کیچ کے برطرف اساتذہ کی بحالی کیلئے تادم مرگ بھوک ہڑتال کا اعلا ن کردیا
کوئٹہ:گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن نے کیچ کے برطرف 114اساتذہ کی بحالی کیلئے تادم مرگ بھوک ہڑتال اور وزیراعلیٰ ہاؤس کے گھیراؤ کا علا ن کردیا۔ یہ بات گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن کے صدر حبیب الرحمن مردانزئی،محمدیونس کاکڑ،اکبر علی اکبر،نظام الدین کاکڑ اور عبدلخالق بڑیچ نے پیر کو احتجاجی ریلی کے شرکاء سے پریس کلب کے سامنے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ا س سے قبل حبیب الرحمن مردانزئی کی قیادت میں ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی جس میں بڑی تعداد میں اساتذہ نے شرکت کی اساتذہ پلے کارڈ اٹھارکھے تھے جن پر کیچ کے 114اساتذہ کو فوری طورپر بحال کرنے کے نعرے درج تھے۔مقررین نے کہا کہ محکمہ تعلیم حکومت بلوچستان نے کیچ سے تعلق رکھنے والے 114خواتین اور مردٹیچروں کو بغیر کسی شوکاز نوٹس کے ملازمتوں سے برطرف کردیا جو قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ کی برطرفی سے 114خاندانوں کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑچکے ہیں حکومت کی جانب سے بار بار یقین دہانیوں کے باوجود برطرف ملازمین کو بحال نہیں کیاجارہا ہے اور کیچ سے تعلق رکھنے والے برطرف اساتذہ اور خواتین گزشتہ کئی دنوں سے شدید سردی میں پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ لگائے بیٹھے ہیں لیکن حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ گورنمنٹ ٹچرز ایسوسی ایشن نے پرامن رہتے ہوئے برطرف اساتذہ کی بحال کیلئے جدوجہد شروع کررکھی ہے لیکن بار بار یقین دہانیوں کے باوجود کوئی شنوائی نہیں ہورہی۔ انہو ں نے کہا کہ اگر حکومت نے فوری طورپربرطرف اساتذہ کو بحال نہیں کیا تو گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن وزیراعلیٰ ہاؤس کا گھیراؤ کریگی۔ انہوں نے گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن کی جانب سے آج سے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے تادم مرگ بھوک ہڑتال کرنے کااعلان کرتے ہوئے کہا کہ اگر اساتذہ کو کچھ ہواتواسکی تمام ترذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔


