پی ڈی ایم کب تک چلے گی۔۔۔۔!
تحریر: رشید بلوچ
پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ نے اپنا دوسرا پاور کراچی میں شو کیا،پاکستان پیپلز پارٹی کی میزبانی میں کراچی کا جلسہ گوجرانوالہ سے کئی گنا بڑا تھا،اس جلسے کا کریڈٹ پیپلز پارٹی کو مل گیا ہے اسکی وجہ یہ ہے کہ جلسے کے تمام اخراجات اور انتظامات پیپلز پارٹی کے زمہ تھے لیکن جلسہ کامیاب بنانے میں جمیعت علماء اسلام کے اندرون سندھ کے کارکنوں نے اپنی زیادہ سے زیادہ شرکت کے زریعہ بڑا اہم کردار ادا کیا،تھوڑی بہت نمائندگی ن لیگ اور اے این پی جب کہ دامے درمے سخنے نیشنل پارٹی،پشتونخوااور بی این پی کا بھی حصہ بنتا ہے۔۔۔
کراچی جلسہ عددی اعتبار سے تو گوجرانوالہ سے بڑا تھا لیکن قائدین کا ٹیمپو وہ نظر نہیں آیا جو گوجرانوالہ میں نظر آرہا تھا، مولانا فضل الرحمان کی تقریر سے یہ تاثر مل رہا تھا کہ مولانا“نادان دوست سے دانا دشمن بہتر ہے”کا نرم خو لہجہ اپنا کر اپنی ضرورت محسوس کرانا چا رہے تھے،گزشتہ سال کی آزادی مارچ کے بعد شاید یہ پہلا موقع تھا جس میں مولانا نے زرا لچکدار انداز اپنا یا کر دبے الفاظ میں کچھ اشاروں کنایؤں کی بولی میں مخاطب کو سمجھانے کی کوشش کی ہی، مریم نواز کی آدھی تقریر نانی ہونے کی سعادت مندی کی فضیلتیں بیان کرنے پر گزر گئی،عمران خان کو چھوٹا کہہ کر نفی کرنے کے باوجود باقی ساری تقریر عمران خان کے ہی گرد ہی لپیٹ دی گوجرانوالہ والا لب و لہجہ زرا ماند پڑ گیا تھا ،بلاول بھٹو نے گوجرانوالہ کی تقریر دوسری بار دہرا دی اس میں صرف سندھ اور بلوچستان کے ساحل کا اضافہ کر دیا،سردار اختر مینگل اور ڈاکٹر مالک بلوچ بلوچستان کا نوحہ اسٹیج پر بیٹھے سیاستدانوں کو سناتے رہے جیسے اسٹیج پر بیٹھی قیادت کو بلوچستان کے حالات اور معاملات کا ادراک نہ ہو حالانکہ دس سال اسٹیج پر بیٹھے ہونہار بیٹا،بیٹی کے ابا حضور ان نے حکومت کرچکے اوپر سے ستم ظرفی یہ کہ جمہوریت کی علمبردار بہن نے بلوچستان پر ایک لفظ بھی بولنا گوارا نہیں کیا، بلوچستان والے خاطر جمع رکھیں جب پوری جمہوریت بحال ہوگی تو بلوچستان کا زکر بھی ہوگا، محمود خان اچکزئی نے آئین کے تحت قوموں کی رشتہ داری والی اپنے پرانے بیانیہ کو ایک بار پھر دہرا دیا لیکن کراچی کو سندھ سے جوڑے رکھنے کے پیپلز پارٹی موقف کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اس سے پیپلز پارٹی والوں کو ایک اچھا پیغام ملا۔۔۔۔
پی ڈی ایم لیڈر شپ کی تقاریر کو کل ملا کر یہ کہا جاسکتا ہے کہ گویا کہ مولانا فضل الرحمان نے پی ڈی ایم کی چھت تلے مختلف الآراء خیالات کے لوگوں کو زبردستی ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے ہر ایک اپنی اپنی راگنی سنا رہاہے،دونوں جلسوں میں پی ڈی ایم قیادت کی متفرق انداز بیان یہ ظاہر کر رہی ہے کہ قیادت میں اب تک کسی ون پوائنٹ ایجنڈے پر اتفاق رائے موجود نہیں ہے،ہر ایک اپنی نوید کی پرچار کر رہا ہے،ن لیگی قیادت عوامی خواہش کو ساتھ لیکر موومنٹم بنانے کے بجائے اپنے ساتھ ہونے والے معاملات و واقعات کو بیان کرنے کو زیادہ ترجیح دے رہی ہے، یہ ایک اچھے اور دور بین سیاستدان کے شایان شان نہیں ہوا کرتا انہیں ابھی تک عوامی رائے عامہ بنانے کا تجربہ نہیں چونکہ اپنے صوبے سے کبھی باہر گئی نہیں عوامی اجتماعات نہیں دیکھی تو اپنی تقریر میں نکھار لانے میں مشکل پیش آرہی ہے،گزشتہ سال کوئٹہ جلسے میں انکی مشہور تقریر“ کوئٹہ والوں اردو سمجھ آتی ہے“ لطیفہ بن گیا تھا۔۔۔۔
بظاہر تو ن لیگ اور پیپلز پارٹی پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر یکجاہ نظر آرہی ہیں لیکن پس پردہ اعتزاز احسن اور خواجہ آصف پیپلز پارٹی اور ن لیگ مخالفانہ بیانیہ لیکر آگے جارہے ہیں،اعتزاز احسن کو پیپلز پارٹی نے نواز شریف مخالف اور ن لیگ نے خواجہ آصف کو آصف علی زرداری مخالفت بیان بازی پر معمور کر رکھا ہے، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمن بلاول زرداری نے گوجرانوالہ جلسے میں میاں نواز شریف کی تقریر سے اتفاق نہیں کیا،یہی وجہ ہے کہ کراچی میں پیپلز پارٹی کے زیر انتظام جلسے میں نواز شریف نے جان بوجھ کر تقریر نہیں کی حالانکہ پیپلز پارٹی نے میاں نواز شریف کی تقریر کیلئے پورے انتظامات کر رکھے تھے،فلحال مولانا فضل الرحمان نے کسی نہ کسی طریقے سے پی ڈی ایم کو تھام رکھا ہے اور مولانا ہی کی کوششوں سے یہ موومنٹ وجود میں آئی ہے،پی ڈی ایم کے سربراہ کی حیثیت سے اب یہ ذمہ داری مولانا ہی کے کندھوں پر ہے کہ وہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کو کیسے ساتھ لیکر چلیں۔
موجودہ حکومت سے متعلق ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان دو بنیادی اختلافات پائے جاتے ہیں مسلم لیگ ن چاہتی ہے کہ عمران خان کی حکومت کو چلتا کیا جائے اور از سر نو انتخابات کیئے جائیں تاکہ موجودہ حکومت کی وجہ سے ن لیگ پر جو افتاد آن پڑی ہے اسے اس مصیبت سے چھٹکارا مل سکے،دوسری طرف ن لیگ اپنی تئیں یہ بھی سمجھتی ہے کہ نئے انتخابات سے ن لیگ کو فائدہ ہوگا کیونکہ سب سے بڑی آبادی والے صوبے پنجاب میں اسکی حمایت زیادہ ہے نئے انتخابات کی صورت میں وہ بڑی پارلیمانی جماعت بن کر ابھرے گی، نئی بننے والی حکومت ن لیگ کی ہوگی،جب کہ پیپلز پارٹی کے خیال میں نئے انتخابات ہونے کی صورت میں اسے کچھ حاصل نہیں ہوگا، لے دے کر ایک بار پھر اسے سندھ کی حکومت ملنی ہے وہ تو ویسے بھی اسکے ہاتھ میں ہے،پیپلز پارٹی کو پنجاب میں از سر نو اپنی جڑیں مضبوط کرنی ہے اسے پنجاب کے عوام کی تائید وحمایت کی ضرورت ہے اسکے کیلئے بلاول زرداری کو مزید وقت درکار ہے،جہاں تک نیب کیسز کا تعلق ہے اس سے پیپلز پارٹی کو کافی سہولت مل چکی ہے،اس تمام صورت حال میں پیپلز پارٹی کو موجودہ حکومت سے کوئی خاص پریشانی نہیں ہے اور اسے پنجاب میں اپنے حق میں رائے عامہ ہموار کرنے کیلئے وقت مل سکتا ہے،رہی بات مولانا کی تو گزشتہ سال آزادی مارچ سے مولانا حکومت سے دو بدو ہونے کو ذہنی طور پر تیار بیٹھے ہیں اور انکے کارکن بھی مولانا کے اشارے کا منتظر ہے،فی الحال مولانا اور ن لیگ نئے الیکشن کے ایجنڈے پر بلکل یکسو ہیں۔۔۔۔
،دو متضاد سوچ کے حامل جماعتوں کا ایک پلیٹ فارم پر یکجاہ ہوکر آگے جانے کے امکانات بہت ہی کم ہیں، ممکن ہے پیپلز پارٹی آگے چل کر پی ڈی ایم سے علیحدگی اختیار کر لے اگر ایسا ہوا تو بلوچستان نیشنل پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی بھی اس موومنٹ سے الگ ہوسکتے ہیں،یہ دونوں جماعتیں ن لیگ کے بجائے پیپلز پارٹی سے زیادہ قریب سمجھے جاتے ہیں اسکی وجہ ہر ایک جماعت کے اپنے حلقوں اور صوبے کی سیاست ہے،نیشنل پارٹی اور بی این پی،اے این پی اور پشتونخواہ نے ہمیشہ ایک دوسرے کی مخالف سیاست کی ہے 2013سے نیشنل پارٹی اور پشتونخواہ میپ ن لیگ کے سیاسی اتحادی رہی ہیں جب کہ اے این پی 2008 میں پیپلز پارٹی کی اتحادی رہی ہے،بی این پی کی حالیہ دنوں میں پیپلز پارٹی سے کافی قربت نظر آرہی ہے اس قربت کااندازہ کراچی جلسے سے لگا یا جاسکتا ہے،کراچی جلسے میں پیپلز پارٹی نے سردار اختر مینگل کو پر جوش انداز میں نمائندگی دی ہے،بی این پی کیلئے ایسی پرجوش نمائندگی گوجرانوالہ میں نظر نہیں آیا،یوں سمجھیں کہ پیپلز پارٹی کی علیحدگی کی صورت میں اپوزیشن واضح صورت میں دو حصوں میں تقسیم ہوجائے گی،پی ڈی ایم کے اندر موجودہ جو دم خم ہے وہ پست ہوجائے گی جس دن عمران حکومت کو لگا کہ اپوزیشن کمزور پوزیشن میں آگئی ہے تو اسی دن سے پکڑ دھکڑ شروع ہوجائے گی،ن لیگ گرفتاریوں میں سر فہرست ہوگی،ن لیگی کارکن کو جیل جانے کا تجربہ ہے نہ ہی مزاحمت کی تربیت،آخر کار جمعیت کے مجاہد صف اوّل میں آنا ہوگا، ن لیگ کی لڑائی جمعیت کو لڑنی ہوگی،نیشنل پارٹی اور پشتونخواہ میپ کے کارکن کے پاس پنجاب کی جماعت کیلئے کمر بستہ نہ ہونے کا جواز موجود ہے۔


