کوہلو،سلنڈر دھماکے میں جاں بحق بچوں کی تعداد 11ہوگئی،

کوہلو :بلوچستان کے ضلع کوہلو میں شادی کی تقریب میں گیس سلنڈر پھٹنے کے حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 11ہوگئی حادثے میں 36کم سن بچے زخمی ہوگئے تھے بلوچستان حکومت کی جانب سے عدم دلچسپی اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی پر عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا خود ہی چندہ جمع کرنے شروع کردیا ہے تفصلات کے مطابق بلوچستان کے ضلع کوہلو میں 8 نومبر کو کوہلو کے نواحی علاقہ بوہڑی میں شادی کی تقریب میں ایل پی جی گیس سلنڈر پھٹنے کا واقع پیش آیا جس کے نتیجے میں 36 کم سن بچے زخمی ہوئے تھے ابتدائی طبی امداد کے بعد انہیں پنجاب ریفر کر دیا گیا پنجاب حکومت خاص کر وزیر اعلیٰ سردار عثمان بزدار نے محکمہ صحت پنجاب کو احکامات جاری کردیئے کہ بچوں کے علاج معالجے میں کوئی کمی نہ آئے تاہم بلوچستان حکومت کی جانب سے سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث بد قسمتی سے11 بچے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے حکومت بلوچستان کا اتنے بڑے سانحے میں صرف ٹیوٹر پر میسج کرنے سے کوہلو کے نوجوان مایوس ہو کر سوشل میڈیا اور گھر گھر جا کر بچوں کے علاج اور میتوں کو ایمبولنسوں کے ذریعے آبائی علاقوں میں پہنچانے اور صحتیاب بچوں کے لیے سواری کا بندوبست کرنے کیلئے متحرک ہوگئے ہیں جبکہ شنید میں آرہا ہے کہ گزشتہ روز بھی کئی گھنٹے تک صحتیاب بچوں کو رکھنی میں گھنٹوں انتظار کے بعد پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے اپنے آبائی گھر پہنچ گئے ہیں جہاں آپریشن اور تازہ زخموں کہ وجہ سے ایمبولنس نہ ہونے سے انہیں شدید اذیت سے گزارنا پڑا ہے یاد رہے کہ یہ واقع اس وقت پیش آیا جب شادی کی تقریب میں ایک ریڑھی پر سموسے خریدنے کیلئے بچے جمع تھے کہ غیر معیاری سلینڈر زور دار دھماکے سے پھٹ گیا جس سے 36 بچے زخمی ہوگئے تھے جن سے میں 11دم توڑ گئے ہیں جبکہ ہسپتال ذرائع کے مطابق اب تک 7 بچوں کی حالت تشویشناک ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں