11جماعتی اتحاد،مشکل راستہ،طویل مسافت

دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستا ن بھی اپنے گوناگوں مسائل کی بناء پرآئیڈیل یا کتابی جمہوریت کی بجائے نئے راستے پر چلتا رہا۔دوسری جنگ عظیم کے بعد عالمی بساط نئے سرے سے بچھائی گئی۔ایک جرمنی کے دوٹکڑے ہوئے، کوریاٹوٹا، ویت نام کے دو حصے ہوئے، یمن تقسیم ہونے سے نہیں بچا، برصغیر(جنوبی ایشیا) میں بھارت اور پاکستان نمودار ہوئے۔اس کی وجہ یہ تھی کہ عملی طور پر طاقت کے دو عالمی مراکز وجود میں آچکے تھے۔ایک دوسرے سے متصادم دوسیاسی تصورات روس اور امریکہ کی شکل میں اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہے تھے۔بھارت اور بعض دیگر ممالک نے غیر جانبدار ہونے کا اعلان کیااور اپنے لئے سوشلسٹ اور امریکی دونوں بلاکس میں بیک وقت رہنے کی حکمت عملی اپنائی۔ پاکستان نے امریکی کیمپ پسند کیااور سوشلسٹ بلاک کے مخالف بلاک کا حصہ بن گیا۔ابتدائی ایام میں کئے گئے فیصلے اپنے تمام تر نتائج و عواقب کے ساتھ آج تک پاکستانی عوام کا تعاقب کر رہے ہیں۔ملک دو لخت ہونے کے بعد بھی پاکستان امریکی بلاک میں رہا۔جبکہ اس کے ساتھ ساتھ جلسوں کا مقبول نعرہ”امریکہ کا جو یار ہے، غدار ہے غدار ہے“، بھی گونجتارہا۔البتہ پاکستان کے تعلقات ہنری کسنجر کی چینی قیادت سے خفیہ ملاقات کرانے میں اہم کردار کی وجہ سے قربتوں میں تبدیل ہونے لگے۔ امریکہ نے بھی اپنی مصلحتوں اور مفادات کے تحت ممکنہ حد تک چشم پوشی اختیار کی۔ 73سالہ تاریخ کو مختصر کر کے دیکھاجائے تو پاکستان نے امریکی دوستی میں اپنے ہمسایہ ملک اور عالمی طاقت روس کی دشمنی مول لینے سے بھی گریز نہیں کیا۔پشاور کے قریب امریکہ کو ہوائی اڈہ فراہم کیا جہاں سے امریکی جاسوس طیارے اڑ کر روسی فضائی حدود میں داخل ہوتے تھے اورپھر افغانستان سے روسی افواج کو نکالنے میں پاکستان کا کردار سب کے سامنے ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ افغانستان اس وقت سے آج تک ایک طویل خانہ جنگی کا شکار ہے،اور امریکہ افغانستان کو پتھر کے دور میں پہنچانے کی خواہش پوری نہ ہونے کے باوجود یہاں سے ’باعزت‘نکلنے کی تگ و دو کر رہا ہے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ تاریخ کامیابیوں اور ناکامیوں کی داستانوں کا مجموعہ ہے۔100فیصد کامیابیاں کسی ملک کے حصے میں نہیں آئیں، پاکستان میں بھی یہ ان ہونی نہیں ہو سکی۔سیاست کسی کشادہ شاہراہ کا نام نہیں کہ اس پر تیز رفتاری سے سفر کیا جائے،اسے سیاسی ماہرین نے ایسی ٹیڑھی میڑھی پگڈنڈی سے تعبیر کیا ہے جس کے دونوں جانب خار دار جھاڑیاں اگی ہوں اور کانٹوں سے اپنا دامن بچاتے ہوئے منزل کی جانب بڑھنا ہے۔پاکستانی سیاستدان دو اقسام کے ہیں: حادثاتی ہیں یا موروثی۔ حادثاتی عارضی اسباب اور ضرورتوں کے نتیجے میں نمودار ہوتے ہیں اور وقت بدلتے ہی غائب ہو جاتے ہیں۔ جبکہ موروثی اپنی داخلی اور ساختی کمزوریوں کے باعث اسی طرح معدوم ہو جاتے ہیں جیسے آج بادشاہتیں ہمیں کہیں دکھائی نہیں دیتیں۔بھارت میں کانگریس جیسی بھاری بھرکم سیاسی جماعت موروثیت کا شکار ہو کرآخری سانس لے رہی ہے۔عرب ممالک کو ظاہری طورپر بادشاہت کہا جا سکتا ہے مگر باطنی طور پر سب مل کر بھی اسرائیل کے سامنے بے بس ہیں، یہ روایتی بادشاہت کی نفی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی حکمرانوں کوایک ہفتے میں ہٹانے کی دھمکی دی تھی۔کورونا نے ان کی معاشی حالت کو بے نقاب کر دیا ہے۔سیاحت بند ہوتے ہی انہیں دو وقت کی روٹی کے لالے پڑ گئے ہیں۔ ہمارے بیشتر سیاستدان سیاست کی ابجد سے بھی ناواقف ہیں۔جذباتیت اور انا پرستی کے خول میں بند ہیں۔معروضی حقائق سے بے خبر ہیں یا دانستہ ادھر دیکھنا نہیں چاہتے۔اپنی خواہشات کے قیدی ہیں۔زود رنج ہیں۔ ان کے بارے میں بلوچستان کے نامور سیاست دان میر غوث بخش بزنجوکے ریمارکس تاریخ کے ریکارڈ پر موجود ہیں جو انہوں نے نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) کی نئی تشکیل ’عوامی نیشنل پارٹی‘(اے این پی)کے قیام پر دیئے تھے۔انہوں نے اپنے دیرینہ سیاسی ساتھی خان عبد الولی خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا:
”میں نے اپنے سارے ہیرے جواہرات تمہاری جھولی میں ڈال دیئے ہیں،لیکن ان کا خیال رکھنا، بہت نازک ہیں، بہت جلد ٹوٹ جاتے ہیں“۔
اس جملے میں پاکستان کے سیاسی مزاج کابھرپور تجزیہ دیکھاجاسکتا ہے۔ملک کے ایک مخلص،ہر مشکل وقت میں ثابت قدم رہنے والے منجھے ہوئے سیاست کے عملی تجربات کا نچوڑ ہے۔انہیں علم تھا کہ ان کے دائیں بائیں موجود سیاست دان نازک مزاج ہیں، زود رنج ہیں، بہت جلد ٹوٹ جاتے ہیں۔ مگر اب حالات کہیں زیادہ ابتر ہیں۔آج میڈیا تمام حدود و قیود توڑ کر خلوتوں تک رسائی حاصل کر چکا ہے۔فجر کی نماز کے وقت سارا کراچی سو رہا ہوتا ہے مگر ایک کیمرامین پولیس اورکیپٹن (ر) محمد صفدر اعوان کی تصویریں اتارنے کے لئے موقعہ واردات پر موجود ہوتا ہے۔وہ جانتا ہے کہ تصویریں سند بنیں گی اور بوقت ضرورت کام آئیں گی۔ابھی 11جماعتی اتحاد نے اپنا سفر شروع کیا ہے۔جوں جوں وقت گزرے گا پی ڈی ایم کو احساس ہونے لگے گا کہ راستہ مشکل ہے اور مسافت بھی طو یل ہے۔ بعض مبصرین کویہ سفر لاہور کے جلسے پر ختم ہوتا نظر نہیں آتا۔اگلے مراحل سے پہلے بہت کچھ ہونے کے آثار سیاسی افق پر پیدا ہوتے جا رہے ہیں۔سابق گورنر سندھ محمد زبیر تھانے میں داخل نہ ہو سکیں تو مسلم لیگ کی سینئر نائب صدرمریم نواز کو اپنے ترجمان کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک سے سمجھ لینا چاہیے کہ ابھی وہ پیج نہیں پلٹا جس کے پلٹنے کی وہ آس لگائے بیٹھی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں