سردار ایاز صادق کا ابھینندن بارے بیان، شبلی فراز نے معافی مانگنے کا مطالبہ کردیا

اسلام آباد:وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات سید شبلی فراز نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما سردار ایاز صادق کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ابھینندن بارے بیان دشمن کو خوش کرنے کیلئے دیا۔ وہ اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہو کر قوم سے معافی مانگیں۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے بہادر شاہینوں نے دشمن کے طیاروں کو مار گرایا۔ بھارت نے ہزیمت اٹھانے کے بعد کہا کہ اگر ہمارے پاس رافیل طیارے ہوتے تو ایسا نہ ہوتا۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ یہ صرف ذاتی مفاد کے لیے پورے نظام کو درہم برہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اپوزیشن کا مقصد ملک میں افراتفری پھیلانا ہے۔ یہ اپنے لیڈرکے لیے فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں جس پر سیریس کرپشن کے چارجز ہیں۔
انہوں نے لیگی رہنما ایاز صادق کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہمارے ملک کی فتح کو شکست میں تبدیل کر رہے ہیں۔ آپ ایسا کرنے والے ہوتے کون ہیں؟ ان باتوں سے لگ رہا ہے کہ یہ پاکستان کو عالمی سطح پر شرمندہ کرنا چاہتے ہیں۔ آپ فوج میں تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
شبلی فراز کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے بھارتی ونگ کمانڈر ابھینندن کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا جس کو دنیا میں سراہا گیا۔ ایاز صادق نے ثابت کیا وہ سپیکر قومی اسمبلی کے عہدے کے قابل نہیں تھے۔ انہوں نے سو فیصد دشمن کو خوش کرنے کے لیے ایسا بیان دیا۔ اس بیان کے بعد بھارت میں شادیانے بجائے جا رہے ہیں۔ اس دوران ملک کے خلاف مختلف سازشیں ہو رہی ہیں۔
وزیر اطلاعات نے تمام اپوزیشن جماعتوں پر واضح کیا کہ یہ بات طے ہے کہ پاکستان کی سیاست اب ذاتی مفادات کے طور پر نہیں چلے گی بلکہ قومی مفاد کے گرد گھومے گی۔ انشاء اللہ سینیٹ الیکشن بھی ہونگے۔ مہنگائی ایک سنجیدہ ایشو لیکن عارضی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ سارے نیب زدہ ہیں۔ چالیس سال انہوں نے حکمرانی کی، کونسی دودھ اور شہد کی نہریں بہا دی تھیں؟ ہم نے نواز شریف کو وطن واپس لا کر ان سے پیسے نکلوانے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان، نواز شریف کی طرح بادشاہوں کی طرح حکمرانی نہیں کر رہے۔ کورونا کے مشکل حالات کے باوجود معیشت چل رہی ہے۔
شبلی فراز نے مطالبہ کیا کہ پی ڈی ایم کی لیڈرشپ بھی قوم سے معافی مانگے، ہم اس سے کم پر راضی نہیں ہونگے۔ ملکی مفادات پر کھیلنے والے عوام کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے۔ یہ آرٹیکل 19 کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ اگر ایازصادق اور پی ڈی ایم کی لیڈرشپ معافی مانگ لے تو ٹھیک، ورنہ قانون اپنا راستے لے گا۔ انہوں نے خود اپنی حیثیت قوم کو بتا دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت میں تو بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کا کبھی نام نہیں لیا جاتا تھا۔ یہ اتنی گری ہوئی سطح پر چلے گئے ہیں۔ یہ سارے جھوٹے، ہر بات پر جھوٹ نہ بولیں تو انہیں کھانا ہضم نہیں ہوتا۔
سینیٹ اجلاس میں شبلی فراز کی تقریر کے دوران اپوزیشن نے شور شرابہ کیا اور واک آؤٹ کر گئے۔ شبلی فراز نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں اداروں کو تباہ کیا گیا لیکن ہم انھیں مضبوط کر رہے ہیں۔ اپوزیشن میں سچ سننے کی ہمت ہی نہیں ہے۔ بھارت میں پاکستان مخالف بیانیے کی ترویج ہو رہی ہے۔ اپوزیشن کے بیانیہ پر دشمن ملک میں کھیلا جا رہا ہے۔ سب سے اہم ایشو ملک ہے، اس پر بات کرنے دی جائے، ملک کے خلاف بیانیہ چل رہا ہے۔
شبلی فراز کا کہنا تھا سی پیک اتھارٹی کے منصوبے بھرپور طریقے سے چل رہے ہیں۔ قائمہ کمیٹیوں میں معاملے کی حمایت، ایوان میں مخالفت کرتے ہیں۔ یہ دشمنوں کو خوش کر رہے ہیں لیکن دوسروں کو ناراض تو نہ کریں۔ ہم اپوزیشن کو سی پیک کو سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ چین ہمارا دیرینہ دوست ہے۔ غلط باتیں کرنے سے خارجہ پالیسی سے متعلق غلط پیغام جاتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں