیا کے کسی اور ملک یا صوبے کے پاس بھی ہے یا صرف ہماری صوبائی حکومت اس ریکارڈ کو قائم کیے ہوئے ہے۔ ہماری صوبائی حکومت آئین جیسے بنیادی قانون کو خاطر میں نہیں لاتی تو باقی روزمرہ کے قوانین کا کون خیال کرتا ہے۔ اس بدقسمت صوبے کی اسمبلی نے معاونین کی تقرری کا بھی ایک قانون پاس کیا تھا جسے اعلی عدالت نے خلاف آئین قرار دے دیا۔ لیکن باجود اس کے عدالتی احکامات کو پاؤں تلے روندا جارہا ہے۔ عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کی توہین کرنے والے ایڈیشنل چیف سیکریٹری ترقیات بلوچستان کے کچھ دن قبل توہین عدالت کے نوٹس پر بھی چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ نے ایڈیشنل چیف سیکریٹری کی غیر مشروط معذرت قبول کرلی ہے۔ اُمید کرتا ہوں کہیں یہ احساس پیدا ہو کہ اچھے پرومو بنانے یا ٹوئٹ کرنے سے گورننس کبھی بہتر نہیں ہو سکتی اس کے لیے قانون اور ضابطے کا احترام اور اس پر عملدرآمد ضروری ہے عوامی رائے عامہ بہت ہی مختلف ہے جس کی صوبے میں انصافی سے صحافی تک کسی کو کوئی پرواہ نہیں موجودہ حکومت صوبے کی شاید پہلی حکومت ہوگی جو اپنے 2 سالہ دور حکومت میں سابق ڈی جی صحت کے خلاف کرپشن کے الزامات کے تحت ایف آئی درج کرچکی ہے جبکہ دوسری جانب حالت یہ ہے کہ
جس ڈاکٹر سلیم ابڑو پر غریب مریضوں کا ایک ارب روپے ہڑپ کرنے کا الزام ہے وہ ضمانت ملنے کے بعد تازہ دم ہو کر 16 اکبوتر کو بطور ایم ایس بی ایم سی، سینٹری سپروائزر بی ایم سی کو غیر قانونی سرگرمیوں، اور عوام کی جیبوں سے نوکریوں کے نام پر پیسہ نکالنے کا مورد الزام ٹھہراتے ہوئے انکی ذمہ داریوں سے فارغ کرتے ہیں۔ لیکن ایک بات جو مجھے پسند وہ یہ ہے کہ ڈاکٹر اپنے باس وزیراعلی سے تو بہتر ہے کہ اپنے ملازم کو مخصوص الزام پر عہدے سے فارغ کردیا ہے۔جبکہ ڈاکٹر سلیم ابڑو کے خلاف تو وزیراعلی بلوچستان خود وافر مقدار میں دستیاب ثبوتوں پر کاروائی کا حکم تو دے چکے ہیں لیکن انکو فارغ کرنے کی ہمت اس طرح نہ کرسکیں، جس طرح ڈاکٹر معالج خاندانی نے سینٹری سپروائزر کو ایک دستخط سے ناکارہ بنا دیا ہے۔ یہاں ڈاکٹر معالج خاندانی اور جام صاحب محترم کے قوت فیصلہ کے درمیان قلم میں نیلی اور سبز سیاہی کے رنگ کا فرق ہے


