اتنا اہم واقعہ مگر وزیراعظم بے خبر!

آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کی ہدایت پر قائم کی گئی انکوائری رپورٹ میں نہ صرف یہ ثابت ہوگیا کہ آئی جی سندھ کوان کی رہائشگاہ سے رات گئے آئی ایس آئی اور رینجرزکے افسران نے مزار قائد پر صفدر اعوان کی نعرے بازی کے حوالے سے گرفتاری کے احکامات(زبردستی) جاری کرانے لے گئے بلکہ چار افسران کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیاگیا ہے اور مزید محکمہ جاتی کارروائی جی ایچ کیو میں کی جائے گی۔رپورٹ میں تسلیم کیا گیا ہے کہ اس اقدام کے نتیجے میں قانون نافذ کرنے والے دو اداروں کے درمیان غلط فہمی پیدا ہوئی۔تفصیلی رپورٹ جاری ہونے پر معلوم ہوگا کہ یہ غلط فہمی بروقت دور نہ کی جاتی تو کسی بڑے تصادم کی شکل اختیار کر سکتی تھی۔سندھ پولیس کے اعلیٰ افسران، جن میں آئی جی سے ایس ایس پی تک کے افسر شامل تھے،احتجاجاًبیک وقت لمبی چھٹی پر چلے گئے جبکہ ایس پیز اور ڈی ایس پیز بھی احتجاج میں شریک ہونے کا فیصلہ کر چکے تھے۔چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو نے صورت حال کی سنگینی کے پیش نظر آرمی چیف سے مدد مانگی اور مثبت جواب کے نتیجے میں ملکی تاریخ کاایک بڑا تصادم ٹل گیا۔دکھ کی بات یہ ہے کہ ملک کے وزیر اعظم عمران خان اتنے بڑے واقعہ کو اپنی لاعلمی اور بے خبری کے باعث سندھ حکومت کی طرف سے رچایا جانے والا سیاسی ڈرامہ سمجھتے رہے۔ حالانکہ سولہ سترہ خفیہ ایجنسیاں ملک میں رونما ہونے والی ہر چھوٹی بڑی تبدیلی اور پیدا ہونے والی ہر رنجش اور شکایت کی رپورٹ یا سمری روزانہ کی بنیادوں پروزیر اعظم ہاؤس بھیجتی ہیں۔اسکے معنے یہی ہوتے ہیں کہ وزیر اعظم ہاؤس میں بیٹھے متعلقہ افسران جان بوجھ کر وزیر اعظم کو اہم ترین واقعات سے بے خبر رکھتے ہیں یاوہ اتنے نااہل ہیں کہ انہیں ایسے واقعات کی سنگینی اور مضر اثرات کا سرے سے علم ہی نہیں۔دونوں صورتیں ملک اور عوام کے لئے سخت نقصان دہ ہیں۔اس سے پہلے وزیر اعظم خود کہہ چکے ہیں کہ انہیں فلاں اطلاع ان کی اہلیہ نے دی تھی یاٹی وی دیکھ کر انہیں علم ہواتھا۔
جبکہ وزیر اعظم محترمہ بینظیر بھٹو سندھ کے حالات سے صوبائی وزراء سے بھی زیادہ باخبر رہتی تھیں۔ پاکستان اسٹیل ملز میں ہونے والے ریفرنڈم کے حوالے سے ایک تفصیلی رپورٹ وزیر محنت کو رات دو بجے فیکس کی گئی اور فون پر وزیر اعظم نے مشورہ دیا کہ ریفرنڈم ملتوی کر دیا جائے۔ صوبائی وزیر محنت نے جیت کا یقین دلایا اور مشورہ نہیں مانا،مگر ریفرنڈم میں پی پی پی کی نمائندہ یونین ریفرنڈم ہار گئی۔اس کے کچھ عرصے بعد محترمہ بینظیر بھٹو ایک بحری جہاز کی سمندر میں اتارے جانے کی تقریب میں شرکت کے لئے بطور مہمان خصوصی وہارف پہنچیں تو جیسے ہی متعلقہ وزیر محنت پر نظر پڑی بیساختہ اس کانام لے کر اپنا مشورہ یاد دلایااور کہا:”میں نے نہیں سمجھایا تھا ریفرنڈم ملتوی کردو!“۔۔۔وہ فیکس اور فون کا دور تھا، آج جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے اپوزیشن وزیر اعظم کے مقابلے میں حالات سے زیادہ باخبر دکھائی دیتی ہے۔آرمی چیف کی قائم کردہ کورٹ انکوائری رپورٹ سے تو یہی دکھائی دیتا ہے۔ یہ بے خبری دیکھ کر قومی اسمبلی کے فلور پر مسلم لیگ نون کے سینئررہنما خواجہ آصف کی وارننگ یاد آتی ہے جس میں انہوں نے اپنے طویل سیاسی تجربے کی روشنی میں حکومت کو خبردار کیاتھا:۔۔۔۔۔”یہ چھت جسے ہم مضبوط سمجھ رہے ہوتے ہیں اچانک ہمارے سروں پر گر جاتی ہے، ایساپہلے بھی ہو چکا ہے اور آئندہ بھی اس کے امکانات موجود ہیں“۔۔سندھ کے آئی جی کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ انتظامی اور سیاسی اعتبار سے انتہائی اہم اور سنجیدہ تھا۔اگر اس معاملے کا بروقت نوٹس نہ لیاجاتا تو صورتِ حال قابوسے باہر ہوسکتی تھی۔ابھی بھی خطرہ پوری طرح نہیں ٹلا، اس کے آفٹر شاکس آ سکتے ہیں۔اسکی اہمیت کا اندازہ لگانے کے لئے یہی کافی ہے کہ ہمارے ہمسایہ ملک میں یہ ”ہاٹ کیک“ کی طرح بکا،وہاں دونوں اداروں کے درمیان باقاعدہ ”جنگ“کی خبریں نشر ہوئیں۔وزیراعظم مانیں یا نہ مانیں معاملہ بہت اہم اور خطرناک تھا۔
وزیر اعظم عمران خان کو ایک جانب اپنے طرز عمل کا از سرنو جائزہ لینا چاہیئے کہ وہ صوبائی دارالحکومتوں سے بھیجی گئی ایجنسیوں کی رپورٹس کامطالعہ خود کریں یایہ ذمہ داری اپنے انتہائی قابل اعتماد فرد کے سپرد کریں جوواقعات کی نوعیت، اثر پذیری اور ممکنہ نتائج کاادراک رکھتا ہو۔اسلام آباد کا مزاج بڑا نازک اور ناقابل بھروسہ ہے۔فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کو عوامی نفرت کی شدت کا اس وقت علم ہوتا ہے جب ان کی چہیتی نواسی ”۔۔۔ کتا، ہائے ہائے“ کا نعرہ لگاتی ہوئی صدارتی محل میں داخل ہوئی تھی۔ سرکاری افسر ”سب اچھا ہے“ کی رپورٹس بھیجنے کے عادی ہیں۔خوشامد پرستی ان کی تربیت بلکہ گھٹی میں شامل ہے۔انہیں اچھی طرح یاد کرایا جاتا ہے:”Boss is always right.“۔وہ آپ کوصرف اپنا Bossسمجھتے ہیں، اس لئے صرف وہی رپورٹ پیش کرتے ہیں جسے دیکھ کر آپ کے چہرے پر مسکراہٹ آجائے ایسی رپورٹ نہیں پیش کی جاتی جسے دیکھ کر آپ کے ماتھے پر شکنیں نمودار ہوں۔انہیں آپ سے پہلے ایک باس کی چاپلوسی کا تجربہ حاصل تھا آپ کے بعد وہ اسی تجربے کو نئے آنے والے باس پر آزمائیں گے۔تبدیلی کے مہنگائی سے نجات دلانے کے ترقی اور خوشحالی کے وعدے عوام سے آپ نے کئے تھے، ”سب اچھا ہے“ کی رپورٹس پیش کرنے والے سرکاری ملازم نے نہیں کئے تھے۔کوئی ایسا افسر تلاش کریں جو عوام سے مخلص ہو اپنی ذات سے بڑھ کرریاست سے پیار کرتا ہو۔آپ کی مسکراہٹ ہی اس کی آخری منزل نہ ہو۔ آئی جی سندھ کے ساتھ پیش آنے واقعے پر آپ کاقہقہہ سندھ پولیس اورعام آدمی کے لئے تکلیف دہ تھا۔اپنے ارد گرد بیٹھے دوست نما دشمنوں کو پہچانیں۔اقتدار عارضی ہے آدھی مدت گزر چکی ہے، جو کر سکتے ہیں، کر جائیں،تاکہ کل وزیراعظم ہاؤس سے اپنے پرانے گھر جاتے وقت افسوس نہ ہو کہ یہ کام کر سکتا تھا مگر چاپلوسوں نے نظروں سے اوجھل رکھا۔بے خبری سب سے بڑا دشمن ہے۔حالات سے باخبر رہنے کو یقینی بنائیں۔یاد رہے عام آدمی کی زبان پر چاپلوسی نہیں ہوتی، کھرا سچ ہوتا ہے۔عام آدمی کے دکھ سانجھے ہیں، انہیں سیاسی خانوں میں بانٹ کر نہ گناجائے۔ناراض ہوجائیں تو وعدے کام نہیں آتے۔کارکردگی کام آتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں